بلوچستان کے مسائل اور پائنا کا غےر معمولی اجلاس

Submitted by Mudassar Faizi on Fri, 04/24/2009 - 08:31

1977 ءکی بات ہے، بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحرےک زوروں پر تھی، مےرے والد محترم رےاض احمد فےضی تحرےک مےں شدےد زخمی ہوکر مےو ہسپتال کے AVH وارڈ جس کو عرف عام مےں گورا وارڈ کہا جاتا ہے، کے اےک پرائےوےٹ کمرے مےں داخل تھے۔ مےں اس وقت 6/7 سال کا تھا لےکن مےرے حافظے مےں وہ ےادداشتےں اب بھی دھندلی دھندلی موجود ہےں اور اس وقت کی تصاوےر دےکھنے سے اےک بار پھر سب کچھ تازہ ہوجاتا ہے۔ وہےں اےک قرےبی کمرے مےں جناب الطاف حسن قرےشی بھی بےماری اور نظربندی کی حالت مےں رہائش پذےر تھے۔ جب مےں نے ان کو پہلی بار دےکھا تو ان کی سرخ رنگت سے ےہی سمجھا کہ وہ کوئی انگرےز ہےںاور جب انہوں نے مجھ سے اردو مےں بات کی تو مجھے بےحد حےرت ہوئی کہ اےک انگرےز کتنی شستہ اور خوبصورت اردو بولتا ہے۔ مےرے والد بزرگوار اور قرےشی صاحب دونوں ہی ضمےر کے قےدی تھے اور اس وقت کی فسطائےت کے خلاف جہادمےں مصروف تھے۔ دونوں کا تعلق بھی صحافت سے تھا اور آپس مےں گہری دوستی بھی، چنانچہ جےسے جےسے مےں بڑا ہوتا گےا، وےسے وےسے مےں نے ان دونوں کی دوستی بھی بڑھتی ہوئی دےکھی۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد مےری نا اہلی کی وجہ سے جناب الطاف قرےشی سے رابطوں مےں کمی آتی گئی لےکن وہ تعلق خاطر جو مےرے والد صاحب اور قرےشی صاحب کے مابےن تھا، مےں اسے قائم رکھنے کی سعی کرتا رہا، قرےشی صاحب کی محبت مےں بھی کبھی کمی واقع نہےں ہوئی اور وہ اکثر ملاقات پر پائنا کے اجلاس مےں حاضری دےنے کا کہتے تھے۔ چنانچہ کچھ دن قبل جب الطاف قرےشی صاحب کا فون آےا اور انہوں نے پائنا کے اجلاس کی دعوت دی تو مجھے از حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے ساتھ ےہ بھی ڈےوٹی لگائی کہ ہائی کورٹ بار اےسوسی اےشن کے صدر اےم اے شاہد صدےقی صاحب (صدےقی صاحب اس وقت ابھی سپرےم کورٹ کے جسٹس مقرر نہےں ہوئے تھے) کو بھی ساتھ لےکر آﺅں۔ مےں نے محترم صدےقی صاحب سے رابطہ کےا اور ان کو ساتھ لےکر پائنا کے خوبصورت راﺅنڈ ٹےبل پر پہنچ گےا۔ اس راﺅنڈ ٹےبل کا موضوع مےثاق جمہورےت تھا۔ 2/3 روز قبل دوبارہ جناب الطاف قرےشی صاحب کی فون کال موصول ہوئی اور انہوں نے پائنا کی بلوچستان کے موضوع پر منعقد ہونے والی راﺅنڈ ٹےبل مےں شرکت کی دعوت دی۔ چنانچہ اس بار مےں لاہور بار اےسوسی اےشن کے سابق جنرل سےکرٹری لطےف سراءکو ساتھ لےکر پائنا راﺅنڈ ٹےبل مےں شرکت کےلئے پہنچا۔ وہاں پچھلی بار کی نسبت زےادہ مہمان موجود تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چےف جسٹس مےاں اللہ نواز صاحب صدارت فرما رہے تھے۔ مہمانوں مےں اےک شخصےت اےسی بھی تھی جو اپنی زندگی کا بہت طوےل عرصہ بلوچستان مےں گذار چکی ہے اور وہاں کے حالات، مسائل اور ان کے حل کے بارے مےں بلاشبہ اتھارٹی سمجھی جاتی ہے۔
جب اورےا مقبول جان صاحب نے خطاب شروع کےا تو تمام حاضرےن ہمہ تن گوش ہوگئے۔ انہوں نے بہت مفصل اور مدلل انداز مےں بلوچستان کی تارےخ سے بھی آگاہ کےا، موجودہ حالات، گھمبےر مسائل اور ان کے حل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ جناب اورےا مقبول جان نے سات نکاتی اےجنڈہ بھی دےا جس پر اگر عملدرآمد کردےا جائے تو پاکستان کے تمام ذی شعور لوگ سمجھتے ہےں کہ بلوچستان جو اس وقت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اور جہاں سے علےحدگی کے بارے مےںآوازےں اٹھ رہی ہےں، ےہاں تک کہ امرےکہ اور ہندوستان سے مدد کےلئے بھی اپےلےں کی جارہی ہےں، اس کے حالات نہ صرف سدھر سکتے ہےں بلکہ وہاں کے عوام و خواص بھی مطمئن ہوسکتے ہےں۔ جناب اورےا مقبول جان نے سات نکاتی اےجنڈے مےں کہا کہ بلوچستان کے لوگوں مےں حکمرانوں کے بارے مےں اعتماد بحال کےا جائے، صوبے مےں از سر نو آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کےا جائے تاکہ بلوچستان کی حقےقی قےادت سامنے آسکے، نےم عسکری دستے وزےر اعلیٰ کے ماتحت ہوں کےونکہ ابھی صورتحال ےہ ہے کہ اےف سی کی اےک چےک پوسٹ ختم کرنے ےا اس کی جگہ بدلنے کے لئے بھی وزےر اعلیٰ کو وفاقی حکومت کو بےس بےس خط لکھنے پڑتے ہےں۔ بلوچ طلبہ کو پاکستان بھر کی ےونےورسٹےوں مےں داخلے دئےے جائےں تاکہ ان کے اذہان مےں جو شکوک و شبہات ہےں وہ ختم کئے جاسکےں۔ آئےن سے مشترکہ فہرست خارج کی جائے اور صوبوں کو زےادہ سے زےادہ خود مختاری دی جائے۔ جس طرح پنجاب ، سرحد اور سندھ کے عوام زمےن کے اوپر وسائل کے مالک ہےں اسی طرح بلوچستان کے عوام کو زےر زمےن وسائل کا مالک تسلےم کےا جائے اور بہتر حکمرانی کے لئے صوبوں کی تعداد بڑھائی جاے جس طرح ہندوستان نے اپنے صوبوں کی تعداد بڑھائی ہے۔ اےک اور مقرر نےئر محمود نے تجوےز دی کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کےلئے کل جماعتی کانفرنس منعقد کی جائے، انہوں نے ےہ بھی کہا کہ بلوچستان مےں احتجاج کا موجودہ سٹائل بلوچ رواےات کے مطابق نہےں۔ بلوچ کبھی سکولوں، بنکوں اور گاﺅں کو آگ نہےں لگاتے، بلکہ کچھ بےرونی طاقتےں اپنا کردار ادا کررہی ہےں جو پاکستان کو غےر مستحکم کرنا چاہتی ہےں۔ جناب الطاف قرےشی صاحب نے غےر ملکی پرےس کی رپورٹس کا حوالہ دےا کہ امرےکہ اور بھارت بلوچستان مےں بدامنی پھےلا رہے ہےں تاکہ انہےں وہاں موجود تےل کے ذخائر تک رسائی حاصل ہوسکے۔ دےگر مقررےن نے بھی بہت فکر انگےز باتےں کےں۔ وہاں اتنے پڑھے لکھے اور Intelectual لوگوں مےں بےٹھ کر نہ صرف بہت اچھا لگا بلکہ بہت کچھ سےکھنے کو ملا۔ ےقےناً الطاف قرےشی صاحب پاکستان کے لئے بہت اچھا کام کررہے ہےں، اور بلوچستان کے حوالے سے راﺅنڈ ٹےبل اجلاس غےرمعمولی اہمےت کا حامل تھا۔
بلوچستان اور سرحد کے لوگ جو اس وقت اےک عذاب سے گذر رہے ہےں، ان کے لئے آج تک ہم نے کچھ نہےں کےا، اب وقت آگےا ہے کہ ہم پنجاب اور سندھ کے لوگ آگے آئےں اور اپنے مصےبت زدہ بھائےوں کی مدد کرےں۔ سرحد اور بلوچستان کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہےں۔ ان کی محبت کے دو واقعات آج تک مےرے ذہن پر نقش ہےں۔ مےری عمر کوئی آٹھ برس تھی جب مےں اپنے والد صاحب کے ساتھ سوات گےا،وہاں اےک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے دےر، جب وہاں سے واپسی کا سفر شروع ہوا، مےں اپنے والد صاحب کی انگلی تھامے بس مےں بےٹھنے لگا تو اےک مےری عمر کا بچہ تھا جس نے سر پر بہت خوبصورت ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ مےرے والد صاحب نے وہ ٹوپی اس سے لےکر مےرے سر پر رکھی اور اےک فوٹو بنائی، ٹوپی اس بچے کو واپس کی اور ہم بھی بس مےں سوار ہوگئے۔ ابھی بس روانہ نہےں ہوئی تھی کہ اےک آدمی بس مےں داخل ہوا اور مےرے والد صاحب کو کہنے لگا کہ آپ اپنے بچے کو لےکر نےچے آجائےں۔ والد صاحب نے پوچھا کہ بھائی کےا بات ہے؟ اس نے کہا بس آپ سے کہہ دےا کہ آجائےں تو آجائےں! مےرے والد صاحب نے مےرا ہاتھ تھاما اور ہم باپ بےٹا بس سے اتر آئے۔ نےچے اترے تو اس آدمی نے والد صاحب سے ہاتھ ملاےا، مجھے بھی پےار کےا اور اس ٹوپی والے بچے کے سر سے ٹوپی اتار کر مےرے سر پر رکھ دی اور خالص مقامی لہجے مےں کہا ”ےہ ٹوپی ہمارا طرف سے تحفہ لے جاﺅ“ والد صاحب نے کہا کہ ےہ ٹوپی آپ کے بچے پر زےادہ اچھی لگ رہی ہے، اس نے اصرار کےا اور والد صاحب نے انکار، چنانچہ اس نے کہا کہ ٹھےک ہے ےہ آپ مت لےں، لےکن مجھے اپنا اےڈرےس لکھ دےں اور ساتھ ہی اےک دھاگے سے مےرے سر کا سائز لےا۔والد صاحب نے اس کو اےڈرےس دے دےا، ٹھےک پندرہ دن بعد ڈاک کے ذرےعہ ہمارے گھر اس سے بھی خوبصورت ٹوپی پہنچ چکی تھی جس کی محبت کی خوشبو آج بھی مےرے ساتھ ہے۔ دوسرا واقعہ کوئٹہ کا ہے جہاں مےں 12/13 سال کی عمر مےں اےک سکاﺅٹ جمبوری مےں اپنے سکول کی نمائندگی کے لئے گےا۔ وہاں 2/3 دوستوں کے ساتھ اےک مارکےٹ مےں جانا ہوا، دکاندار کو جب پتہ چلا کہ ہم لاہور سے آئے ہےں تو اس نے ان چند چےزوں کی قےمت لےنے سے انکار کردےا جو ہم نے وہاں سے لی تھےں۔ اس نے کہا کہ ےہ ہماری طرف سے تحفہ ہےں۔ کےا ہم باقی پاکستان کے لوگ سرحد اور بلوچستان کے عوام کو بھرپور محبت کا تحفہ نہےں دے سکتے؟ کےا ہم ان کے حقوق کی جنگ نہےں لڑ سکتے؟ کےا وکلاءکے لئے صرف عدلےہ بحالی تحرےک توشہ آخرت ہے؟ کےا پورے ملک کے عوام کو سرحد اور بلوچستان کے عوام سے اظہار ےکجہتی نہےں کرنا چاہئے؟ کےا مےڈےا کو بلوچستان اور سرحد کے عوام کی دلجوئی نہےں کرنی چاہئے؟ کےا ارباب اختےار اور پوری قوم کو دن بدن بڑھتی نفرت کو محبت مےں بدلنے کی کوئی کوشش نہےں کرنی چاہئے؟ اگر جواب ہاں مےں ہے تو دےر مت کرےں، اپنے حصہ کا فرض ادا کردےں، اپنے حصہ کا دےا جلا دےں، کہےں اےک بار پھر دےر نہ ہو جائے!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......