بازار سے آشوب اٹھالاتے ہیں گھر میں

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 06/04/2009 - 18:37

وادیٔ سوات کوجغرافیائی اعتبار سے یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی سرحدیں چین، وسط ایشیا اور جنوب ایشیا سے ملتی ہیں لیکن اس علاقے کی حریت و آزادی کی روایت و تاریخ اپنی مثال آپ ہے۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل ہندوستان کی جانب آتے ہوئے سکندر اعظم کی فوجوں نے سوات پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن یہاں کے غیور باشندوں نے انہیں مار بھگایا۔ اس کے بعد مغل اعظم اکبر کی بھی شامت اعمال اسے وہاں لے گئی اور شکست و ریخت سے دوچار ہوکر اس کی فوجوں کو لوٹنا پڑا۔ عظیم برطانوی سامراج نے یہاں بسنے والے غیور پختونوں کو غلام بنانے کا خواب دیکھا جو کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکاسوویت یونین جب اپنے پیرپھیلاتا ہوایہاں داخل ہوا تو اسے منہ کی کھانی پڑی اور بالآخر خود اس کے اپنے حصے بخرے ہوگئے۔ ۱۰۰۲ئ میں ۱۱ ستمبر کا بہانہ بنا کر امریکہ بہادر نے ناٹو کی فوجوں کے ساتھ اپنے ناپاک عزائم کے حصول کی خاطر اس علاقے کی جانب پیش قدمی کی، افغانستان میں اپنی نوسالہ ناکامی پر پردہ ڈالنے کی خاطر سوات پر میزائل سے حملے توکئے لیکن اپنی فوجوں کو اس علاقے میں بھیجنے کی جرأت نہ کرسکا۔ مجبوراً اسے پاکستانی افواج کا سہارا لینا پڑا اور فی الحال وہ ایک بلاواسطہ جنگ میں الجھا ہوا ہے جس میں ناکامی و پسپائی اس کا مقدر بننے والی ہے۔
پاکستان کے احمق حکمران امریکہ بہادر کے اشارے پر بڑے زور و شور کے ساتھ یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جس خطۂ زمین کو اپنا کہہ رہے ہیں اس وادیٔ سوات پر اوّلین حق اس میں رہنے والے باشندوں کا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ۹۶۹۱ئ تک یہ آزاد ریاست پاکستان کا حصہ نہیں تھی۔ جنرل یحییٰ خان کے زمانے میں پاٹا معاہدے کے تحت الحاق عمل میں آیا جس کے معنیٰ یہ نہیں ہوئے کہ سوات کی وادی کو پاکستانی ھہکمرانوںنے خرید لیا ہواور وہاں کی عوام ان کی زر خرید غلام ہوگئی ہو۔ جنرل یحییٰ خان کی اسی طرز فکر کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کو اپنے مشرقی بازو بنگلہ دیش سے ہاتھ دھونا پڑا، لیکن ہندوستان کی شۂ پر جب مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسند عناصر مزاحمت کر رہے تھے اس نازک موقع پر سوات کے جیالوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور اور اب پاکستانی فوج غیروں کے اشارے پر خود اپنے شہریوں کی دشمن بن گئی ہے۔ حکومت وقت طاقت کا بے جااستعمال کرنے کی پرانی روش کو دوہرا رہی ہے۔ لیکن اسے نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستانی فوج کے مظالم کا جواب دینے کی خاطر بنگلہ دیشی مظلوموں کا مغربی پاکستان میں داخل ہوکر کوئی تخریبی کارروائی کرنا ناممکن تھا جس کے باعث پاکستان تمام تر مظالم کے باوجودہر قسم کے رد عمل سے محفوظ رہا۔ لیکن سوات کا معاملہ مختلف ہے، اس کے اور پاکستان کے اہم شہروں مثلاً پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان صرف سو میل کا فاصلہ ہے یہ آسان سا خطرہ بھی ان حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے جنہوں نے اپنی عقل غیروں کے ہاتھ ڈالروں کے عوض رہن رکھ دی ہے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ ò
ہم بھی عجب لوگ سمجہتے بھی ہیں پھر بھی
بازار سے ا ٓشوب اٹھا لاتے ہیں گھر میں
افغانستان کے غیور عوام جنہوں نے سوویت یونین کی غلامی کے خلاف طویل جنگ لڑی تھی، فی الحال امریکہ کے آمرانہ جبر سے برسرپیکار ہیں۔ اس لیے کہ غلامی غلامی ہوتی ہے، آقا کے بدل لانے سے اس کی نوعیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ سوات کے لوگوں کا اس جہاد آزادی میں شامل ہونا اور اپنے بھائیوں کا تعاون کرنا ایک فطری امر ہے۔ اس لیے کہ اس مشکل کی گھڑی میں اپنے ہم مذہب، ہم زبان اور ہم نسل بھائیوں کی مدد اگر سوات کے پختون نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟ دلیری اور جانبازی جن کی فطرت ثانیہ ہے وہ اس موقع پر خاموش تماشائی بنے رہیں یہ کیونکر ممکن ہے؟ اخوت، بھائی چارہ، وفاداری اور جانثاری جیسی عظیم اقدار کے حامل ان سیدھے سادے شاہین صفت لوگوں کے لیے میدان کارزار میں آنے سے اپنے آپ کو روکے رکھنا ناممکن ہے۔ امریکی بمباری اور پاکستانی فوج کشی دونوں مل کر بھی ان حریت پسندوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتی۔
خود امریکی جنگی ماہرین کے مطابق طالبان کے پاس مجاہدین کی تعداد صرف دو سے تین ہزار کے درمیان ہے، لیکن ان پر قابو پانے کے لیے امریکہ نے خود اپنے ۸۳ ہزار اور ناٹو نے مزید ۵۲ ہزار فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کیا ہے۔ سر سے پیر تک اسلحہ سے لیس یہ فوجی جب کسی مہم پر نکلتے ہیں تو سر پر ہوائی دستہ کا سایہ ہوتا ہے جو آگے آگے بم برساتا جاتا ہے، اس کے باوجود گزشتہ ۹ سالوں میں یہ لوگ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ گزشتہ دنوں ناٹو اور امریکہ کی فوجوں کے سربراہ جنرل ڈیوڈ میک کی مین نے مزید تیس ہزار فوج کا مطالبہ کیا ، اوبامہ نے نہ صرف مطالبہ کو مسترد کردیا بلکہ دوران جنگ جنرل ڈیوڈ کی چھٹی کردی اور لیفٹیننٹ جنرل اسٹانلی میک کریسٹل کو عراق سے افغانستان روانہ کردیا۔ جو شخص عراق کے محاذ پر ناکام رہا وہ بھلا افغانستان میں کیا کرلے گا، یہ ا ہم سوال ہے؟ ویسے اسٹانلی کا واحد کارنامہ القاعدہ رہنما ابومصعب زرقاوی کی شہادت بیان کیا جاتا ہے لیکن جنگ میں کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ اس طرح کے اکا دکاواقعات کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔ عراق میں امریکہ کی شکست فاش کو خود بارک اوبامہ تسلیم کرتے ہیں اور جلد از جلد وہاں سے نکل بھاگنا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے ویتنام میں اسی طرح کی کارروائیوں میں ۰۴ ہزار ویت کانگ کو ہلاک کیا تھا اسکے باوجود بالآخر اسے ذلیل ہوکر وہاں سے بھاگنا پڑاتھا، اسی طرح کی رسوائی افغانستان میں بھی اس کی منتظر ہے۔ یہ عجب معاملہ ہے کہ اپنے ۳۶ ہزار فوجیوں کی مدد کے لیے مزید ۵۲ ہزار فوجیوں کو روانہ کرنا تو قابل تحسین ہے لیکن ان کا مقابلہ کرنے والے تین ہزار طالبان مجاہدین کی مدد کے لیے سوات کے لوگوں کا ٓگے آنا قابل نفریں عمل ہے اور ایسا کرنے کی سزا انہیں معصوم بچوں اور خواتین پر بمباری کرکے دی جارہی ہے۔ اس موقع پر چنداہم سوالات بنم لیتے ہیں۔ امریکی صدر ایک طرف عراق سے انخلا پر زور دیتے ہیں اوردوسری جانب افغانستان کے محاذ کو پھیلا کر پاکستان کی سرحدوں پر لے آتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ ایک جنگ مخالف پروفیسر کی حیٹیت سے جانے والے بارک اوبامہ کو کس چیز نے جنگی جنون میں مبتلا کرکے وحشی درندہ بنادیا ہے؟ بارک اوبامہ کیونکر یورپ کے حلیفوں کے آگے جھولی پسار کر اور پاکستانی سربراہوں کے آگے ہاتھ پھیلا کر اپنے آپ کو رسوا کر رہے ہیں؟
کابل میں سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف گراہم فولرجو سی آئی اے کی قومی خفیہ کونسل کے نائب سربراہ بھی تھے نیز مشرق وسطیٰ پر مختلف کتابوں بشمول ’’سیاسی اسلام کا مستقبل‘‘ کے مصنف ہیں حالیہ تنازعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کسی حل کے بجائے خودایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ بات گزشتہ آٹھ سالوں کے تجربہ نے ثابت کردی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دقیانوسی متشدد اسلام پسندوں پر اعتدل پسندحامیان اسلام ہی غالب آسکتے ہیں اور یہ اعتدال پسند حضرات امریکہ سے برسرجنگ ہیں۔ اس لیے دہشت گرد اور اسلامی شدت پسند ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے ہیں۔ اعتدال پسندوں کی مخالفت میں دونوں کا مشترک مفاد ہے۔ کسی بھی علاقہ پر غیر ملکی غاصبانہ قبضہ نفرت و انتقام کا سبب بنتا ہے۔ امریکہ کی غلط پالیسی کے باعث افغانستان کا مسئلہ پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہوگیا ہے اور اس کا واحد حل امریکہ کا اس علاقے سے انخلائ ہے ، اس کے بغیر حالات پر قابو پانا ناممکن ہے۔ گراہم فولر جیسے لوگ تو اعتراف کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے بارک اوبامہ اس معاملے میں اپنے پیش رو جارج بش کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ بارک اوباما کے اندر یہ عظیم انقلاب کیوں برپا ہوا؟ تبدیلی کا پیامبر خود کیسے تبدیل ہوگیا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر منصفانہ غور و خوض کے بغیر عالمی مسائل کی گتھی کو سلجھایا نہیں جاسکتا۔
امریکی سیاست میں رائے عامہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور اپنے ساتھ رکھنے کا سب سے آسان نسخہ کسی خیالی دشمن سے عوام کو خوفزدہ کرنا اور اس کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ کر عوام کا دل بہلانا ہے۔ ایسا کرنے کی خاطر کبھی سوویت یونین، کبھی ایرانی انقلاب تو کبھی بن لادن یاصدام تو کبھی طالبان کا نام استعمال کیا جاتارہاہے۔ لیکن اس طریقہ کار میں دو مسائل ہیں، اوّل تو کسی ایک جھوٹ کی بنیاد پر طویل عرصہ تک عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا، اس لیے کہ جھوٹ کا گھڑا بالآخر پھوٹ جاتا ہے۔ نیز حکومت وقت کے جرائم کوبے نقاب کئے بغیر کسی حزب اختلاف کا انتخاب لڑنا اور اپنی حکومت قائم کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں گزشتہ چند سالوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے۔ ۱۱ ستمبر ۱۰۰۲ئ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والا حملہ بش انتظامیہ کی زبردست ناکامی تھی ایسے میں اگر جارج بش کوئی بڑا ہنگامہ کھڑا نہ کرتے توممکن ہے انہیں اپنی مدت صدارت کے درمیان ہی میں مستعفی ہوکر جانے پر مجبور کردیا جاتا۔ اس لیے انہوں نے حملے کے لیے بلا تحقیق اسامہ بن لادن کو ذمہ دار ٹھہرادیا اور ان کی حفاظت کرنے والی طالبان حکومت کو ناٹو کی مدد سے معزول کردیا، لیکن اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے اپنے عزم میں ناکام ہوگئے، اس ناکامی کا کلنک ماتھے پر سجائے دوبارہ انتخاب میںکامیابی حاصل کرنا ناممکن تھا اس لیے عراق کے خلاف عمومی تباہی کے اسلحہ اور طالبان سے صدام کے تعلق کاجھوٹ گھڑا گیا اور عراق پر فوج کشی کرکے صدام حسین کو معزول کردیا گیا، لوگ اس تازہ کامیابی کے نشے میں جھوم ہی رہے تھے کہ انتخابی مہم کا آغاز ہوگیا۔ جارج بش کے مقابلے میں اس مرتبہ جان کیری انتخاب لڑ رہے تھے جو کانگریس کے اندر جنگ کی حمایت میں اپنی رائے دے چکے تھے۔ اب کیری کے لیے فوج کشی کی مخالفت کا جواز باقی نہیں رہ گیاتھا اس لیے وہ جارحیت کے بجاے جارج بش کے طریقہ کار کی مخالفت کرنے لگے۔ عمومی تباہی کے اسلحہ کے بارے میں کیری کا موقف تبدیل ہوتا رہا کبھی وہ ان کی موجودگی کا اعتراف کرتے کبھی نامکمل ثبوت کا ذکر کرتے۔ جان کیری نے عوامی دباو کے پیش نظر عراق سے ناپاک مقاصد میںحتمی کامیابی سے قبل فوجوں کی واپسی کو بھی غلط قرار دے دیا اس طرح عوام نے یہ سمجھ لیا کہ کیری کا ذہن جنگ کے معاملے میں صاف نہیں ہے وہ مسلسل تضاد بیانی کا شکار ہو رہے ہیں حالت جنگ میں ایسے ڈھل مل آدمی پر اعتماد کرکے اسکے ہاتھوں میں اقتدار دینے کے بجائے بہتر ہے ایک احمق کو برداشت کرلیا جائے۔ اس طرح جارج بش افغانستان اور عراق میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود دوسرا لیکشن جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن ان کی دوسری میقات میں عوام کا دماغ آہستہ آہستہ ٹھکانے آگیا۔ ان کی ساراجھوٹ عریاں ہو گیا۔ امریکی عوام کو عراق سے بھاگ نکلنے میں عافیت دکھائی دینے لگی اور ایسے میں بش کے وارث میک کین کی کھل کر مخالفت کرنا بارک اوباما کے لیے آسان ہوگیا۔ بارک اوباما نے ری پبلکن امیدوار کو اقتدار سے ہٹانے کی خاطر عراق سے فوجوں کی واپسی پر زور ضرور دیا، لیکن وہ جانتے تھے انتخاب میں کامیاب ہوجانے کے بعد رائے عامہ کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے کسی نہ کسی دشمن کی ضرورت باقی رہے گی اس لیے وہ روز اوّل سے عراق کے بجائے افغانستان کی بات کرتے رہے۔ اگست ۷۰۰۲ئ میں جبکہ وہ اپنی جماعت کے اندرصدارت کی امیدواری کے محض د عویدار تھے انہوں نے ایک تقریر میں اپنے خیالات کا صاف اظہار کیا جو ان کی اپنی ویب سائیٹ پر موجوداب بھی موجود ہے ۔
اپنی تقریر میں اوباما کہتے ہیں، میں عراق جنگ کا مخالف ضرور ہوں لیکن ہر جنگ کی مخالفت نہیں کرتا، صدارت کو حاصل کرنے کے بعد پہلا کام میں یہ کروں گا کہ عراق کے محاذ جنگ سے باہر نکل کر اپنی جنگ کو افغانستان اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی جانب لے جائوں گا، اس وقت جبکہ جارج بش کی زبان مشرف کی تعریف کرتے نہ تھکتی تھی اوبامہ کا پاکستان میںجنگ کا ارادہ کچھ عجیب سا لگتا تھا۔ اوبامہ انپے بیان میں نہایت واضح الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ جب میں صدر بننے کے بعد اس جنگ کو چھیڑوں گا جس میں ہماری کامیابی ناگزیر ہے۔ ہمارا طریقہ کار پانچ اجزائ پر مشتمل ہوگا، اوّل عراق سے باہر آنا اور افغانستان و پاکستان کے محاذ جنگ کی جانب کوچ کرنا۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں اور خطرناک ہتھیاروں کو اپنے قابو میں کرنے کی خاطر قدرت وصلاحیت پیدا کرنا اور اس مقصد کے حصول کی خاطرحلیفانہ معاہدہ کرنا۔ دنیاکے سارے ممالک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے تعاون نہ کرنے پر مجبور کرنا۔ ہماری اپنی اقدار کو پھر سے قائم کرنا اور مادر وطن کو محفوظ تر بنانے کی کوشش کرنا۔
مندرجہ بالا مقاصد کا جواز وہ جارج بش کی ناکامیوں سے فراہم کرتے تھے، ان کے مطابق جارج بش افغانستان میں القاعدہ کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، امریکہ نے اس جدید دشمن پر فتح حاصل کرنے کی خاطر ضروری صلاحیتیں اپنے اندر پیدا نہیں کیں۔ دہشت گردی کوحاصل ہو نے والے مدد ونصرت کو روکنے کے کی خاطر مناسب لائحہ عمل تیار نہیں کیا اور اپنی اقدار کو قائم کرنے اور ملک کو محفوظ تر بنانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اوبامہ کی ساری انتخابی مہم پر مندرجہ بالا نظریہ غالب رہا اور ان کی انتخابی کامیابی میں اس کا اپنا حصہ رہا ہے۔ اس حکمت عملی نے اوبامہ کو نہ صرف ریپبلکن پارٹی کی مخالفت کا زبردست جواز فراہم کیا بلکہ کامیابی کے بعد بھی رائے عامہ کو اپنے ساتھ رکھنے کی خاطر ایک قدیم خیالی دشمن کو نیا اوتار بنا کر پیش کرنے میں بھی مدد کی۔
انتخابات میں کامیابی کے چار ماہ بعد بارک اوبامہ نے اپنی افغان پالیسی کااعلان کیا جو اسی تقریر کا ایک عکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے سو سے زیادہ اڈوں کو تباہ کریں گے۔ انڈونیشیا تک ان کا پیچھا کریں گے، ناٹو سے مزید مدد مانگیں گے، پاکستان کی مدد پر شرائط نافذ کریں گے اور اگر مشرف ہمارے اشارے پر کام نہیں کرتے تو خود اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر پاکستان میں اقدامات کریں گے۔ جن عزائم کا اظہار تقریباً دو سال قبل بارک اوبامانے کیا تھا ان سب پر دو ماہ کے اندر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ اس لیے کہ اس سال کے اواخر میں کانگریس کا وسط مدتی انتخاب ہونا ہے۔ جنگ کا جنون کانگریس میں اپنی اکثریت کو باقی رکھنے اور اپنے من مانے ظلم و استحصال کو جاری رکھنے کی خاظر ضروری ہے۔ ماہرین کا خیال یہ ہے کہ اوبامہ ایک سال سے زیادہ اس مسئلہ کو طول نہیں دے سکتے۔ایسا کرنے سے عوام کے اندر اس کے اثرات ذایٔل ہوجائیں گے۔ گویا کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد اور۲۱۰۲ئ میں ہونے والے انتخابات سے قبل اوباما کو کوئی نیا فتنہ ایجاد کرنا ہوگا جس کے سہارے پھر سے اقتدار پر قبضہ کیا جاسکے۔ حقیقت یہی ہے کہ اقتدار کو ایک مرتبہ حاصل کرلینے کے بعد دوسری باربھی اس کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی خاطر دنیا کی عظیم ترین جمہوریت کا یہ سپوت درندگی کا یہ ننگا ناچ کر رہا ہے اور معصوم لوگوں کا ناحق خون بہارہا ہے۔
بارک اوباماکی دوسری مجبوری جس کے باعث اس کے اندر جنگ پسند ڈک چینی کی روح سرائیت کر گئی ہے یہ ہے کہ انہیں انتخابی مہم کی خاطر حاصل کئے گئے سرمایہ داروں کے قرض سے نجات حاصل کرنا ہے۔ ہندوستان جیسے مسکین ملک میں انتخابات پر ہزاروں کروڑوں روپے جھونک دیئے جاتے ہیں تو امریکہ جیسے متمول ملک میں کس قدر رقم خرچ ہوتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل کام نہیں ہے، سرمایہ دار حضرات انتخابی امیدواروں پر جیک پاٹ جیتنے کی خاطر رقم لگاتے ہیں اور بعد میں سودسمیت اسے وصول کرلیتے ہیں، یہ بھی ایک دھندہ ہے جو بڑا گندہ ہے۔ سیاستدان سرمایہ داروں کی رقم کس طرح واپس کرتے ہیں، یہ اہم سوال ہے؟ اس کے کئی طریقے ہیں، ایک تو سرمایہ داروں کو مختلف سہولیات فراہم کرنا، ان کے استحصال کو تحفظ فراہم کرنا، انہیں مختلف سرکاری ٹھیکوں سے نوازنا، نیز سرکاری اخراجات سے رقم چرا کر خود اپنی اور سرمایہ داروں کی جیب بھرناگویا بدعنوانی کے ذریعے دولت حاصل کرنا اوراسے مل بانٹ کر ہضم کرجانا۔ فی الحال امریکہ جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور جارج بش سرمایہ داروں کوبہت کچھ دے چکے ہیں اسے میں کوئی مزیداضافہ بارک اوبامہ کے لیے ممکن نہیں ہے، سرکاری اخراجات کا ایک حصہ ملک کے اندر عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے اس میں سے کسی رقم کا چرانا امریکی انتظامیہ میں ذرا مشکل کام ہے، لیکن جنگ پر ہونے والے اخراجات، اسلحہ کی فروخت پر ہونے والی آمدنی، دہشت گردی کے خلاف چلائی جانے والی مہم، وہ کام ہیں جن پر خفیہ حرکات کا پردہ پڑا رہتا ہے اور اس میں خرد برد کرنا نہایت آسان ہوتا ہے، یہ بات محض گمان کی بنیاد پر نہیں کہی جارہی بلکہ عراق کی نام نہادٓبازآبادکاری کے نام پر جو امداد کی گئی اس میں ہونے والی بدعنوانی سے ساری دنیا واقف ہے، کئی تفتیشی دستاویزات میں ان کی تفصیلموجود ہے۔ یہ امداد جن ممالک میں جائے گی ان میں سے ایک افغانستان اور دوسرا پاکستان ہے۔ افغانستان میں امریکی پٹھو حامد کرزئی حکومت کا بدعنوانی کی فہرست میں نیچے سے تیسرا نمبر ہے یعنی ۸۷۱ سب سے زیادہ رشوت خور ممالک میں ۶۷۱ نمبر۔پاکستان میں فی الحال مسٹر دس فیصد کرسی صدارت پر فائز ہیں اور اوبامہ وزیراعظم گیلانی سے زیادہ آصف زرداری پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور افغانستان کو دی جانے والی امداد کا کس قدر حصہ وہاں کی عوام تک پہنچے گا اور کس قدر کرزئی، زرداری اور اوبامہ کی جیب میں چلا جائے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ بارک اوباما نے آئندہ دس سال کا جو بجٹ تجویز کیا ہے اس میں جنگی اخراجات پر ۲ئ۸ ٹریلین ڈالر رکھے گئے ہیں، جبکہ غیر لازمی اخراجات کی خاطر صرف ۲ ٹریلین ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ ۷۰۰۲ئ میں امریکہ نے فوج پر ۴ئ۱ ٹریلین ڈالر خرچ کئے تھے جو ساری دنیا کے ذریعے کئے جانے والے فوجی خرچ کے برابر ہے۔ ان اعداد و شمار سے امریکہ کے جنگی جنون کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ ۰۱۰۲ئ میں اوبامہ فوجی اخراجات پر ۵۵۷ بلین ڈالرخرچ کرنا چاہتے ہیں ۔ جو ضروری اخراجات مثلاً قومی تحفظ، صحت عامہ، سود کی ادائیگی اور قومی خسارے کے علاوہ دیگر تمام اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ دیگر اخراجات میں عوامی فلاح و بہبود کے کام مثلاً تعلیم، زراعت، ماحولیات، مکان کی فراہمی، قومی باغ، قومی زمینی اصلاحات، عدالتی نظام، سڑک، مواصلات، سائنسی و سماجی تحقیق، پل، ڈیم، پانی کی فراہمی و نکاسی اور دیگر سماجی ترقی کے کاموں کا شمار ہوتا ہے۔
امریکہ فی الحال اپنی تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے ، وہاں کے عوام اپنے ٹیکس کی رقم میں سے سماجی فلاح و بہبود کے آج سب سے زیادہ مستحق ہیں لیکن انہیں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے صدر، منصوبے کی ترجیحات میں ان جائز ضرورتوں سے زیادہ اہمیت دور دراز ممالک میں پھیلے ہوئے خیالی دشمنوں سے جنگ کوحاصل ہے اس لیے کہ ایسا کرنے سے اوباما نہ صرف ماضی میں حاصل ہونے والا سرمایہ دار وں کا احسان چکاسکیں گے بلکہ آئندہ انتخاب میں بھی ان کے مالی تعاون کو یقینی بنائیں گے۔ اوبامہ نے گزشتہ دنوں پاک افغان سرحد پر جاری خون خرابے کو جائز ٹھہراتے ہوئے کہا، صدر مملکت کی حیثیت سے میری اوّلین ذمہ داری امریکی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ہم افغانستان پر نہ تو قابض ہونے کے لیے اور نہ اس ملک مقدر متعین کرنے کی غرض سے وہاںگئے ہیں بلکہ اس مشترکہ دشمن کا قلع قمع کرنا ہماراہدف ہے جو اپنی تشدد آمیز انتہا پسندی کے باعث امریکہ، اس کے حلیفوں، پاکستان اور افغان عوام کے لیے مصیبت بن گیا ہے۔ لیکن حقیقت اس بیان کے بالکل ہی برعکس ہے۔ درحقیقت امریکی صدر اور انتظامیہ اقتدار کی ہوس میں نہ صرف امریکی بلکہ پاکستان اور افغان عوام کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ ایک طرف پاک افغان سرحد پر معصوموں کا خون بہا رہا ہے، لاکھوں لوگوں کو بے خانماں کرکے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور کر رہا ہے اور دوسری طرف امریکی عوام کے ٹیکس کا روپیہ ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے انہیں معاشی بحران میں تنہا چھوڑ کر جنگ کے بہانے سرکاری خزانے کو لوٹ رہا ہے۔ اوبامہ کی اس ناعاقبت اندیش حکمت عملی کے نتیجہ میں معاشی بحران میں مبتلا امریکہ کا وہی حال ہوگا جو ماضی قریب میں سوویت یونین کا ہوا تھا۔ اس کا غرور خود اپنے بوجھ تلے کچل کر دم توڑ دے گا، ظلم کا یہی انجام ہوتا رہا ہے۔ وہ اپنی ابتدائ میں مستضعفین کو جزوی نقصان پہنچاتا ہے لیکن بالآخر فیصلہ کن فتح حق کے علمبرداروں کے حصہ میں آتی ہے۔ لبنان سے لے کر افغان اور غزہ سے لے کر عراق تک رونما ہونے والے واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں۔ ویسے یہ ایک حسن اتفاق ہے ماضی بعید سکندر اعظم اور مغل اعظم سے لوہا لینے والے جانباز اور ماضی قریب میں برطانوی سامراج اور سوویت یونین سے پنجہ لڑانے والے مجاہد فی الحال امریکی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے میں مصروف ہیں اور پانچویں مرتبہ کسی سپر پاور کے غرور کو مٹانے کارتبہ بلند اس علاقے کے لوگوں کا مقدر بننے جارہا ہے جنہیں نہایت پسماندہ اور غیر تہذیب یافتہ سمجھا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک افغان سرحد پر بسنے والے ان جیالے مجاہدین نے اپنے صبر و استقامت کو مدافعت کے حصار سے نکال کر اقدام کے مقام بلند پر فائز کردیا اور افتخار عارف کے اس شعر کی زندہ تعبیر بن گئے ò
تاقیامت کسی ظالم کو نہ ہو جرأت ظلم
صبر کو منزل اقدام میں رکھا جائے

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......