بگٹی مخمصہ اور ہمارے رویے

Submitted by RANA on Sat, 12/06/2008 - 10:44

بگٹی مخمصہ اور ہمارے روئیے!
یہ مضمون زیرِ قلم تھا تو ٹھیک طور معلوم ہوا گیا کہ ہر جریدے میں چھپنے کے لیے نہیں ہے۔ پہلے توقع نے ان لوگوں کا دامن پکڑا جنہیں اپنی صحافیانہ جرأتوں پر بڑا ناز ہے۔ سو یہ مضمون جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والوں کو بھیج دیا گیا۔ انہوں نے تحریر غیر محتاط قرار دے کر واپس بھیج دی ساتھ ہی فتوی بھی کہ نہیں چھپنی چاہیے۔ بہرے اونچی آواز میں بولتے ہیں ۔ ہر شخص اسی لہجے میں بات سمجھتا ہے جس کا وہ خود عادی ہوتا ہے۔ اکبر بگٹی ، اختر مینگل، با لاچ مری یا انہی کے سیاسی قبیل کے دوسرے چھوٹے بڑے سیاست گر جو کہہ گذریں اخبارات اسی سے لتھڑ جاتے ہیں ۔ انہیں سمجھانے کی کوشش غیر محتاط ہو جاتی ہے۔ مثال طور سردار صاحب نے کھلے طور پر پاکستان توڑنے والوں کو آواز دی ۔ اور یہ آواز حب وطن میں بھیگے جرائد میں چھپ گئی اس سے زیادہ غیر محتاط اور کیا ہو سکتا ہے۔ جب اس فعل کے اسماء اور صفات کی وضاحت کی گئی تو بات بات نا قابل اشاعت ہو گئی۔

ہر شخص اظہارِ رائے کے لیے آزاد ہے۔ دوسری طرف چھاپنے اور پڑھنے والوں کے بھی حقوق ہیں اور ہرچیز یقینا چھپنے کے لائق نہیں ہوتی۔ دوسری طرف ملک و ملت کے حوالے سے بہت کچھ اخبارات نے اپنی پیشانی پر سجایا ہوتا ہے، پیٹھ پر لادا ہوتا ہے جس کا چھپنا درست نہیں ہوتا۔ یہی ناجائز رعایت بہت سے ناقابل ذکر لوگوں کو اہم اور طاقتور بنا دیتی ہے۔ اخبارات کی ایسی ہی ترجیحات نے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیرو بنا رکھے ہیں جن کی اپنی گلی میں عزت نہیں۔ بہت سے ملک دشمن لوگ اخبارات کے اسی رویے کی وجہ سے اپنی دہشت بیچتے پھرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے خلاف لکھیں تو تحریر غیر محتاط ۔ اسی غیر محتاط روی نے بہت سےمظلوموں اور معصوموں کو بھٹکنے پر مجبور کیا۔ لیکن اُصول اپنی جگہ جما کھڑا ہے۔ اس کے محافظ چوکنے ہیں۔
بہر طور تشدد پسند اورغصہ ور لوگ دھیمے سروں اور ہلکی پھلکی موسیقی کو اہمیت نہیں دیتے ۔ دلیل کا جواب دلیل میں ہوتاہے اور لہجے کا جواب لہجے میں۔ اگر لہجے کا فرق سمجھا جا سکے تو اس تحریر میں کوئی ایک جملہ بھی بےمعنی نہیں۔

غیر محتاط اور نا قابلِ اشاعت ہونے کے دوسرے فتوے کے بعد اس تحریر کو انٹر نیٹ پر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب خود ہی اشاعت کا انتظام کرنا ہے تو پھر باقی ماندہ تیزابیت کیا بچا رکھنی وہ بھی تحریر میں ڈال دی گئی،اب خیال مکمل ہے۔ جب کندھا دوسروں کا تھا تو تلخی (اصل نام سچائی) اتنی نہ تھی جتنی اس نیٹ پر دئیے گئے مضمون میں ملے گی۔

بگٹی مخمصہ
ہم ہزاروں برس سے بلوچ ہیں چودہ سو سال سے مسلمان اور چند برس سے پاکستانی ہیں سردار صاحب کے ان کی وفات سے چند دن پہلے چھپنے والے الفاظ ہیں جو یقینا اور بہت سے بلوچوں کے دلوں میں اتر چکے ہوں گے۔ بات یقینا درست ہے۔نواب صاحب تو اگلے جہاں جاچکے ہیں۔ بہت لوگ اس جملے کے امین اور بھی موجود ہیں اس لیے وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان میں بسنے والوں میں کوئی بھی سو سال پہلے پاکستانی نہیں تھا۔ ان میں سے کوئی بھی دوہزار سال قبل مسلمان نہیں تھا۔ تمام لوگ اسی طرح اپنی اس سرزمین پر ہزاروں برس سے رہ رہے ہیں جس طرح بلوچ اپنی سرزمین پرہیں۔ اگر سردار موصوف میں یا غصہ ور بلوچوں میں کوئی رگ زیادہ ہوگئی ہو تو اس کا ہمیں علم نہیں ورنہ بلوچ باقی نسل انسانی سے بلند یا مختلف ہرگزنہیں ہیں اور نہ بلوچستان ہی باقی کرہ ارض سے بلند یا علیحدہ کوئی سرزمین ہے۔ اس لیے امید ہے کہ عمومی طور پر بلوچوں سے مخاطب ہونے میں کسی ابلاغی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا۔

انسانوں میں د وستی اور دشمنی، جرم اور سزا، ایثار و خلوص، وفاداری، دغا اور غداری کے کچھ ایسے پیمانے اور معیار پائے جاتے ہیں جو پوری نسل انسانی میں مشترک ہیں۔ کوئی فرد، گروہ یا نسل ان معیاروں سے برتر نہیں۔ بلوچ بھی نہیں۔ بلوچ سردار بھی نہیں، انہی پیمانوں کے تحت کرداری خصوصیات کے تعین میں کچھ افراد اور گروہوں کو ضدی، بے رحم، مفرور، سفاک اور قاتل قرار دیا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو عزت کا مستحق نہیں سمجھا جاتا ہے۔ خواہ وہ بلوچ ہی کیوں نہ ہوں، بلوچوں کے سردار ہی کیوں نہ ہوں۔

تاریخ انسانی کے سفاک ترین ایک اور قبائلی سردار ہلاکو خان کی طرح اکبر خان بگٹی نے بھی پہلا قتل بارہ برس کی عمر میں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹے کے قصاص میں سو انسان اپنے ہاتھ سے قتل کیے۔ ایف۔سی کے چودہ جوان شہید کرکے پاکستان کے ساتھ کھاتہ کھولا۔ اتنا بے پروا تھا کہ اسے مرنے والوں میں انتخاب کرنے کی فرصت بھی نہیں تھی۔ شارع عام پر اس کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگیں بارات اڑا دیں کوئی بات نہیں۔ بلوچ عوام ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر ملک دشمنوں سے رابطے میں آیا۔ کروڑوں کا اسلحہ لیا، فوج بنائی، اعلان کیا کہ جو پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے ان سے رابطے کرے۔ یعنی ملک توڑنے کی مزدوری کے لئے حاضر ہیں، ضرورت ہے ایک آجر کی۔ د شمن کی معاونت کے حق الخدمت میں اس کے عطا کردہ کروڑوں روپوں اور اسلحے کے زبردست ذخیرے کے ساتھ زندہ درگور ہوا۔ حوالہ کوئی بھی ہو انسانی، اخلاقی ،اصولی، قانونی یا بلوچی ہر معیار پر یہ کالے کرتوت ہیں اور ایسے کرداروں کو مجرم اور غدار ہی کہا جاتا ہے۔

سردار کی عظمت کے معترف اسے اُصول پسند لکھ رہے ہیں، ملک کا وفادار بتا رہے ہیں، اس کی حب الوطنی پر شہادتوں کی بھر مار ہے۔ ایچی سن کا پڑھا ہوا تھا۔ حزب اختلاف کے تمام رہنما ملک کی درد مندی کے مجروح اس غدار کی ہمدردی میں اپنے ضمیر ڈبو کر واویلا کررہے ہیں کہ ایک محب وطن مار دیا۔ اگر یہ اصول پسند تھا تو بے اصول کی تعریف کیا ہے؟ اگر یہ سردار محبِ الوطن تھا تو غدار کون ہوگا؟

ایچی سن کیا خانہ کعبہ کے ساتھ متصل ہے، کیا وہاں سے پڑھنے سے لوگ معصوم ہوجاتے ہیں؟ اگر وہ محب وطن تھا تو ان جوانوں کو منہ بھر کر غدارکہیےجن کےجسد خاکی جوسردار صاحب نے بھیجے گلگت شہر تک ہی نہیں اس سے آگے بھی گئے۔ سردار صاحب کی مظلومانہ موت کے دکھ میں ڈوبے قوم کے دردمند یہ بھی کہیں کہ اس نے کوئی پائپ کھمبا نہیں توڑا۔ دشمن سے اسلحہ نہیں لیا۔ فوج نہیں بنائی۔ ملک کو توڑنے کے لیے آجروں کی آسامیاں نشر نہیں کیں ۔اس نیک دل معصوم نے کسی کو اذیت نہیں دی۔وہ ایک ایسا قوم پرست تھا جو زندگی بھر بلوچ اتحاد کے لئے کام کرتا رہا۔وہ ایک ایسا محب وطن تھاکہ وطن پر جان نثار کرگیا۔ وہ معصوم جرمِ بے گناہی میں مارا گیا۔ آفرین!

سردار اکبر خان بگٹی کی مظلومانہ موت کے نوحہ گر صرف سیاستدان ہی نہیں اپنے صحافی بھی اس سانحہ ارتحال پرآٹھ آٹھ آنسو روتے پائے گئے۔ اسے قانون کے حوالے کیا جاتا، یہ کیا طریقہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ وہ کس قانون کا پابند تھا؟ کس اصول پر کاربند تھا؟ کس مذہب کا ماننے والا تھا، کس ملک کا شہری تھا؟

وہ مطلق العنان حکمران تھا، ملک اس کا اپنا تھا جس میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ جتنے انسان چاہتا ہلاک کرسکتا تھا۔ جتنے چاہتا بھگا سکتا تھا۔ اس کی سفاک زندگی کے سارے اصول ایک نہج پر تھے۔ تشدد، اسبتداد، ظلم اور مطلق العنان، اپنا قانون اپنی جیلیں، جسے زندگی کے تیرھویں برس سزائے موت ہوجانی چاھیے تھی وہ اَسی سال کی عمر تک انسانی خون کے چھینٹے اُڑاتا رہا، لاشیں گراتا رہا۔ اس کا وجود ایک مجسم جرم تھا اور اس کی زندگی ایک طویل جرمِ مسلسل تھی، جو کسی آئین، قانون یا مذہب کی پابند نہ تھی۔ وہ اتنا کمزور تھا کہ جن گیس پائپ لائنوں کا بھتہ لیتا، انہی لائنوں کو بارود بھی لگاتا۔ اسے کس قانون کی گرفت میں لایا جاسکتا تھا؟ ایک ظالم کے بھیانک انجام نے پورے ملک کو ایک کھلا ہوا پنڈورا باکس بنا دیا۔جس قانون کے تحت اس نےزندگی گزاری اسی قانون کی گرفت میں آیا۔ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہلاک نہیں کیا۔ اسی قانون کے کارندوں نے اس سردار کو ملک عدم کی راہ دکھائی جن کا وہ خود ایک پروردہ حکمران تھا۔ لیکن بلوچ وقاربدلہ لینے چلا ہے حکومت اور اکا دکا بیٹھے پنجابیوں سے۔ ۔۔

ایک ظالم کے بھیانک انجام نے پورے ملک کو ایک کھلا ہوا پنڈورا باکس بنا دیا۔ اس ناگوار واقعے کے آئینے میں دانشوروں، صحافیوں اور سیاستدانوں کا باطن کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی کمپنیوں نے جس مواد کا سیلاب اگلا وہ حیران کن ہے۔ غیر معقول کے اس طوفان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ اس رد عمل نے ہماری قومی نفسیات جس طرح اجاگر کی ہے اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ بہت شدت سے کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں ٹیلینٹ بہت ہے۔ یہ سارا ٹیلینٹ ہم دھوکے کی ٹٹیاں بنانے میں صرف کررہے ہیں، کاش کوئی خریدار بھی ہوتا۔ جہل، کذب ،دھوکے اور منافقت کی کھمبیاں اتنے دور تک اُ گی ہوئی ہیں کہ ان کے اوپر سے ایک چکر کاٹ لینا بھی ممکن نہیں۔ اس لئے نمونے کی ایک اینٹ سے عمارت کا اندازہ لگانا ہوگا۔ دنیائے صحافت کے گل سرِ سبد کی بات کرتے ہیں۔

قبائلی سردار کبھی ساری دنیا میں تھے اب افریقہ کے جنگلوں میں پائے جاتے ہیں یا سرزمینِ پاکستان پر اعلی تعلیم یافتہ اور برتر مخلوق کے طور پر حکمرانی کررہے ہیں۔ اپنے نظام کی آخری جنگ لڑنے والے ایک سردار نے اپنے دوامی دشمن اور قدرتی اتحادی سردار کی موت پر نوحہ پڑھنے میں ایک آواز لگائی کہ انہیں بنگال کا راستہ دکھا دیا جارہا ہے۔ سب سے دور دراز کی کوڑیاں لانے والےسب سے ہونہار صحافی نے اس طرحہ مصرعے پر پوری غزل لکھ ڈالی۔ اس غزل میں ایسے بہت سے سوالوں کے جواب رقم تھے جو ابھی پوچھے نہیں گئے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحافت کی صنعت میں ماضی قریب میں کئے جانے والے تھوک کےسودے میں کیا بیچا گیا اور کیا خریدا گیا۔ ملک کے سب سے زیادہ باخبر لوگوں میں نمایاں ترین نہیں معلوم کیا کھا گیا، جو اُگل رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ قائد اعظم کا استقبال کیا تھا!گوادر پاکستان میں شامل کرایا تھا! سابقہ گورنر تھا! وزیر اعلی رہا، ایچی سن کا پڑھا ہوا تھا، آکسفورڈ دیکھا ہوا تھا! بوڑھا مار دیا! پاکستانی مار ڈالا! کیا رائلٹی مانگنا جرم ہے؟ رائلٹی جو پچپن سال سے بڑھائی نہیں گئی!کیا واقعئی بوڑھا رائلٹی کی جنگ میں مارا گیا؟ کیا وہ پاکستان کے جہاد میں مارا گیا؟ کیا بوڑھے جرم کی اہلیت سے محروم ہوجاتے ہیں؟ وہ بندے مارتا نہیں کھاتا تھا۔ اپنے علاقے میں حکومت سمیت کسی کو گھسنے نہیں دیتا تھا۔ رائلٹی مانگے والوں میں وہ تھا کب؟ اس نے تو چھین رکھی تھی،جس پر اس کا کوئی حق نہ تھا۔ یہ رائلٹی حق تھا بلوچستان حکومت کا، عوام کا، یا آخری استحقاق میں بگٹی قبیلے کا اور حکومت پاکستان رقم اس کی جوتیوں میں رکھتی تھی۔ انتہائی طور پر باخبر صحافی پوچھتا ہے کیا رائلٹی مانگنا جرم ہےجو کبھی بڑھائی بھی نہیں گئی۔ ساٹھ کی دہائی میں یہ چھ کروڑ ہوتی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گذشتہ برس یہ گیس بھتہ پینتالیس کروڑ اوراس سال سڑسٹھ کروڑ دیے جانے تھے۔45اور 60میں کیا رشتہ ہے؟ 45سے 68زیادہ ہیں، 50 فی صد۔ اس نے ماشاء اللہ بغاوت بھی کر رکھی تھی، اندازہ ہے کہ اس کا احمقانہ ڈال کر حکومت سے اس برس دگنے مانگے ہوں گے۔ ڈیڑھ پر سودا ہوگیا۔ ادائیگی میں کوئی اور معاملات آگئے اور فساد بڑھ گیا۔ رہا قائداعظم اور گوادر اور گورنر کا معاملہ تو گزارش ہے کہ اگر جرم کی سزا میں ماضی بھی دیکھا جائے تو عزازیل کبھی شیطان نہ کہلاتا۔ اس سردار نے اپنے کئے پر خود مٹی ڈالی۔ جسے صحافی لوگ جھاڑ پھونک کر اس کی معصومیت چمکا رہے ہیں۔جو نہیں ہےدکھا کرجو ہے چھپا رہے ہیں تاکہ ظالم کی تصویر پرمظلومیت کا رنگ چوکھا آئے۔یہ حال ہے ہمارے عظیم خبردار، باخبر کی بے خبری کا جو مدعی بھی ہیں اور مصنف بھی۔ جبکہ ان کا مقام کوئی اور تھا، ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی۔

جن لوگوں کو بلوچوں سے واسطہ ہے وہ جانتے ہیں کہ تعلق اور وابستگی میں بلوچ ملک بھر میں مضبوط لوگ ہیں۔ دوستی اور تعلق کے حوالے سے بلوچ دوسرے لوگوں کی نسبت مشکل حالات میں بہتر طور پر کھڑا رہتا ہے۔ ساتھیوں پر مصیبت کے وقت انہیں ضروری کام یاد نہیں آتے۔ تقاضے اور مجبوریاں ان پر دباو نہیں ڈالتی۔ موقعے سے فرار ہونا بھی چاہیں تو کچھ مثالوں میں سنا ہے کہ اتنی دیر کردیتے ہیں کہ اس کی ضرورت ںہیں رہ جاتی۔ لیکن سردار صاحب کے مخمصے میں بلوچ کردار جھول دکھا رہا ہے جو خلاف عادت ہے۔ اس نے پاکستان کی سیاست ضرور کی لیکن اپنی شرائط پر بلوچ سردار کی قانون شکنی اور ظلم کے پورے نظام کے ساتھ پاکستان کے حکمران نے شرمناک مفاہمت اختیار کئےرکھی۔اس سردار کے جرائم اور ظلم کو روکنے کی کبھی جرات نہیں کی گئی۔اس لیے کہ اکیلا سردار یہ جرم نہیں کر رہا تھا۔بلوچستان میں ظلم کے نظام کا مضبوط ترین ستون تھااور تمام ظالم اس کے دوست یا دشمن اس نظام کی حفاظت میں اس کے ساتھ تھے۔ اتنا با اختیار ظالم اس دور میں شاید پوری دنیا میں کوئی اور نہ تھا۔ اس کے تمام جرائم کو حکومتِ پاکستان اپنی مجبوریوں کے تحت پوراتحفظ دیتی ، اور وہ جسے چاہتا قتل کرتا، بھگا دیتا، اس نے پچاس ہزار قبائلی بھگا دئیے۔ ان مہاجروں کو کسی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا۔ سرکاری مدد انہیں ملتی بھی تھی تو قوم کو نہیں معلوم۔ وہ انسانیت دشمن تھا۔اپنے وقت کا سب سے بڑا ظالم تھا۔ بندے اداروں میں بھرتی کراتا اور ان سے بھتہ لیتا۔ سرکاری ملازمین جن کا کوئی وجود نہ تھا جو اصولًا مقامی بلوچ ہونے چاہئیں تھے ان کی تنخواہیں وصول کیا کرتا۔ اس نے پاکستان کی سیاست ضرور کی لیکن صرف اپنے مفاد کے لیے۔ اسے ان دشمن سرداروں کو توازن فراہم کرنا تھا جو ملک دشمن سیاست کررہے تھے، شاید اس سردار کے مخالف ان سرداروں کی ملک دشمن سیاست کی وجہ بھی اس ظالم کی وطن دوستی میں چھپی تھی۔ سردار کا مفاد اسی پاکستانی سیاست میں تھا۔ ساری زندگی وہ بلوچ مارتا، بھگاتا رہا ۔ مرا دشمن کے لئے ،فائدے میں رہے سردار اور ہیرو بن گیا بلوچوں کا ۔ نوحہ گر ہیں ملک کے دانش گزیدہ محب وطن۔صحافی اور دانشور۔

ہماراقومی مزاج ابھی تشکیل کے مراحل میں ہے۔ اس لئے دیگر پاکستانیوں کی طرح بلوچ کی شخصیت بھی خانوں میں تقسیم ہے۔ اس میں وہ صلاحیت اوریک رنگی نہیں جو انسانی شرف کا معیار رہے۔ ایک انسانی قتل کو قرآن کیسے بیان کرتا ہے، ہر دوسرے مسلمان کی طرح بلوچ بھی جانتا ہے قانون اس کا اجر کیا دیتا ہے، ہر پاکستانی کے علم میں ہے۔ بلوچ خودجانتے ہیں کہ ان کے ہاں قتل کا کیا مفہوم ہے۔ جو کلپروں اور دوسرے قبائل کے ساتھ ہوا اس سے آنکھیں چرانا اور سردار صاحب کے پورے طرز زندگی کی ان دیکھی کرنا بلوچوں کے لئے کیوں ضروری ہے؟ اس اَن دیکھی سے بلوچوں کے وقار میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟ کیا اس بات پر یقین کر لیا جائے کہ بلوچ معاشرہ ظلم پرور ہے اور بلوچ صرف ظالم کو کرداری نمونے اور ہیرو کے طور پر قبول کرتے ہیں؟ کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ ظلم کے رشتے بلوچوں کے ہاں سماجی تصدیق اور قبولیت رکھتے ہیں؟

بلوچ اپنے کردار کی تمام تر پختگی کے ساتھ وہ کچھ دیکھنا نہیں چاہتے جو نظر آرہا ہے۔ جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کا وجود ہی نہیں۔ اکبر بگٹی جو بھی تھا اسے وہ نہ بنایا جائے جو وہ خود نہیں بنا۔ یا جس حیثیت سے وہ خود بہ قائمی ہوش و حواس انکار کر گیا۔ اس نے بلند آواز سے ملک توڑنے کے خواہشمندوں کو بلایا۔ ہر چیز ہر بات سامنے ہے کسی کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس سے ہمدردی کےمجبور اب خود کو دھوکہ نہ دیں۔ بہت سے لوگ اس لئے اس کے ہمدرد ہوگئے کہ وہ مر گیا ہے۔ یہ بھی مردانگی اور دلاوری کے خلاف ہے کہ موت کو درمیان میں رکھ کر پہلو بدلے جائیں اور موقف تبدیل کئے جائیں۔ سردار کے خود کردہ فیصلوں سے حاصل شدہ نتائج کے بعد بلوچ بھی اس کردار کے لیے توجیہہ تفسیر اور خلاف واقعہ باتوں سے کام لے رہے ہیں۔ اسے مختلف حوالوں سے کم اور زیادہ دکھایا جارہا ہے۔ باقی معاملات الگ رہنے دیں کم از کم بلوچ کردار سے یہ گری ہوئی بات ہے۔ جن پچاس ہزار کو گھروں سے بھگا دیا تھا کیا وہ پاکستانی نہیں تھے؟ مسلمان نہیں تھے؟ انسان نہیں تھے کیا وہ بلوچ بھی نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ بلوچ عزت کا بھوکا ہوتا ہے۔ اگر ہر قیمت پر عزت درکار ہو تو معلوم رہے کہ یہ بڑی ہی بے عزتی کی بات ہے۔ بلوچ وقار ایک اور بات بھول رہا ہے یقینا اس لیے کہ بلوچ معاشرہ ظلم کو ہضم کرچکا ہے۔ معلوم رہے کہ ظالم کے ظلم کی چکی جب تک چلتی رہے اور بات ہے، لیکن ظالم عزت دار ہوتا ہے نہ عزت کا مستحق اور وہ اپنا مقام حاصل کر کے رہتا ہے۔

ایچی سن اور آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے نواب صاحب شیکسپیر ئین ٹریجڈی کا شکار ہوئے۔ انسانی کردار کا یہ المیہ سب سے پہلے شیکسپیئر کے ڈراموں میں پایا گیا کہ ہر انسان کے کردار میں کوئی بنیادی کمزوری ہوتی ہے۔ زندگی، تجربے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ کمزوری بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک اسی کمزوری کے گڑھے میں گر کر بندہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ نواب صاحب نے شہزادگی کے دور ہی میں ہی ظلم کا آغاز کردیا تھا۔ دباو، دھونس، دہشت اور استبداد اس کا طریق کار ہی نہیں طریق زندگی بن گیا تھا۔ خطہ چھوٹا سہی زیرِ دست انسانوں کی تعداد کم سہی، تاتاریوں جیسے سفاک اس بلوچ سردار کے اختیارات کسی ظل الہٰی سے کم نہ تھے۔ مار دینا کوئی بات ہی نہ تھی۔ انسانی قتل اسے مزا دیتا تھا، ظلم اس کا مشغلہ تھا۔ مشہور ڈرامے وارث کے کردار چوہدری حشمت جیسے تو ا س کے سامنے پانی بھرتے تھے۔ ایسے نوابوں کی اولاد کسی نیک نامی میں نہیں مرا کرتی۔ کسی کی مجبوری نے بیٹا قتل کرادیا۔ جواب میں نواب صاحب نے انسان مرغابیوں کی طرح شکار کئے جن کا یقینا کوئی گناہ نہیں تھا۔ اپنا ہی آدھا قبیلہ بھگا دیا۔ دشمن زیادہ کرلئے دوست کم رہ گئے۔ حکومت کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھتے تھے۔ کچھی کینال کی صورت بلوچ عوام کو آزاد ہوتے دیکھا تو اونٹ پر بیٹھ کر دشمن کی پناہ میں چلے گئے۔ اپنی قبر خود کھود دی اور پھر اس میں جابراجے۔ بھٹو دور کی فوجی کاروائی بھی سرداروں کےخلاف تھی جو کھرے ظالم تھے اور صرف بندوق کی زبان جانتے تھے۔ بگٹی سمیت حکومت ناکام ہوئی کہ بلوچ متحد رہے تھے۔ اب عوام کی خوشحالی کی جلن میں بگٹی نے دوست اور دشمن بدل لئیے۔ بلکہ اسے بدلنے پڑے۔ اگر ماضی جیسی صورت ہوتی تو بگٹیوں کے کتوں کو بھی اس موت کا ڈر نہ ہوتا جو سردار نے خود منتخب کی۔ ظلم اتنا بڑھا کہ اسے مٹنا پڑا۔

بلوچ سرداروں کے لئے مشکل کچھی کینال نے پیدا کی۔ مکمل ہونے پر یہ نہر چار اضلاع نصیرآباد، بولان، ڈیرہ بگٹی، اور جھل مگسی میں سات لاکھ تیرہ ہزار ایکڑ رقبہ آباد کرے گی۔ مگرمچھوں اور سرداروں کے پیٹ بہت بڑے ہوتے ہیں۔ پھر بھی رقبہ اتنا ہے کہ مگر مچھ سرداروں کے پیٹ بھر کر عوام کو خوشحالی کے ساتھ ذہنی اور سیاسی آزادی دے گا۔ اسی خوف نے سرداروں کے پیٹ میں غداری کے مروڑ پیدا کئے۔

جو سردار کے ساتھ ہوا اس کا اپنا انتخاب تھا۔ سب سے مشکل سفر اونٹ سواری کا ہے۔ سردار صاحب بیمار ٹانگ کے ساتھ علامتی سواری پر بیٹھ کر اپنے انجام کے لئے چلے گئے، اس لئے کہ ان پر شیکسپئرین ٹریجڈی کے اصول کی گرفت تھی جو انہیں زندہ درگور ہونے کے لئے لے گئ۔ اگر اس سردار کو عزت اور زندگی دونون درکار ہوتے تو اسلام آباد آتا حاکمیت اعلٰی اس کے استقبال کو موجود ہوتی۔ طاقت کے حقیقی مرکز جی۔ایچ۔کیو۔ جاتا تو تین جنرل اس کا استقبال کرتے۔ اس نے تمام تر زندگی ایک ظالم اوردہشت ناک سردار کے طور پر گزاری اور اس زندگی کا یہ انجام اس کا مقدر تھا۔ اس نے اپنے نظام کی موت بھانپ لی تھی۔ اسے بچانے کے لئے اس نے وہ کچھ کیا جو وہ کرسکتا تھا۔ اس نے بلوچستان کو پاکستان سے اور پاکستان کو بلوچستان سے خارج کردیا تھا۔ اور انتخاب کے باقی تمام راستے بند کرکے وہ تمام وسائل مہیا کئے جو دشمن اسے فراہم کرسکتا تھا۔ تمام ممکن انسانی وسائل مجتمع کئے۔ سدا کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد کرکے ایک نظام بنایا جو اس کی ریاست کو دوسرے معانی دیتا تھا۔ یہ سب کچھ اس کے طرز حیات کی مجبوری تھی، لازمی نتیجہ تھا۔ملک توڑنے کا یہ انتظام خود نابود ہونے کو تھا کہ مقابل سرداروں نے اسی پر الٹ کر اس کی قبر بنائی اور قبر پر اس کی عظمت کا جھنڈالہرا کر اسلام آباد کی طرف منہ کرکے ڈھاکہ کا راستہ بتانے کا طعنہ دینے لگے۔ مفکرین پاکستان اپنی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا طریقہ ہے؟ اسے قانون کے حوالے کیوں نہیں کیا؟

جیسے بچوں کی روایتی کہانیوں میں شیر کے ساتھ گیدڑ اور لومڑی کا کردار آتا ہے۔ اسی طرح ظلم کے کچھ لازمی اتحادی ہیں۔ ان میں سے ایک مکاری ہے۔ یہ ظالم کی مکاری کا شاخسانہ ہے کہ مریوں اور مینگلوں کے چھکے ہی نہیں لگے دو چھکے پانچ ہو گئے۔ ظلم کی بساط پر مکر کے شاطر اس طرح کی چالیں ہمیشہ سے چلتے آئے ہیں۔ سرکوب دشمن کیا مرا، مرتے ہی سانپ سونے کا ہو گیا۔ زندہ تھا تو کور دبتی تھی۔ زندہ درگور ہوا تو اس کی قبر پر بلوچوں کے نام پر سرداری مقاصد کے ہیرو بنے پھرتے ہیں۔ اب جرگے فرما رہے ہیں ، بڑھکیں لگ رہی ۔ یہ خبر بھی ظلم و مکر کی مہارتوں کے حوالے سے صداقت کے بہت زیادہ قریب ہےکہ کسی دستِ غیب نے متحارب دشمنوں(سردار اور فوجی افسروں) کو ایک ہی قبر میں سلا دیا ۔اب شہادت کا پرچم تھامیں فوج کو للکار رہے ہیں۔ بلوچ قوم پرستوں نے سیاست کا کھیل جن اُصولوں پر روا رکھا ہے وہی اُصول جب ان دھاوا بولتے ہیں تو پھر انہیں چیخنا نہیں چاہیے۔

ظالم جتنا بھی بہادر ہو وہ مکارضرور ہوتا ہے۔ مکاری ظلم کی ضرورت ہے۔ اس کی مکاری کے پھریروں کو محب وطں لوگوں نے بھی بانس فراہم کئے۔ کس اندوہ بھری مظلومیت کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ "ہماری گیس کراچی سے پنڈی تک چولہوں میں جل رہی ہے۔ ہمارا کولہو اور سوئی اس گیس سے محروم ہیں دیکھو یہ ہے پاکستان کا حقوق دینا۔ اس لئے استحصال کے خلاف ہم سینہ تانے کھڑے ہیں۔اس عنوان پر اپنی صحافت میں بہت رباعیاں اور دوہے لکھے جاتے رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب کون دے گا کہ جو سردار ہزاروں بھگا دے، سینکڑوں مار دے اور حکومت کا ٹینٹوا دبا کر پینتالیس کروڑ ان پائپوں کی کارکردگی کا معاوضہ لے جنہیں خود ہر روز بارود لگاتا ہو۔ اور اپنے محکوموں کو بے آب و گیاہ چٹیل زمینوں پر بھیڑ بکریاں چرانے کے لئے چھوڑ دے۔ اور وہ رعیت پیٹ بھرنے کے لئے دوسرے صوبوں میں مزدوریاں کرتی پھرے۔ کتنی مجبوری ہوگی ان بگٹیوں کی جنہیں اکبر بگٹی جیسے نیک نام سردار کا بیٹا مارنا پڑا۔ اس بیٹے کے قصاصی میں سو مار دئیے۔ بچوں کو اسکول بھیجنے کے جرم میں چھبیس بھون ڈالے، اور ان کارناموں پر کہیں پرچہ تک درج نہ ہو۔ وہ سردار اپنی رائلٹی کے کنووں سے گز بھر فاصلے پر بیٹھا ہو، کیا سردار اتنا بے کس کہ گیس کا کنکشن نہ لے سکے۔ کیا یہ قابل یقین ہے کہ سردار اکبر خان بگٹی کے التجا ئیں کر نے کے باوجود ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کو گیس فراہم نہیں کی گئی۔ گیس نہ ملنے کی واحد وجہ پر غور فرمائیے اور بلوچ احساس محرومی کا واویلاسنیےکہ پنڈی کے چولہوں میں جلنے والی گیس سے وہ محروم ہیں۔نواب اکبر خان کی تو یہ توہین ہ ےکہ اس کی رعیت یا دشمن کے چولہے میں گیس جلے ۔ گلہ اس سے نہیں کمزور اسامی حکومت ہے ۔احساس محرومی کے مارے اسے منہ چڑا رہے ہیں کہ ہمیں گیس نہیں ملی اور اس نہ ملنے کو اپنے احساس محرومی کے کھاتے میں اوپر رکھا ہوا ہے۔کیا یہ ممکن تھا کہ سردار تربت میں گیس پہنچانے کا حکم دیتا اور کمپنی کے پائپ گوادر تک پہنچ کر ختم ہوجاتے؟ احساس محرومی میں غرق بلوچ سردار اس دلیل کی بنیاد پر ہمیشہ پاکستان کا استحصال ہونا ثابت کرتے رہےہیں۔ کہ دیکھو جی ہم اپنی گیس سے محروم ہیں۔ عجیب بات کہ مقامی دوست دشمن سب اس نعرے میں ہم آواز ہیں۔ کوہلو والوں ہی نے کبھی بتایا ہوتا کہ کس معذوری کا شکار ہوکر وہ سوئی کی گیس جلانے سے محروم ہیں؟ ظالم بے بنیاد نعروں پر متحد ہیں دوسری طرف حب وطن کے مارے انسا نیت کے درد میں بھیگے دانشور اور سیاست دان ان کی مظلومیت کا ماتم فر ماتے پھر رہے ہیں۔ حقائق نہ دیکھنا ان لوگوں کی پیشہ ورانہ مجبوری ہے۔

یہا ں کہ بلوچ محرومیوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ بلوچ رعیت زندگی کی تمام نعمتوں، آزادی اور انسانی شرف سے محروم ہے۔ ماضی قریب کی بات ہے کہ سردار صاحب کی عمل داری میں ایک مسجد میں تبلیغ پر آئے ایک مقرر نے توحید پر بات کی۔ اسے سننے کے بعد ایک بوڑھا بگٹی گویا ہو ا "" یہ خدا کو اتنا اونچا اُٹھا رہا ہے۔ خدا ہمارے سردار سے تگڑا ہے کیا"" یہ ناقابل ذکر عمل داریوں کے خدا، درجہ سوم کے یہ فرعون احساس محرومی کے صحراوں میں بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔ العطش العطش پکار رہے ہیں۔

بہت ضروری ہے کہ یہاں محرومی اور احساس محرومی میں فرق کیا جائے۔ جنہیں سرداروں کی مکار منطق نے ایک دکھا رکھا ہے۔ احساس محرومی شاہی عارضہ ہے۔بلوچوں کی قبائلی تقسیم کو ایک اور طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف بلوچ عوام کے قبائل ہیں دوسری طرف سرداروں کا قبیلہ ، استبداد کا قبیلہ۔ احساس محرومی اس قبیلے کی خاص بیماری ہے ۔ایک ایسا مرض مبارک جو صرف سرداروں کو لاحق ہو سکتا ہے۔ اقتدار میں ہوں تب بھی احساس محرومی کا مرض مبارک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ محرومیاں بلوچ معاشرے کانا سورہیں جن سے سرداروں کا تعلق بس اتنا ہے کہ وہ ان کے لئے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں جنہوں نے بلوچ عوام کو زندگی کے لطف سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اور یہ محرومیاں بانٹنے والے سخی سردار عوام کی محرومیوں کا ڈھول گلے میں ڈال کر اس کی تھاپ پر اپنے احساس محرومی کے نوحے الاپتے پھرتے ہیں۔دکھ اس بات کا ہے کہ بلوچ عوام ہی اپنے ظالموں کے دفاع میں جانیں گنوا کر ان کے ظلم کے شہید بنتے اور ظالم کو اس کی کارکردگی کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ سردار روتے ہیں اپنے احساس محرومی کو جب کہ عوام کی محرومیوں کے چوکنے پہرے دار ہیں ۔ بھٹو نے عوام کی حقیقی محرومیاں دور کرنے کی کوشش کی تو سرداروں نے مشتعل ہو کر اپنے عوام کو اپنی مفادات کے خلاف اسلحہ دے کر بغاوت کے پہاڑ پر چڑھا دیاتھا۔

سرداروں کی اسی مکار منطق نے بلوچستان میں محرومی اور احساس محرومی کا فرق چھپانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ بلوچ عوام حقیقی طور پر بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ اسکول اور ہسپتال جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم لوگ اپنے منہ میں سوئی زبان تک کو بھول چکے ہیں۔ قوت گویائی کی محرومی نے سماعت تک ختم کردی ہے۔ وہ مرتبہ انسانیت سے بہت نیچے گرادئیے گئے ہیں۔ ان محروموں کے دن باقی دنیا کی رات سے زیادہ تاریک ہیں۔ ملک میں جمہوریت چلے، فوج آئے، ترقی ہو، کرپشن بڑھے، صنعت لگے، سرمائے ڈوبیں، بلوچ اکثریت کے لئے ان کی کوئی معنی نہیں۔ اسی بار کھان خطے میں جہاں 80 برس قبل نواب اکبر بگٹی نے جنم لیا تھا آج بھی صورت یہ ہے کہ عوام کو کوئی ڈاکٹر، حکیم، نیم حکیم، یا عطائی علاج کے لئے وہاں پوری وادی میں دستیاب نہیں ہے۔ وہاں تمام امراض کا ایک ہی علاج ہے (یہ بات دو سال پہلے کیلئے درست ہے، بعد کیلئے ہوگی!) مریض کو بانسری سنائی جاتی ہے۔ کیا ستم ہے کہ ان عوام کو زندگی کی روشنی اور خوشبو سے محروم رکھنے والے ایچی سن، آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ سردار خود ہولناک احساس محرومی سے بلبلاتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں پر ہر وقت احساس محرومی کے پھپھوے اُبھرتے،بھرتے، پھوٹتے رہتے ہیں۔ اب ان سرداروں کے دلوں میں احساس محرومی کے سیلاب کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر نکل گئی ہے۔ تھوڑے سے دنوں میں ساری رقابتیں اور محرومیاں بھول کر ماشائ اللہ جرگے کرنے لگے ہیں۔ مکر اور ظلم کے اس اجتماع سے بڑا حقیقی دشمن بلوچ عوام نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ اندھیرا مکمل ہے لیکن کہیں روشنی کی کرن بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اندھیرے میں بلوچ عوام کی آنکھیں کھلی ہیں یا بند؟ وہ اپنا فیصلہ خود کرسکیں گے یا کیا کرایا فیصلہ سابقہ بھاؤ پر روایتی بیوپاریوں سے خریدیں گے؟ سردست حالات کچھ زیادہ اُمید پرور نہیں ہیں۔ جو رعیت اپنے سرداروں کو کروڑوں میں اور کتوں کے ساتھ کھیلتا چھوڑ کر خود روٹی کمانے دور دراز جاتی ہے سردار کی موت پر اسی کی غیرت کو ابال آیا ہوا ہے۔

سرداروں کے جرگے کسی کے غم میں نہیں اپنے نظام کی فکر میں ہیں۔ جو کچھ ہوا وقت کے بہاؤمیں اس کی منطق موجود ہے۔ سرداری نظام کی ریڑھ کی ہڈی پر پڑ گئی چوٹ حادثاتی معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ حادثہ نہیں بھی تو حادثات کے تسلسل کا انجام ضرور ہے۔ سرداروں کا اکٹھا ہونا جرگہ نہیں بلکہ ریڑھ کی چوٹ سے نظام اس طرح اکٹھا ہوگیا ہے جیسے ایک اچھی چوٹ سانپ کے سارے جسم کو اکٹھا کر دیتی ہے۔ یہ حادثہ تھا یا نہیں اس پر ملک بھر سے مار دیا مار دیا کا جو واویلا اُٹھا وہ غیر محدود طور پر غلط تھا اور اپنے اقدام میں حکومت غلط نہیں تھی۔ مشکل یہ آن پڑی کہ حکومت اور اس کی آئی ایس پی آر ہر دوبگٹی کے منہدم غار میں پھنس گئی تھیں۔ نکلنے کا راستہ ملتے دیر ہوگئی، ملک کے بے مغز درد مندوں نے سچ کو جھوٹ بنا دیا، کہانی افسانہ ہوگئی، افواہ خبر بن گئی۔ اور حقیقت بگٹی صاحب سے بھی زیادہ گہرائی میں دفن ہو گئی۔ جس وژن کے ڈھول پیٹے جاتے تھے ہرن ہوگیا۔ جب آپ نے کام ایک سیکھ رکھا ہو اور ماہرانہ انداز میں کرنے دوسرا چل د یں تو ایسا ہوجاتا ہے۔ شیر گھاس کھا جائیں تو اس طرح ہوجاتا ہے۔ اپنے ہاں تو شیروں کے گھاس کھانے کی تاریخ ہے۔ اس لئے اپنی تاریخ میں بہت سے نوادرات جمع ہوگئے ہیں۔ اگر پاک فوج میں سیکھنے کی اہلیت ہوتی تو مارشل لائ ایک ہی بہت تھا۔ فوجی نقشے بچھا کر سیاست کرنا ایسے ہی ہے جیسے فٹ بال کے میدان میں چھکے مارے جائیں۔ فوجی نقشوں پر سیاست ہوگی تو مسائل کا حل فوجی ہی نکلے گا۔ ہر سوال کا جواب فوجی ہوگا۔ مسئلہ تعلیم کا ہو، سیاست یا معشیت کا، جب اسے فوج حل کرے گی تو اسے جو بھی رنگ دے خشک ہو کر وہ خاکی ہوجائے گا۔ فوج کو اس صورت میں اپنا ہی ملک بار بار فتح کرنا پڑے گا۔ اپنی ہی وادیاں بار بار روندنی پڑیں گی، اپنے بھائیوں کے سینے آئے روز چھلنی کرنےہوں گے۔ اگر سیاسی فیصلے سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہوتے تو وہ اپنے طور پر اس مسئلے سے نپٹ لیتے۔ نہ نپٹ سکتے تو فوج گرجتے شیر کی طرح آتی اور سانپوں کے ساتھ سنپولئے بھی مار ڈالتی۔ اب آپ موذی مار کر احساس گناہ سے لدے چھپے پھرتے ہیں۔ اگر سیاسی فیصلے نہ کئے ہوتے اور صرف اپنا پیشہ ورانہ کام کیا ہوتا تو جرنیلوں کی بڑھک دیکھنے کی چیز ہوتی۔ اب سردار بڑھکیں مار رہے ہیں اور حضور والا اپنے جرگے کے لئے سرداروں کو اسلام آباد بلا رہے ہیں۔

جب شیر گھاس چرنے لگیں تو چرند پرند کے لئے کیا بچے گا؟ اپنے سیاستدانوں، صحافیوں اور دانشوروں کے چرنے کو گھاس بھی نہیں۔ ذرا ان کی منطق دیکھئے ملک کی تاریخ کا سفاک ترین سردار پاکستان توڑنے کے خواہشمندوں کو پکارتا پھرے۔ ان سے اسلحہ لے اور فوج بنائے۔ تنصیبات تباہ کرے اور فوج سے ٹکرائے۔ ، اس کی خدمات، تعلیم، بڑھاپے اور حب الوطنی کے حوالوں سے ماتم کرنا، گھاس چرنے سے آگے کی باتیں ہیں۔ یہ دانشور اور سیاستدان وہ لوگ ہیں، جن کی دانش، فراست، اور حب الوطنی کی ریشمی گانٹھوں میں عوام کی اُمنگیں اور اُمیدیں بندھی ہیں جو غیر اعلانیہ مارشل لائ اُٹھ جانے کے بعد جاگیں گی، یہ لوگ ہمارا مستقبل ہیں، مستقبل کے راہ دان ہیں۔ ان قومی رہنماوں اور دانشوروں میں حق و باطل کی تمیز کی اہلیت ہی ختم ہے۔ سچ اور جھوٹ کے معیار غائب ہیں۔ حکومت کا طریقہ کار غلط کہنے کی گنجائش ہے۔ اکبر بگٹی کا موقف اور عمل کیوں درست تھا؟ جس تھوک بھاؤسے ان رائے عامہ کے رہنماوں نے کور بصری کا ثبوت دیا ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں کوئی معیار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ جب حالات یہ ہیں تو صبح اُمید اگر ان کی رہنمائی میں طلوع ہوتی ہے تو وہ شب تار سے زیادہ تاریک ہوگی۔

اگر ایسا نہیں ہے اور حکمت عملی کی تہہ داری میں یہ بیانات تجزیے کی مینہ کاری اور پرہجوم غائبانہ جنازے محض سیاسی گری ہیں اور یہ دانش آرائی جو بگٹی سردار کے سانحہ ارتحال پر پھول برسارہی ہے دھوکے کی ٹٹی اور مرغان باد نما کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ ہے تو صورت حال خود ان لوگوں کے لیے زیادہ دگرگوں ہے۔ اس صورت میں یہ نوحہ گر برگدا اور مدار کی لکڑی ایسا مزاج اور کردار رکھتے ہیں جو کسی کام آتی ہے نہ جلتی ہے۔ انہیں گھن کھا چکا اور مستقبل قریب میں یہ گھن گندم کی طرح پسیں گے۔ سیاسی قیادت اور دانشوروں کا یہ نامزد ریوڑ چوبیس قیراط منافقوں پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ صرف حال میں زندگی گزارنے والی مخلوقات کی طرح ہیں۔ ان کی دانش تجزیہ کاری اور بصیرت صرف ان لمحات کے لیے ہے جن میں ان کے دماغ رد عمل کی ضرورت کے تحت چمک پیدا کرتےہیں ورنہ بد رنگ پتھروں کی صورت جہاں تہاں پڑے رہتےہیں۔

بزعم خود ملک کو سیاسی اور ذہنی قیادت کی ذامہ داری سے لدے یہ متفنی وہ لوگ ہیں جن کا کوئی ماضی ہے نہ مستقبل، لیکن عوام کے ذہنوں پر پنجے گاڑے بیٹھے ہیں۔ اس لیے ان کی ذہنیت اور نفسیات کا تجزیہ ضروری ہے۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ بلوچوں سے آخری بات کہہ لی جائے۔ ظالم کی سیاسی منطق بھی ظالمانہ ہوتی ہے۔ ملک میں جمہوریت آئین اور قانون نام کی چیزیں کسی نہ کسی طور پر زندہ ہیں اور کبھی کبھار ان کی چہرہ نمائی ہو جاتی ہے۔ لیکن بلوچ سرداران تمام کھکھیڑوں سے آزاد اپنے اپنے ڈیزائن کے فرعون ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچ عزت کا بھوکا ہوتا ہے۔ دیکھا جائے کہ سردار نما درجہ سوم کے یہ فرعون اپنی بلوچ رعیت کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دیکھنے کی چیز سرداروں کا احساس محرومی ہے۔ جس کے گھاؤجھیلوں جیسے ہیں۔ لیکن کمال کا دیکھنا ہمارے ان دانشوروں، صحافیوں اور سیاست دانوں کا ہے جوظالموں کے ڈھول کی تاپ پر بریک ڈانس میں تھرک رہے ہیں۔ کہ ان کے جسموں پر راتوں رات بگٹی ہمدردی کے مفلی پھوڑے نکل آتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اپنے انجام کو پہنچےسردار پر ماتم کرنے والے یہ لوگ ذرا سر اونچا کرکے احساس محرومی کے مارے سرداروں کو بروقت اپنے چہرے دکھاتے کہ وہ بھی اندوہ بگٹی کا دارو پی کر بہکے ہوتے ہیں۔ شاید اس سے قومی املاک اور بلوچستان میں بسنے والے پنجابیوں کا نقصان کچھ کم ہوسکتا۔ اگر ایسا ہو سکتا تو اس تحریر کے دانشوروں کےحق میں لکھے گئے مندرجات کبھی سوچے ہی نہ جا سکتے ۔ یہ اپنے دانشوروں اور سیاست دانوں کے ذہنی افلاس اور اخلاقی نامردی کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ماتم اس کا ہے جو نقصان نہیں جبکہ حقیقی نقصان جو ؑیر متعلق لوگوں کی ہلاکت اور املوک کی لامتناہی سے ہوا۔ ان کے ہاں بہت کم قابل ذکر ہے۔

بلوچستان میں کئی شناختوں کے لوگ بستے ہیں جن میں سے ملک باہر کے لوگ بھی ہیں۔ کبھی کسی کے کانٹا نہیں چبھتا۔ کسی سردار کو چھینک آجائے تو نقصان ہوتا ہے سرکاری املاک اور پنجابیوں کا، اس بار حالات زیادہ اذیت دہ ہیں۔ پنجابیوں کی جو ہلاکتیں ہوئیں ان کی املاک کا جونقصان اب تک ہوا ہے بلوچوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ اس پر پنجاب کیوں خاموش رہا۔ امکان ہے کہ اس صبر پر بلوچ پنجاب کو بزدل کہیں گے۔ (پنجاب کے عزت داروں کا بگٹی غم یہاں سمجھ آتا ہے)۔ کمزور اور بے سہارا لوگوں پر ہاتھ اُٹھانا بلوچوں کی روایت میں وقار اور بہادری میں شمار ہوتا ہے۔ثبوت سرداروں کی زندگی! شاید اسی لئے وہاں سب سے زیادہ ظالم سردار سب سے زیادہ اہم اور باعزت پائے گئے ہیں۔ شاید اسی لئے وہاں ظالم ہیرو اور بڑے ظالم بڑے ہیرو ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ظالم کی موت وہاں ہیرو کی موت ہے۔

لیکن دکھ سے لکھنا پڑتا ہے کہ پنجاب میں عزت اور وقار کے بلوچستان جیسے معیار نہیں پائے جاتے۔ وہاں عزت دار لوگ مجبور کی چادر سے پگڑی نہیں بناتے۔ پنجاب کا جنوب مغرب بلوچستان کی توسیع ہے اور دوسری طرف پنجاب میں قانون کی گرفت کے باعث یہ علاقہ خالص قبائلی مزاج نہیں رکھتا۔ اس لئے یہاں کی سرداری قدرے کم زہریلی ہے۔ یوں جنوبی پنجاب کے بلوچ قبائل بلوچستان کے عمومی مزاج سے ذرا مختلف ہیں۔ اس کےعلاوہ بھی پنجاب کی سرزمین الگ تھلگ بلوچ جزیرے جہاں تہاں پائے جاتے ہیں جو نامعلوم وقتوں سے اس سرزمین پر موجود ہونے کے باعث دھرتی کے مزاج میں ڈھل کر پنجابی صورت اختیار کرگئے ہیں، انہیں بھی الگ رکھئے۔ میر چاکر خان کو بلوچستان چھوڑنا پڑا تو اس جلاوطن سردار کو پنجاب کے قلب میں اوکاڑہ کے نواح میں پناہ ملی۔ وہیں فوت ہوئے۔ ان کے ساتھ قبیلے کے لوگ بھی تھے۔ سردار کی قبر تواکادُکا بلوچ سرداروں کو یاد ہوسکتی ہے۔ لیکن مہاجرت اختیار کردہ ان بلوچوں کو بلوچستان پوری طرح بھول چکا ہے جو اوکاڑہ کے نواح میں کئی دیہات میں آباد ہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اپنا بلوچ ہونا نہیں بھلا یا۔ ابھی تک اپنے پہناوے، زبان اور ثقافت کے ساتھ رہ رہے ہیں، ان کی بلوچ شناخت زندہ ہے۔ میر چاکر خان سے اکبر بگٹی اور اختر مینگل تک کوئی بتائے کہ اس سرزمین پر بلوچ ہونا ان لوگوں کے لیے کبھی گالی ہوا ہو۔ اس پورے دورانیے میں بلوچ حیثیت میں ان کے کانٹا تک چبھا ہو؟ پھر یہی نہیں کہ یہ صرف پنجابی ہے جو نوآباد کار کے طور پر بلوچستان میں اِدھر اُدھر بکھر رہا ہے۔ بلوچستان سے آ کر پنجاب میں بکھرے بلوچوں کی تعداد ان پنجابیوں سے کہیں زیادہ ہے جو صرف بلوچستان میں آباد ہوئے۔ کبھی سنا کسی سردار صاحب نے کہ پنجاب سے آکر کسی بلوچ نے ان سے کہا ہو کہ اس اکیلے بلوچ کے ساتھ پنجاب نےکمینگی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ہے؟ پاکستانیت کے سارے جرمانے پنجاب پر۔ دوسری طرف بلوچ کمینہ ہوتا ہے نہ ظالم ، نہتے اور اکا دکا بیٹھے لوگوں کو گولیوں سے بھونتا پھرےپھر بھی بلوچ وقار ہی ہو تا ہے۔ان حرکتوں سے شاید اس کی عزت میں اضافہ ہوتا ہو۔ تفو بر اے چرخِ دوراں تفو۔

ایک فرق اور ایک وضاحت! فرق صرف اتنا کہ ہر نسل اور ہر گروہ کے ہاں کرداری خصوصیات کی ایک مختلف فہرست ہوتی ہے۔ جہاں پٹھان بہترین ہے وہاں شاید سندھی بہترین نہ ہو۔ جہاں سندھی بہترین ہے وہاں شایدبلوچ بہترین نہ ہو۔ بہترین کاکردگی کا میدان کسی گروہ یا نسل کا اپنا انتخاب نہیں۔ یہ تاریخ اور سماجیات کے بہاؤ ہیں جو کسی نسل کا خصوصی کردار تشکیل کرتے ہیں۔ بلوچ اپنے افتخار کی پگڑی جتنی اونچی چاہیں اُچھالیں پنجابی خود بینی کے آئینے کے سامنے یہ کہنے کے عادی نہیں کہ ہم کتنے شاندار ہیں۔ سخن گستری سے مطلع کی طرف آتے ہیں فخر دمباہات کےلئے چیلینج نہیں کیا جا رہا۔ اپنی اداؤں پرغور کرنے کی درخواست ہے۔ وضاحت یہ کہ اس تحریر کے مخاطب سارے بلوچ نہیں۔ کوئٹہ، خضدار، مستونگ اور ایسے ہی دوسرے اضلاع کے بہادر اور غیرت مند بلوچ جان رکھیں کہ پنجاب میں عزت، بہادری اور غیرت کے وہ معیار نہیں ہیں جو آپ کے ہاں پائے جاتے ہیں۔ کمزوروں کی اکا دکا جھونپڑیاں جلانے کو پنجاب میں بھی دستیاب ہیں جن کے جلنے کی آنچ، بلوچ کا دل جلائے گی۔ بہادر بلوچوں کے کھدیڑے پنجابیوں کو پنجاب ہی نے وصول کیا ہےجس نے اس سے قبل سرداروں کےکھدیڑے بلوچوں کو وصول کیا تھا ۔ پھر بھی پنجاب میں ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ کوئی بلوچ روتے ہوئے پرانے دیس کو یاد کریں۔ جہاں اور بہت سے کرداری اوصاف کی وجہ سے بلوچ عزت اور وقار سے مالا مال ہیں وہاں اکا دکا پنجابیوں کو اجاڑنے کی جرأت پر بھی بلوچ عظمت کو سلام پہنچے۔ سرکاری املاک جن پر سوائے بلوچوں کے کسی اور کا تسلط نہیں، جلانے پر بھی بلوچ بہادروں کی عظمت کو سات فرشی سلام ۔

ایک شک ہے کہ اعترافِ عظمت کا یہ پیغام شاید صحیح جگہ نہ پہنچ سکے اس لیے کہ بلوچ سردار اور ان کے گماشتے کبھی غلطی کرتے ہی نہیں۔ اگر ان کا سردار اکبر خان بگٹی نیک نہاد، پاک طنیت، انسان دوست، محب وطن، صلح کل، اصول پسند، قانون کا احترام کرنے والا، محب وطن،بلوچوں کا محافظ، مظلوموں کی آواز اورخود بھی مظلوم تھا تو کون مائی کا لال کسی بلوچ کے دامن پر گناہ یا جرم کا دھبہ دکھا سکتا ہے۔ بلوچ خصوصاان کے سردار کبھی ظلم کرتے ہی نہیں۔ فرشتوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔ رہا سرکاری املاک اور پنجابیوں کا نقصان تو یہ بھی فرشتے ہی کرجاتے ہیں۔ بلوچ ازل سے معصوم ہیں دائمی مظلوم ہیں۔

اس غیرت مند بلوچ کی مظلومیت کا بھی کیا مکار چہرہ ہے سردار سینکڑوں مار کر ہزاروں بھگادے اور بھاگے ہوئے بلوچ اپنے بچوں، بوڑھی عورتوں اور جوان بیٹیوں کو لے کر سارے ملک میں دھکے کھاتے پھریں تو بلوچ غیرت لحاف اوڑھے سوتی رہتی ہے۔ بلوچ اپنے سرداروں سمیت بلوچستان کی کل دھرتی پر ایک بار پھر نظر ڈال کر دیکھیں کہ کتنی وسیع ہے۔اپنے قبیلوں کی تعداد دیکھیں اور اپنی کل طاقت کا اندازہ لگا کر سوال کا جواب خود دیں۔ کیا بھگائے گئے قبائلی بلوچ غیرت کا حصہ نہیں تھے کہ اتنے سارے غیرت مند بلوچ اور اتنا بڑا بلوچستان انہیں پناہ نہ دے سکے۔ اپنے فرعونوں جیسے سرداروں سمیت انہیں تحفظ نہ دے سکے۔ اور وہ راندے ہوئے بلوچ دوسرے صوبوں میں بھٹکتے رہے۔ بلوچ غیرت مندی کے جن کتنے سمجھ دار ہیں کہ درجہ سوم کا فرعون جب دھاڑتا پھرتا تھا اور مظلوم سارے ملک میں چھپتے پھرتے تھے تو یہ اصحاب کہف کے غار میں سوئےر ہے۔ جب یہ مارنے بھگانے والا سردار جب اپنے طریق کار کا شکار ہو کر دشمنوں کے غار میں جا چھپا اور دشمن سرداروں نے فوجی افسروں سمیت غار قبر میں بدل کر اس کی شہادت کاعلم اٹھا لیا تو بلوچ غیرت یوں بھڑکی کہ اس کےشعلے آسمان جلانے لگے، غیر مند بلوچوں کا واویلا آسمان پھاڑنے لگا۔ بلوچ مظلومیت کی منطق بھی کیا خوب چیز ہے جو مظلوموں کی شکل دیکھنے سے بھی معذور ہے اور دوسری طرف یہ منطق بھیڑیے کا کھیل بھیڑ کی کھال میں کھیلتی ہے اورخوب کھیلتی ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچی کہ قوم عظیم سردار کے قتل پر بلوچوں سے معافی مانگے، زرداری نے اپنے طور پر یہ معافی مانگ بھی لی ہے۔ آپ بلوچ ہیں اور ماشائ اللہ سردار زادے بھی۔ ان کی اپنے بھائی بندوں سے کوئی معاملہ فہمی ہوگی ہم نہیں جانتے۔ معافیاں مانگتے پھرنا کوئی آسان کام نہیں اگرچہ بلوچ سرداری کا نقصان ہوا پہلے بلوچوں سے، بلوچوں کی غیرت اور بلوچ سرداروں سے یہ سوال ہے کہ کیا میرہمدان، بگٹی اور اس کے قبیلیے کے بھگائے گئے لوگوں اور عظیم سردار کے ہاتھوں قتل ہونے والے مظلوموں سے بلوچستان نے اس بے بسی پر معافی مانگ لی ہے کہ سردار صاحب کا ہاتھ نہ پکڑا جاسکا اور ان کی مدد نہ کی جاسکی جو اس کے دست جبروت کا شکار ہوئے۔ کیا معافی کے طلبگار بلوچ یوں کہیں گے کہ بلوچ روایت کے تحت سردار نے جو کیا وہی درست تھا۔ جو مظلوم اس عظیم سردار کے ہاتھوں قتل ہوئے بلوچ کے ضمیر کے مطابق وہی مجرم تھے؟ سردار صاحب جو کرتے رہے وہی درست تھا!

اگر سردارصاحب کے ہاتھ ہر کالک سیاہی ظلم اور خون سے پاک تھے، جو اس نےجو کیا بلوچ ضمیر کے مطابق وہی انصاف ہے تو پھر عظیم سردار کی عظمت اور شہادت کو سلام۔ اگربلوچوں کی عظیم الشان روایات کے مطابق یہ سب درست ہے تو ہم معافی بھی مانگیں گے اور سردار کے زندہ رہ جانے والے دشمنوں کو تباہ و برباد کرنے میں ان معافی طلب کرنےوالے بلوچوں کے ساتھ ہوں گے۔حرف آخر کہ بلوچ ہمارے ہم وطن ہیں ان کی اقدار کی پاسداری اور احترام ہم پر لازم ہے۔ (جواب کا انتطار ہے)

ہمارے رویے
اب ذرا قوم کے اس دانشور کی بات ہو جائے جو رائے عامہ تشکیل دیتا ہے، اسے رُخ دیتا ہے یا استعمال کرتا ہے۔ یہ دانشور، سیاستدان اور صحافی ہے جو قوم کو آئینہ یا راستہ دکھاتا ہےیہی راہ دان یا راہبر ہے۔ کسی غلط کار کی حمایت میں ان کی یہ پہلی صف بندی نہیں ہے۔ یہ ان کے پیشہ ورانہ رویوں میں شامل ایک ایسی غلط روی ہے جو ہر اہم موقعے پر اچھل کر اوپر آجاتی ہے۔ گویا یہ غلط روی ان کی فطر تِ ثانیہ ہے۔ جس سے بچ نکلنا ان بقراطوں کے بس میں نہیں۔ پھر اتنے متفنی اور چکنے ہیں کہ پکڑائی نہیں دیتے۔ ہر موقع نکلنے پر ایسے ہو جاتے ہیں کہ گنہگاروں کے اعمال میں سے کیڑے نکالنا انہی فرشتہ سیرت لوگوں کو سزاوار ہے۔

سوال یہ ہے سردار اکبر خان بگٹی کے جرائم جو اس کی زندگی کے پورے دورانیے پر پھیلے ہیں قوم کو نظر کیوں نہیں آئے۔ اس کا سادہ جواب یہ کہ ان جرائم کے نظر آنے کی وجہ اس حقیقت میں مستور ہے کہ ملک کی رہنما اقلیت اسے نہ دیکھ سکی ۔یوں قوم کے سامنے مسئلے کے طور پر یہ جرائم سامنے نہ آسکے۔ دوسرے سوال کا شاید سادہ جواب ممکن نہیں کہ ملک کی رہنما اقلیت جس میں ہر طرح کے روشن ضمیر اور مردہ ضمیر ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ سردار صاحب کے کرتوت جرائم کے طور پر کیوں نہ دیکھ سکی۔ (یہ سوال بہر طور یہاں نہیں پوچھا جائے گا کی ایسی ہی ان دیکھی کے اور کون سے عنوانات اور مواقع ہماری قومی زندگی میں موجود ہیں۔ اس لیے کہ یہ پنڈورا باکس اپنے کھولنے والے سے انسائیکلو پیڈیا لکھنے کی ہمت مانگتا ہے) ۔ باقی باتیں الگ رکھیئے بگٹیوں تک ہی رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمدان بگٹی اور پچاس ہزار انسان بھگا کر ان کے مکانات کی زمیں ہموار کر دی گئی ، املاک پر قبضہ کر لیا گیا تو انسانیت کے درد مند یہ دانش کار کہاں سوئے تھے۔پھر بگٹیوں کے ہاں کوئی ایک مسئلہ موجود ہے جو ملک ہی نہیں شاید دنیا بھر میں نادر ہے جو کہیں مذکور نہیں ۔ اس مسئلے میں اکبر بگٹی ہو یا ہمدان بگٹی دونوں ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں ۔ ظالم بگٹی ہو ں یا مظلوم بگٹی دونوں میں ایک غلام قبیلہ موجود ہے ۔ ان لوگوں کو مرٹے کہا جاتا ہے۔ جو یقیناً مرہٹے کی بگڑی صورت ہے۔ یہ لوگ ابھی تک اپنے سابقہ مذہب پر قائم ہیں۔ جو غالباًماضی کی کسی جنگ میں ان کے غلام ہو گئے۔ ان کی انسانی حالت کے بارے میں جا بھی جانے گا اُسے دکھ ہوگا۔ انہونیاں دیکھنے اور سوچنے والے ان دانش کاروں کو یہ لوگ نظر کیوں نہیں آتے ؟ ان کا تذکرہ ایک ہی بار پڑھا اوریانا فلاسی جب اکبر بگٹی کا انٹرویو کیا تو اُن کی تعداد دس ہزار تھی جو آج پچیس تیس ہزار ہو سکتی ہے۔ تیس ہزار انسانوں کا غلام قبیلہ بگٹیوں سے پوچھیں تو انسانوں میں شمار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ قومی وجود پر ایک پورے غلام قبیلے کا دھبہ ان اُجلے لوگوں کیوں نظر نہیں آتاجو انسانیت کے اس حد تک درد مند ہیں کہ اکبر بگٹی جیسے ظالم کی موت پر بھی بین دھاڑتے ہیں۔

کوئی گرہ ہے جس نے انسانیت کے زائد طور پر درد مند اِن لوگوں کے ذہن باندھ رکھے ہیں ۔ کوئی پردہ ہے جو سامنے کے مناظر ان لوگوں کی آنکھ کی پتلی کے پیچھے جانے نہیں دیتا ۔ کوئی مانع منطق خانہ بندی ہے۔ جو ان کے ذہنوں کو مستقل طور پر تقسیم کئے ہوئے ہے۔ بڑی سادگی سے جھوٹ بولیں گے، بڑی آسانی سے جھکائی دیں گے، بڑ ے بھولپن سے مکاری کر جائیں گے، ہینگ اور مشک دونوں ان سادہ و پرکار لوگوں کی بساط میں بندھے ہوتے ہیں۔ہوا سونگھ کر کر مال کھولتے ہیں۔بازار کی ڈھب دیکھ کر بھاؤ بتاتے ہیں۔ اس لئے ان کی اگلی چرب زبانی سے پہلے فرار کے ممکنہ راستے پہلے دیکھ لئے جائیں۔بگٹی کی موت کے سانحے پر آٹھ آٹھ آ نسو اخباروں پر انڈیلنے والے برساتوں سے گذرے ان گرگوں سے جب پوچھا گیا کہ جناب آپ کیا رہے ہیں تو جواب نرالے تھے۔ اَجی موقعے کی نزاکت!اماں وقت کی ضرورت!حالات کا تقاضا! میاں پاکستان چلا جاتا! جناب ملک بیٹھ جاتا! ذرا ٹھنڈے ہونے دیں۔۔۔۔ ہلکی چپت لگائیں گے۔ اب اس سادہ سوال کا جواب آتا ہے ہماری رہنما اقلیت اتنی سطحی اور غیر مستقل مزاج کیوں ہے۔ لیکن پہلے زیربحث معروضیت کے حوالے سے اپنے دانش کار کے رویے پر اختتامی بات کہہ لی جائے۔

سرداروں کے اکٹھ سے خوف زدہ دانش کے لئے عرض ہے کہ ظالم کے لئے مظلوم کی جگہ کھڑا ہونا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ بلوچ سرداروں کی دوسری یعنی مظلوم اور محروم والی حیثیت سراسر جعلی ہے۔ ان کی مکاری مظلوم جیسا چہرہ تو دکھا سکتی ہے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں بپھرے مظلوم کی چمک نہیں آسکتی۔ حکومت جتنی بھی کمزور ہو یہ لوگ اس کی حاکمیت کے سامنے اپنی موجودہ حیثیت میں ڈٹ کر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ بلوچ حیثیت میں ان کے دل جتنے بھی بڑے ہوں ظالم کی حیثیت میں کمزور اور پھولے ہوئے ملیں گے۔ بلوچستان سے آیا ایک پرانا محاورہ ہے کہ جتنا بڑا سردار اتنا بڑا غدار (پس نوشت! ریٹائرڈ جنرل قیوم نے اپنے ایک مضمون میں افغانستان پر روسی قبضے کے دوران ""کے جی بی""کے لیے وہاں کام کرنے والے دو روسی افسروں کے انٹرویو کا حوالہ دیا ہے ۔ان افسروں کے مطابق بلوچستان کے سردار بکنے کے لیے تیار رہتے ہیں جبکہ عوام حماقت کی حد تک محب وطن ہیں۔ ان سرداروں نے محب وطن اور غدارِ وطن ہونے کے لیے باری لگا رکھی ہے)۔ ان سرداروں کو کسی نے للکارا نہیں تھا کہ اندرونی تیزابیت نے کوئی مجبوری پیدا کردی ہو۔ یہ بیٹھے بٹھائے بھیڑوں جیسی رعیت ہاتھ سے جاتا دیکھ کر خود اُٹھ کر کھڑے ہوئے اور خود ہی چت ہوئے۔ یہ متفقہ مفادات کا معاملہ تھا۔ جو بعد میں کھڑے ہوئے وہ اپنے طریقوں سےپچھاڑ کھائیں گے۔ ظالم کی موت طوفان نہیں لاتی۔ ہاں، سیاستدانوں اور دانشوروں کا اپنے ہوش اُڑاتے پھرنا سمجھ میں آتا ہے۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے کے یا فوجیوں کے آگے پیچھے بھاگتے زندگی گزاری ہے۔ اپنے نقصان کے فیصلے انہوں نے کبھی خود نہیں کئے۔ اصولِ بنیاد زندگی کے تقاضے انہیں معلوم نہیں۔ پیاز اور جوتے ہر دو اُنہوں نے ایک دوسرے کے بغیر کھا ئے ہوتے ہیں اس لئے زندگی کے تجربات سے سیکھنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ذمہ دارانہ زندگی کے تجربات سے عاری یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں زندگی گزارتی رہتی ہے اور یہ مطالبات کی فہرست گلے میں لٹکائے چیختے چلاتے زندگی کی شاہراہ پر گزرتے رہتے ہیں۔ اگر سیاستدانوں کے بیانات پر غور فرمائیں تو آپ دیکھیں گے کہ حزب اختلاف کے رہبروں کی زبان سے کبھی مثبت بات نہیں نکلتی۔ حزب اقتدار والے کبھی بامعنی بات نہیں کہتے۔ دانشوروں کی بات کریں تو دیکھیں گے کہ وہ ایک کا جھنڈا لہراتے پھرتے ہیں۔ پھر جھنڈے کا لٹھ اسی رہبر کو دے مارتے ہیں پھر دوسرے کا جھنڈا پہر اس کا سر۔ ان کا تعلق دشمنی جیسا ہو یا دوستی نما، دونوں ناپائیدار۔ یہاں دانشوروں کا حال اقبال کے اس شعر کے مصداق ہے کہ جاتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہ روکے ساتھ، پہچانتا نہیں ہون ابھی راہبر کو میں۔ اس کے باوجود کہ خود راہ گم کردہ ہوتے ہیں رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اب ان سیاستدانوں اور دانشوروں کےفکرو عمل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اختصار کی ضرورت کے تحت معاملات کی بحث ماضی قریب تک رکھتے ہیں۔

پی آئی اے کے ایک پائیلٹ نے بوئنگ طیارہ پہئے کھولے بغیر اسلام آبادہوائی اڈے کی پٹی پر اتار دیا تھا۔ جہاز پیٹ کے بل زمین پر پڑا ہے، ایمرجنسی لگی ہوئی ہے، ہوائی اڈہ بند کردیا گیا ہے۔ مسافر اتارے جارہے ہیں۔ ایک شیر جوان شور مچاتا پھر رہا ہے، ہائے میری مچھلیاں۔ اس کی آدھ پونے انچ کی مچھلیوں کا مرتبان سامان کے خانے میں بند ہے۔ جہاز کا دروازہ اس کے پیٹ کے بل پڑا رہنے کی صورت میں کھل نہیں سکتا۔ اور ایک جری جوان جہاز کے گرد اپنی مچھلیوں کے لئے تڑپتا پھر رہا ہے۔ جنرل پھنسا ہوا ہے روس کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی عسکری مشین کے خلاف برسر پیکار ہے۔ افغانستان کی آزادی کے لئے، نبرد آزما ہے۔ روسی ریچھ کی گرم پانیوں پر اترنے کی خواہشوں سے، وہ مستقبل کی ایک یقینی شکست کو حال کی جنگ میں گھسیٹ لایا ہے۔ دانشور اور سیاستدان کو کیا درکار تھا، ہائے ہماری جمہوریت، ہائے ہماری جمہوریت۔ جھنڈا اُٹھا رکھا تھا جمہوریت کے بانس پر بھٹوکی مظلومیت کا جس کی مظلوم حیثیت ایک الگ سوال ہے۔ جمہوریت جس کے ذاتی رویو ں میں کہیں تھی نہ انتظامی مہارتوں میں۔ جس نے سیاسی تاریخ میں واحد غیر فوجی مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر کے عہدے کو اس طرح پسند کیا کہ اسے گھسیٹ کر اس کے عہدے سے الگ کیا گیا۔ جس کے لیے منہ پھاڑ کر دعوی کیا جاتا ہے کہ اس نے متفقہ آئین دیا اور اس وقت کی حزب اختلاف کہتی رہی کہ ہم کم سے کم قبول کرنے پر مجبور ہیں"۔ یہ کم سے کم جو متفقہ تھا آئیں بننے کے دوسرے تیسرے دن بعد حزب اختلاف کے لیڈروں سمیت اُٹھا کر اسمبلی سے باہر پھینک دیا۔ مذکورہ تڑپ اسی بھٹو کی ہمدردی سے پیدا ہونے والی جمہوریت کی رسولیوں میں پیدا ہو رہی تھی۔

جرنیل چاہتا تھا بین الاقوامی مفاہمت اور معاہدوں میں بندھا افغانستان، جو کسی حکومت کی گرفت میں ہوتا، اس جرنیل کی دی جمہوریت نے پھٹا ڈھول گلے ڈال لیا، جس کے پرخچے اور کھپچیاں پورے قومی وجود کے ساتھ اب تک چپکی ہوتی ہیں اور اتارے نہیں اترتی۔ لیکن غلط جرنیل ہے اس وقت کی سیاست کا جمہوری حاصل اپنی لٹیا ڈبو کر بھی ہر الزام سے بری۔ چلئے اس سارے تجربے اور ناکامیوں کا حاصل ایک اصول ہاتھ آیا کہ جرنیل کی سیاست غلط ہوتی ہے خواہ اس کی سیاست گری ربع سکوں کے ایک تہائی کو غلامی سےنجات دلا دے۔ تاریخ کا دیا یہ انتہائی طورپر مہنگا سبق دانشور اور سیاستدان کے لیے فکری خوراک تھا۔

درکا رتھی جمہوریت، قوم کے جمہوری مزاج کا عاد اعظم نکلا بے نظیر کی صورت، معلوم ہوا قوم کے جمہوری فیصلے کا نتیجہ سیکورٹی رسک ہے۔ تاریں ہلاتے ہیں مارشل، چھلانگیں لگاتے ہیں لیڈر اور دانشور ،نتیجہ دم دما دم مست قلندر۔ پھر سے شروع کرتے ہیں۔ نواز شریف! "یہ تو سری پائے تک کھاجاتا ہے" وہی تاریں وہی چھلانگیں سیاست کی گندگی میں۔ "بھگا دیا بھگا دیا" پھر سے شروع کرتے ہیں۔

قوم کا جمہوری ضمیر پھر کروٹیں بدلتا ہے۔ بی بی اُدھر ڈوب کر اِدھر نکلتی ہیں۔ لیکن جرنیلوں کے چرن چھو کر۔ ایجنڈا دشمن کو ٹھکانے لگانا۔ بحری جہاز روک لئے، کارخانے بند کرا دئیے۔ قرضے مل نہیں سکتے۔ سارا ملک مہنگائی کی گرفت میں جا رہا ہے۔ اب دانشور کو یہ معلوم نہیں کہ وہ جمہوریت کا طرف دار ہے یا شیر کا، غالب کا طرف دار ہے، یا سخن فہم۔ لمبے الاپ، ڈھول کی تھاپ، وہی تاریں وہی چھلانگیں، یہاں تک کہ قلانچیں بھرتے سیاستدان خود ٹھکانے جا لگے۔ قوم کا ضمیر، نواز شریف۔ فوج کا اپنا یہ حال کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق چیف صاحب کے زیر سایہ صدر مملکت محمد رفیق تارڑ کو ان کے آخری دنوں آڈیٹر جنرل نے ایک رپورٹ پیش کی۔ فوج کےصرف ایک محکے( ایم ای ایس) میں کرپشن کی مالیت بانوے ارب روپے (۹۲ کے بعد نو صفر) اور بھینس گائے سے کہنے لگی کہ اس کی دم کالی کیوں ہے۔ گائے کو سخن فہمی سکھائی گئی تو قوم پر ایک اور انکشاف ہوا۔ لطیفہ ہے کہ گھوڑے نے پہلے پھونک ماردی۔ معلوم ہوا کہ اس دیس میں صرف گھوڑا ہی پھونک مار سکتا ہے، وہ ٹھنڈی ہو یا گرم، پہلے مارے یا بعد میں۔ پھر اک اور جرنیل کا سامنا تھا منیر، پھر وہی زندگی ہماری ہے۔ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ شکار، شکاری اور جال سب کچھ پرانا تھا، نیا کیا تھا؟

نئی تھی سیاستدان اور دانشور کی لَے کاری اور راگ درباری کے تان پلٹے۔ نصیب اپنا اپنا۔ ایک وہ بد دعایا ہوامقہور جو روس اور سوشلزم سے لڑا۔ آہنی دیوار کے پیچھے جمی دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین کے پرزے بکھیر گیا اور جاتے جاتے یہ سبق بھی پڑھا گیا کہ جرنیل کی سیاست گری تارے بھی توڑ لائے تو غلط ہوتی ہے۔ دوسرا یہ اپنا نجات دہندہ۔"" وایا بٹھنڈہ"" اور کارگل جب زمین پر پاؤں رکھا تو سب کچھ فتح کر چکا تھا۔ وہی دانشور وہی ساستدان لگے قوم کو بناتے کہ امام مہدی تو نہیں لیکن چیز بڑی ہے۔ دم مست قلندر۔ گزشتہ مارشل لائ پر تبرا کرنے والے بلائیں لے رہیں۔ جھولیاں اُٹھائے دعائیں دے رہے ہیں۔ قوم کو نویدیں، مایوسوں کو مژدے، عوام کو خوشخبریاں چیف صاحب ہیں کہ تقریر ریکارڈ نہیں کروا سکتے۔ جرنیل صاحب ایک جملہ بولتے ہیں تو گرنیڈ کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔ انہیں اکٹھا کر کے دوسرا جملہ کہلوایا جاتا ہےتو جونک کی طرح بل کھاتے ہیں۔انہیں سیدھا کرکے کیمرے چلتے ہیں تو اگلے جملے کے بعد پھر اُنہیں اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ وعدہ آٹھ بجے کا ہے۔ ایک ہنگامی حالت پورے ملک میں نافذ ہے۔دوسری (غالباً۔۔؟)آرمی ہاؤس میں برپا ہے۔ جرنیل صاحب قوم کے آنگن میں دھم سے کودچکا۔لیکن مشینوں کے سامنے بھی تقریر کرنے لگے تو پھٹپھٹی کی طرح بجنے لگتا ہے۔ نہیں معلوم نمرہ باندھ کر سورہ پڑھوایا گیا یا پائیلٹوں والا پریشر سوٹ پہنا کر ۔تقریر رات تین بجے ہو گئی۔ لیکن جرنل صاحب ہیں کہ سنبھل نہیں پا رہے۔ چھ ماہ بعد تک موم بتی کی طرح پگھلتے رہے ۔ جمہوریت کے پتنگے اس موم پر دیوانہ وار لپکے، دانشور وں کے قلم سے اس دور میں روشنائی نہیں نکلتی تھی، ان کا خون جگر ٹپکنا تھا یہ خون جگر پلا کر موم بتی کا سورج بنا ڈالا ، یہ نیا ننگا مارشل لاء جمہوریت کی مچھلی کا ماتم کرنے والوں کے لئے گو نہیں، نانی کا ہگا نہیں، تبرک تھا۔ مارے ہردے میں ناچے مور تک تھیا تھیا۔ لہرے بھونپو پر، ٹھیکا نقارے پر، لمبے الاپ اور مرغ بسمل ایسے تان پلٹے۔ اللہ دے اور بندہ لے۔ جنہیں دور کے درشن، وہ چیف صاحب کو آب حیات پلانے کے لیے سوداء گھوٹ رہے ہیں۔ اس نجات دہندہ کو دانشورانہ اور ہمدردانہ مشوروں کی ایسی بھر مار کہ اگر ڈھیر کر دئے جائیں تو کوہ سلیمان جیسا پہاڑی سلسلہ بن جائے۔ اگر پندو نصائح کا یہ کوہِ گراں کرہ ارض پر تقسیم کریں تو جنت الفردوس بن جائے۔ چیف صاحب کے ور ود سے جمہوریت کا نقصان ہوا نہ بغیر چھلکے کا مارشل لائ برا۔ جرنیل کی سیاست کا بہت قیمت دے کر سیکھا گیا یہ اصول کہ وہ ہر حال میں غلط ہے، حرف غلط بن گیا، اسے دفنا دیا گیا۔ چیف کی غلط کاری کو پھولوں سے ڈھانپ دیا گیا اس پر دانش کی اُجلی چادریں چڑھادی گئیں۔ اس نے کوئی غلطی کی نہ جرم کیا۔ کارگل والا نیکیوں اور ثواب میں غرق، کیوں؟ اس لیے کہ نواز شریف کا بھٹہ گل کر دیا۔ کون نواز شریف؟ وہی اپنے جمہوری ضمیر کا عاد اعظم۔ جنرل ضیائ الحق کے مقابل ملکی دانش اور سیاست کو جمہوریت اسی دلیل پر درکار تھی بعد میں جمہوریت اور نواز شریف کے مقابل جنرل مشرف جس دلیل پر ہیرو دکھا دیا گیا۔ضیاء اس لیے ظالم تھا کہ اس نے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر مارشل لا ء لگا دیا تھا۔ مشرف نے پر سمیٹے اور تقریر کر کے ہیرو بن گیا کی اس نے جمہوریت لپیٹ کر مارشل لاء کی چٹنی لگا دی تھی۔

کمال کی بات یہ ہے کہ ان دانشوروں اور سیاستدانوں کو کبھی اپنے کئے پر شرم نہیں آتی۔ (یہ نئی بات نہیں کافی پرانی روایت چلی آرہی ہے۔ بیان کا یہ محل نہیں)۔ یہ لوگ اپنے کئے پر پانی پھیر کر وہی کچھ پھر سے کرنا شروع کردیتے ہیں جس پر پانی پھیرا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کے پیاز اور جوتے کھانے کے موسم ہی الگ الگ ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ زاد سفر میں پیاز باندھ کر جوتے کھانے چل دیتے ہیں۔ پیاز ختم ہو جاتے ہیں تو جوتے کھانے کی منزل آجاتی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ کہ ہم مشترک اور بہتر کرداری خصوصیات رکھنے والے عوام کا معاشرہ تشکیل نہیں دے سکے؟اس کاجواب یہ ہے کہ ہماری رہنما اقلیت میں بجائے خود ایسی مشترکہ خصوصیات نہیں پائی جاتی جو اجتماعی زندگی میں شناخت اور مقام پاسکیں۔ دانشور اور سیاستدان کی بے بصیرتی اور بے کرداری (معلوم رہے یہ بدکرداری نہیں ہے) کی جو تصویر اپنے ہاں پائی جاتی ہے دنیا میں شاید ہی کہیں اس کی مثال ملے۔ اس کی وجہ ہماری تاریخ میں ہے اور اس اجتماعی لاشعور میں جو اس تاریخ نے صورت پذیر کیا ہے۔

افراد کے کردار میں وہ مشترک خصوصیات جو قومی کردار تشکیل کرتی ہوں قومی ادارے پیدا کرتے ہیں۔ یہ قومی ادارے جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کو کبھی ملے ہی نہیں۔ مسلم ہندوستان کے عہدِ زریں میں صرف ایک مستقل ادارہ تھا، بادشاہ، ظل الہٰی! اس ادارے کی باقیات ابھی تک بہترین طور پر ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ شاہی مزاج سے واقفیت اور قرب شاہی حاصل کرنے کا ہنر۔ ہوا کا رخ پہچاننا، بے پیندا ہونا، تاکہ کسی بھی سمت لڑھکا جاسکے۔ خوشامد، چاپلوسی، ابن الوقتی، حق بھی عاجزانہ اور فریاد کے طریقے سے مانگنا، خود تحقیری، رشوت، سفارش، اقربا پروری اور موقع پرستی ایسے کرداری عوامل ہمارے اجتماعی مزاج پر اس لیے حاوی ہیں کہ ہماری رہنما اقلیت انہی اثاثوں پر زندگی گزار رہی ہے۔ ہماری قومی زندگی میں ہر چند برس بعد ایک موقع ایسا آتا ہے جب لینا ایک نہ دینے دولیکن صورت حال تھوڑی سی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ طلب کرتی ہے، جب انتخابات ہوتے ہیں۔ اس دو تین ماہ کے دورانئے میں نیچے سے اوپر تک اور اوپر سے نیچے تک ساری قوم یکساں رویے کا اظہار کرتی ہے۔ چلتا سکہ جھوٹ اور منافقت۔ جو رویہ ان ہنگامی اور اہم تر لمحات میں ہوتا ہے اس کی باز گشت دھیمے سروں میں اگلے انتخابات تک ہر کونے کھدرے میں سنائی دیتی رہتی ہے۔ ہنگامی لمحات میں رک جانا اور کھڑے ہوکر سوچنا، فی ا لفور ہواؤں کی رفتار معلوم کرنا اور بگولوں کی گردش دیکھنا ہمیں نہیں آتا۔ اس لیے یہاں فرد پیدا نہیں ہوا، ہر طرف ہجوم ہے اور رائے عامہ جھکڑ کی صورت نمودار ہوتی ہے ، گرد اُڑٹی ہے ، بیٹھ جاتی ہے، جو بدلنا چاہیے وہ اپنی جگہ جما رہتا ہے۔ ایسے لنگر نہیں جو تھپیڑوں میں روک سکیں، ایسے ادارے نہیں جو مشکلات میں سہارا دیتے ہوں، جو خطرات میں تحفظ فراہم کریں۔

ہماری قومی زندگی میں سارے اعتماد اور تحفظات فراہم کرنے والے مستقل ادارے انگریز لے کر آیا۔ پولیس ایک قاعدہ اور قانون رکھتی ہے،افراد ساتھ خود اپنی حدود کو سمجھتی ہے۔ لوگوں کو تحفظ کا احساس دیتی ہے۔ عدالت انصاف ہی نہیں دیتی عوام کو حکومت پر اعتماد بھی دیتی ہے۔ ہسپتال مریضوں کے ہمدرد ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کی بیماریاں اور جسمانی آزار دور کرتے ہیں۔ ہندوستان کی اسلامی حکومتیں پولیس کا منظم نظام نہ دے سکیں۔ قاضی اپنے انتخاب طریق کار اور کاکردگی میں کسی مرکزی فہم یا معیار کے پابند نہ تھے۔ بادشاہ یا گورنر نے پروانہ دے کر بھیج دیا اور انہوں نے صوابدیدی انداز میں کام شروع کردیا۔ ہسپتالوں، حکیموں اور عطاروں کا کوئی مرکزی نظام اسلامی ہند میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اگر یہ مستقل مزاج اور ریاست گیر ادارے ہوتے تو عوام ان پر ان کی کارکردگی پر نسل در نسل کے اعتماد کے باعث ان اداروں کا احترام اپنے دلوں میں اتار چکے ہوتے۔ ایک ادارتی فہم پیدا ہوچکا ہوتا۔ عوام کو ان لوگوں کے پیچھے نہ بھاگنا پڑتا جو اپنے اور دوسروں کے جھنڈے تو اُٹھائےپھرتے ہیں لیکن منزل تو رہی دور درست سمت سے واقف نہیں۔ اداروں کا احترام اجاگر ہونے کی صورت میں شہریت کا احساس منظم ہوجاتا۔ ادارے نہ ہونے سے افراد کی شخصیتیں اور ادھوری رہ جاتی ہیں۔ اسی لئے ہمارا معاشرہ ادھورے لوگوں کا معاشرہ ہے۔ دوسری مصیبت یہ ہوئی کہ ادارے آئے تو انگریزی برکات کی حیثیت میں۔ ان اداروں کے احکام کی توہین اور حکم عدولی ہمیں نفسیاتی آسودگی دیتی تھی۔ ان سے سیکھنا کیا؟ جب اکھٹے بیٹھتے اور آزادانہ سوچتے تو ان اداروں کے خلاف بات کرتے۔ انگریزوں کے بعد اپنے ادارے بناسکےنہ انگریز والے چلا سکے تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہم ادارتی فہم رکھتے تھے نہ اداروں پر یقین۔ ایسے میں واسطہ پڑ گیا ایک انقلاب اور تاریخ انسانی کی سب سے بڑی اکھاڑ پچھاڑ اور ادھیڑ بں سے۔47ء میں افراتفری اور لوٹ جو شروع ہوئی تو روایت بن کر رہ گئی اگر کوئی ایک ادارہ بھی ڈھنگ سے کام شروع کردیتا اور اپنے شعبہ جاتی اصولوں پر جم جاتا تو تدریجی طور پر ملک کے تمام ادارے اور سارا ماحول ضبط میں آسکتا تھا۔ ہر ادارہ اپنی ناقص کارکردگی کا خود ذمہ دار ہے۔ سرراہے؛ ہمیں اپنے سماجی نظام کو سیاسی دست برد سے بچانے کے لئے جسٹس منیر کے دور سے ایک ایسے جج کی ضرورت تھی جو چھ گھنٹے کھڑا رہ سکے۔ اس جج کے لئے ہمارے نظام نے نصف صدی انتظار کیا۔ (بطور وضاحت۔ کسی کا قول ہے کہ کچھ لوگ صرف ایک ہفتے میں اتنی دیر کھڑے رہ سکتے ہیں کہ باقی لوگ ساری زندگی میں جتنی دیر کھڑے نہیں رہ سکتے)۔

اس تحریر میں رونا اور مرثیہ تھا صحافتی دانشور اور سیاستدان کی دانش کا اسی دوران سب سے زیادہ منطقی لوگوں یعنی وکلاء کا شکار نکل آیا۔ پورے ملک میں ہاہا کارمچی کہ لِلہ ہمارا چیف جسٹس واپس کرو۔ ایک جج ہے جو کھڑا ہوگیا اور ملک کے سارے قانون پیشہ لوٹنیاں لگا رہے کہ جج کو بحال کرو ۔ مسئلہ ججوں کی ملازمت ختم ہونا نہیں ہے۔ وہ اس لیے اپنی ملازمتوں کو لات نہیں مار گئے کہ قوم ان کی بحالی کے لیے تحریک چلائے ۔راست مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ جس نے عدالتیں برخواست کی ہیں اس نے نظام ِ انصاف معطل کیا ہے ۔ ملک کی مقتدر طاقتیں اس کی معاونت اور حمایت سے ہاتھ کینچ لیں ۔ اور اس استبدادی مقتدر سے مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار سے الگ ہو جائے، لیکن کوئی ایک آواز کہتی نہیں سنی گئی کہ مکا دکھا کر جمہوریت کا درس اور بھیک کے انداز میں جمہوریت دینے والا ٹھوکر کھا گیا ہے اس کے لڑھک جانے کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچا یا جائے،گرد بیٹھے گی تو تھوڑابہت منظر بدل چکا ہوگا۔ اگلی تبدیلی کے راستے کھل چکے ہوں گے۔ ملک کے سب سے بڑے غلط کار کو دوسری بڑی غلطی واپس لینے کے لئے کہا جارہا ہے۔ یہ نہیں دیکھتے کہ قومی اصلاح کا امکان پیدا ہوا ہے۔ہمارے وکلائ بھی دانشور اور سیاستدان سے زیادہ کیا بیچیں گے۔ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں ۔وہ ادارے ایسے انحطاط کے دور میں بدنصیبی کے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں جن کی کارکردگی مستقبل پیدا کرتی ہے اور اسے رخ دیتی ہے۔ مثال کے طور پر تعلیم اور تحقیق کے ادارے اور عدالتیں۔ جہاں وکیلوں نے کام چھوڑا وہیں اعلی اور ماتحت عدالتوں سے مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ اعلی ترین سطح پر نظامِ انصاف معطل ہونے کی صورت میں انہیں بھی کام بند کر دینا چاہیے۔ تحریک ان مطالبات پر چلتی تو زیادہ راست روی کا مظاہرہ ہوتا۔ مسئلہ ججوں کی معطلی نہیں نظامِ انصاف کی معطلی کا تھا۔ اور وکیلوں کو یہ مقدمہ عوام کی عدالت میں اس طرح پیش کرنا چاہیے تھا۔

ہمارے نظام تعلیم نے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ان لوگوں کو پروان چڑھایا تھا جو آج برسرکار ہیں۔ اَسی اور نوے کی دہائیوں میں ان لوگوں کو تعلیم اور تربیت دینی تھی جومستقبل قریب میں ذمہ دارانہ مقامات پر موجود ہوں گے۔ ہمارا نظام تعلیم بھی ماضی کے بوجھ تلے دبی حالت میں پاکستان کے بعد کی افراتفری کا شکار ہوگیا۔ رٹا، نقل، بھیڑ چال، تشدد، طالب علم کی توہین اور استاد کی تذلیل ہمارے تعلیمی نصاب میں شامل ہو گئے۔ تعلیم، تشدد اور تذلیل کے ساتھ رٹے کی بنیاد پر ملتی ہےیا تشدد اور تذلیل تعلیم کے ساتھ ملتے ہیں۔ اس ماحول میں کیا کرداری خصوصیات ملیں گی، کیا شخصی اوصاف ہاتھ آئیں گے۔ فکر و نظر بانجھ، سوچ سطحی، تنقیدی فہم مفقود، دلنوازی عنقا، برداشت غائب، صبر کا خانہ خالی، تخلیق کے سوتے پھوٹے ہی نہیں۔ پھوٹے تو کرم پھوٹے، مرغان بادنما کی افواج ظفر امواج، منافقت، جھوٹ، دغا، دنگا اور ہر وہ خصوصیت جو باوقار معاشروں کے تعلیمی اور سماجی ادارے نہیں سکھاتے ہماری شناخت ہیں۔ رہنما فکری ہوں یا سیاسی یا کسی بھی سطح یا شعبے سے متعلق اپنے معاشرے ہی کی تصویر اوراس کا عکس ہوتے ہیں۔

جن ملکوں میں تعلیم و تدریس کا عمل کسی اُصول اور ڈھنگ سے ہوتا ہے وہاں ایک اصطلاح بنیادی اصول کا درجہ رکھتی ہے یعنی خطہ آسودگی (comfort zone)۔ پہلا خطہ آسودگی ماں کی گود ہے۔ وہاں تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ تحفظ اور محبت ہے، سکون ہے، اس نفسیاتی آسودگی میں بچہ ماں سے سیکھتا ہے۔ ماں کی گود سے بچہ نکلتا ہے تو اس کا گھر اس کے لیے نفسیاتی آسودگی کا سامان فراہم کرتا ہے۔ جب بچہ اسکول جاتا ہے تو وہاں محبت آہستہ آہستہ احترام اور وقار میں بدلنے لگتی ہے۔ بچے کو جو سکھایا جائے اس پر یقین کرنے لگتا ہے۔ جوبتایا جائے اسے سمجھنے لگتا ہے۔ گھر اور اسکول کے ماحول میں اس کی نشو و نما باقی شخصیت اپنے معاشرے کی اچھی باتوں کو جذب کرنے لگتی ہے۔ اور ایسے انسان پیدا کرتے ہیں جن کے دماغ میں گرہ نہیں ہوتی جن کی نظر دھندلاتی نہیں ۔ جنہیں کچھ چھپانا نہیں ہوتا۔ جو حقائق کو سامنے سے دیکھتے ہیں ۔ جن کی آنکھ معروضی طور پر دیکھتی ہے۔ جن کے ذہن صاف ہوتے ہیں ۔ جن کے رویے مثبت اور خیالات واضح اور فکر روشن ہوتی ہے۔ ان لوگوں کا اتحاد اور نظم و ضبط حیرت ناک ہوتا ہے۔

یہی خطہ آسودگی کی اصطلاح جب پورے معاشرے پر پھیلتی ہے تو کمفرٹ زون کا ترجمہ سوشل سیکورٹی ہوجاتا ہے۔ تمام ادارے پورے معاشرے کے خادم ہوتے ہیں ہر شخص کو تحفظ دیتے ہیں۔ یوں ہر ادارہ ہرفرد کے لیے محترم ہوتا ہے۔ ہر فرد ریاست کی پوری طاقت کو اپنی پشت پر محسوس کرتا ہے۔ اس لیے پورے طور پر اس کا وفادار ہوتا ہے۔ ہمارے لوگ جب مغربی ممالک میں جاتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ وہ تمام تر ذاتی تحفظات اور غیر ضروری کاروائیوں سے محفوظ کردئیے گئے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں مقامی ذمہ داریوں اور تحفظات کے خوف کا بوجھ اُٹھائے پھرنے والے جب وہاں دیکھتے ہیں کہ ہر ہر قدم پر ریاست کا سایہ ان کے سر پر ہے۔ اور وہ زندگی کا تمام تر بوجھ کہیں پیچھے ہی گرا چکے ہیں تو ان کی طاقت اور صلاحیت کار کئی گنا ہوجاتی ہے۔ جب بوسنیا کے مسلمانوں پر قیامت کا قہر ٹوٹ رہا تھا، انسانی خباثت انہیں جنگلی کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہی تھی اس وقت بھی جب وہ ایک ایک نوالے کے محتاج تھے، ڈبل روٹی تقسیم کرنے والےٹرک آتے تو لوگ قطاروں میں لگ کر اپنے حصے کی ڈبل روٹی وصول کرتے۔ گولہ باری میں وقفہ ہوتا تو گلیوں اور سڑکوں سے ملبہ ہٹا کر انہیں صاف کرتے اور پھر اپنی پناہ گاہوں میں چلے جاتے۔ بڑی دھوم مچاتے ہیں کہ ہم پاکستانی زندہ قوم ہیں، اور ہم زندہ دل ہوا کرتے ہیں۔ بوسنیا والے ان عذاب کے دنوں میں حملہ آوروں سے درخواست کرتے ہیں کہ ذرا گولہ باری بند کردیں ہم فٹ بال کا ایک میچ کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ اسکولوں کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ مغرب میں تدریسی ادارے خطہ ئِ آسودگی کی تعریف پر پورا اُترتے ہیں۔

یہی فرق ہے مہذب اقوام میں اور ہم میں کہ ہم کسی نظام کے پرور دہ نہیں۔ منظم اداروں کے تربیت یافتہ نہیں، علم التدریس کے ضوابط کے تحت تعلیم یافتہ نہیں۔ یہاں شرافت کا معیار یہ ہے کہ گریبان سے پکڑ کر گلا دبار کھا ہے۔ خونخوار آ نکھیں دکھا کر بتاتے ہیں "تو میری شرافت سے ناجائز فائدہ اُٹھا رہا ہے"۔ اس ملک میں کتنے طاقت ور ایسے ہیں جو خونخوار آ نکھیں اور دوسروں کی گردن تک پہنچنے والا آہنی پنجہ نہیں رکھتے۔ یہ اس لیے ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اپنے بنیادی اصول کے تحت کام نہیں کررہا۔ ایسے میں عوام اَن گھڑت،شخصیتیں ادھوری، سوچ پر اگندہ، ارادے خام، ہر چیز فوری، ہر بات وقتی، عوام اور خواص بے سوچے سمجھے ہر موقعے پر رد عمل کے لیے تیار، صرف ایک بات پر نظر ہے کہ دھماکہ کہاں ہوتا ہے۔ آگ کہاں لگتی ہے۔ دھواں کہاں سے نکلتا ہے۔ جس طرف کو ایک نگاہ اُٹھے مرغان باد نما کی فوجیں اسی سمت لپک لیں گی۔ ہر ہنگامہ یہاں تماشا ہے، ہر کھٹکا کوئی نوید ہے انڈے سیتی مرغی جائے مر اور اس کے انڈوں سے بچے جائیں نکل تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں کہیں سے ایک آواز آئے تمام چوزے اسی سمت دوڑ جاتے ہیں۔ ہم بطور قوم، اپنی رہنما اقلیت، سیاست دان اور دانشور سمیت یتیم چوزوں کی نفسیات رکھتے ہیں۔
ختم شد

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......