بہار آمد ، نگار آمد

Submitted by Atif Aliem on Thu, 03/27/2008 - 07:56

وقت کی جو پوچھو تو اس کی سب سے خوبصورت ادا یہی ہے کہ یہ ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔اس کا یہی چلن ہے جس سے آس کا چراغ جلتارہتا ہے اور امید کی گود کبھی خالی نہیں ہوتی۔ ہم خزاں کے قیدیوں نے تو سمجھ رکھا تھا کہ شاید خزاں ہی اصل زندگی ہے ۔ہم نے تو جب بھی دیکھا صحن چمن کو اداس ہی دیکھا اور جب بھی پایا دست شجر کو سوالی ہی پایا لیکن طے پایاکہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔بعد از خرابی بسیار سہی ہمارے آنگن میں بھی بہار نے اپنا دامن پھیلا ہی دیا ۔ اس بہار کا ایک رنگ گذرے دن قومی اسمبلی میں کھلا جب ارکان کی بھاری تعداد نے ایک سابق قیدی یوسف رضا گیلانی کو اپنا قافلہ سالار بننے کا شرف عطا کیا اور دوسرا رنگ اسلام آباد کی ججز کالونی میں کھلا جب ایک چھ سالہ بچے کو مہینوں بعد اپنے گھر کے ٹیرس پر آکر انسانی شکلیں دیکھنا نصیب ہوا۔بہار کے ان دونوں رنگوں کی اصل ایک ہی ہے۔ان میں سے ایک رنگ اگر آئین کی حکمرانی کا مظہر ہے تو دوسرا رنگ قانون کی بالادستی کا اعلامیہ ہے۔

سیدیوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کا منصب جلیل سنبھالنے پر مبارکباد دینا واجب ہے ۔دوسری جانب ہمارے قیدی جج در قفس وا ہونے پر ہماری گرم جوش مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن بیم و رجا کے اس دوراہے پر میرے لئے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ان تمام بہادر لوگوں کو مبارکباد کا سندیس بھیجوں یا دعاؤں کا ہدیہ نظر گذار وں۔آج اور آنے والے کل کے حالات اس قدر سنگین ہیں کہ تمام تر خوش گمانیوں کے باوجود یہ دھڑکا بھی دل کے ساتھ لگا ہے کہ ہماری قومی زندگی میں بہار کی آمد نگار آمد اور قرار آمد کا عنوان ٹھہرتی ہے یا نہیں۔آج صبح میں ان سطور کے تحریر کرنے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔جب طویل انتظار کے بعد بھی موصوفہ کی آمد نہ ہوئی تو دیگر علاقوں میں بجلی کا احوال معلوم کرنا چاہا۔پتا چلا کہ دارالحکومت اسلام آباد اور اس کا جڑواں شہر راولپنڈی بجلی سے مکمل طور پر محروم ہے۔اس اثنا میں دوسرے شہروں سے کرم فرماؤں کے ٹیلیفون موصول ہونا شروع ہوئے۔میں نے بھی چاروں صوبوں میں ہر شناسا سے معلوم کیا۔انکشاف ہوا کہ پورے ملک کو کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اس وقت بجلی کی نعمت میسر ہو۔ دستور ہے کہ ایسے مواقع پر افواہ ساز فیکٹری اپنی پروڈکشن تیزکردیتی ہے سو نو ع بہ نوع افواہوں کا جو تانتا بندھا تو یوں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔روزنامہ ایکسپریس لاہور کے دفتر میں دوستوں سے افواہوں کی تصدیق چاہی تو صورت حال کی سنگینی کا انکشاف ہوا۔معلوم ہوا کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کی کئی دنوں سے ڈیڈ لیول پر پہنچ جانے والی اطلاعات جو خبروں کی گرم بازاری میں قرار واقعی توجہ حاصل کرنے سے محروم رہی تھیں ایک سنگلاخ حقیقت بن کر ہمارے سامنے آچکی ہیں۔یہی وہ دن ہے جب قوم کے شدید طور پر متفقہ وزیر اعظم نے اپنا حلف اٹھانا تھا۔ عین اسی روز اور انہی لمحوں میں بہار پر تاریکی کا سایہ پڑنا شاید کسی قسم کی ٹائمنگ کا کمال ہے یا واقعی ہماری معیشت کی گاڑی ہچکیاں لیتے لیتے اچانک رک گئی ہے۔افواہوں اور خدشات کے گھیرے میں آئی ہوئی قوم کا حق ہے کہ اسے اصل حقیقت کا ادراک ہو۔

ان حالات میں دعائیں تو خیر ہر دل میں مچل رہی ہیں لیکن آنے والے حالات کی کٹھنائیوں سے دل بھی دھڑک رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ایک خوش کن بات یہ بھی ہے کہ قوم کا ہر فرد سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ایک عظیم اکائی میں ڈھلتا جارہا ہے۔اس اکائی کا دل امید سے لبریز ہے اور اس میں مشکل تر حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی موجود ہے۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی طویل قید ختم ہوتے ہی ہر شخص خود کو آزاد اور با اختیار محسوس کرنے لگا ہے۔کم از کم میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھتے ہی دیکھتے لوکائی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل ہوتے پہلی بار دیکھا ہے اور یقینا ہمارے بزرگوں کے ذہنوں کے دور دراز گوشوں میں بھی ایک ہمہ گیر ذہنی تبدیلی کی ایسی کوئی یاد محفوظ نہیں ہوگی۔

قو م کے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا عمل جو گذشتہ برس نو مارچ کو رونما ہونا شروع ہوا تھا اور جس نے اٹھارہ فروری کے انتخابات میں اپنا واضح اظہار کردیا تھا۔ اس کی تکمیل نئی پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کی اولین ساعتوں میں ہوئی۔قوموں کی سیاسی اور سماجی حرکیات کو تبدیل کرنے میں افراد یقینا اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ محض آدھا پونا سچ ہے۔پورا سچ یہ ہے کہ تبدیلیوں کا عمل حالات کے جبر سے نمو پاتا ہے۔ہماری تاریخ میں نو مارچ کا روز سعید بادبانوں کے کھلنے کا اعلامیہ بنتا ہے۔ اقرار کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کو بہادری کی صرف اور صرف ایک مثال کی ضرورت تھی۔یہ محض اتفاق ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری بہادری کی اس داستان کا سرنامہ ٹھہرے۔اس کے بعد ہماری برفاب زندگیوں میں حرارت کی جتنی لہریں دوڑیں وہ اسی حرف انکار کا شاخسانہ تھیں۔ہمارے ہاں فوجی اور غیر فوجی آمریت کی طویل تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ہماری جینیات میں مفاہمت کا مادہ کچھ زیادہ ہی رہا ہے ۔نو مارچ کی اصل اہمیت ہی یہ ہے کہ اس روز حالات کے جبر نے ہمیں اپنے جذبہ مفاہمت پر غالب آنے پر مجبور کردیا تھا۔ہم بہادر نہیں تھے لیکن بہادری ہماری مجبوری بن چکی تھی۔یہ اسی خوبصورت مجبوری کا کمال ہے کہ صرف ایک سال کے اندر ہم نے ساری بساط الٹ کر رکھ دی۔وکلا کی عظیم الشان تحریک ہو یا میڈیا کا اپنی آزادی پر اصرار، یہ سب حالات کے جبر کا ہی منطقی نتیجہ ہے۔ہمارے اہل سیاست سے زیادہ مفاہمت پسند اور کون ہوگا لیکن جب پوری قوم نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا تو ان کیلئے بھی پچھلے دروازوں کی سیاست ناممکن ہوگئی۔ہماری غیر متنازعہ شہید بے نظیر بھٹو کا قتل ایسا واقعہ تھا جس کے بعد ہماری بڑی سیاسی پارٹیوں کے پاس جمہوریت پسندی کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔

اگر نواز شریف ایک بہادر آدمی اور بااصول سیاست دان کے طور پر سامنے آئے ہیں یا آصف زرداری نے ہر اندرونی اور بیرونی دباؤ کو مسترد کرنے کا حوصلہ پایا ہے تو اس کی وجہ وہی حالات کا جبر ہے جب ہم میں سے کسی ایک فرد کے پاس بھی بہادری سے زندگی کرنے کے سوا کوئی آپشن ہی نہیں بچا ہے۔

یہ طے ہے کہ پچھلا کیا دھرا ہمارے سامنے آکر رہے گا ۔یہ بھی طے ہے کہ ہمیں اگلے چند ماہ یا چند سال شدید کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کے ساتھ ہی خوش آئند بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو پوری قوم کا اعتماد اور ہلا شیری حاصل ہے ۔اس اعتماد کے پس منظر میں ان دونوں سالاروں کی اس مجبوری کا ادراک بھی کار فرما ہے کہ وہ چاہیں بھی تو اپنے ماضی میں واپس نہیں پلٹ سکتے۔جب حالات کی صورت یہ ہو تو امید کی جاسکتی ہے کہ کل کلاں کو ہم ایک نیا پاکستان بن کر ابھریں گے۔ایسا پاکستان جو بھلے فلاحی ریاست نہ ہو لیکن وہ اپنے باطن میں اتنا مضبوط ہوگا کہ اس پر کبھی خزاں کا سایہ نہیں پڑے گا۔

This is an Urdu article about new political conditions in Pakistan by Atif Aleem

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......