بابا مجھے بچا لو

Atif Aliem's picture

’’ بابا!وہ ہم پر آگ پھینک رہے ہیں ۔دیکھو بابا! میرے بازو سے خون نکل رہا ہے۔اس میں آگ بھی بھر گئی ہے۔لگتا ہے کہ میں اس آگ میں جل جاؤں گی۔ میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی ہیں ،ہماری استانیاں بھی ہیں ۔
ہم سب پیاسے ہیں اور آگ میں جل رہے ہیں ۔بابا! ہمیں پانی پلادو۔۔۔بابا! ہمیں بچالو۔۔۔بابا! مجھے بچالو۔بابا۔۔۔بابا۔۔۔بابا‘‘ (اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور)۔

یہ وہ چیخیں ہیں جو ایک باپ کے لاشعور میں سر ٹکراتی پھررہی ہیں ۔اس باپ کا شعور مر چکا ہے اور اب وہ محض ایک الجھا ہوا لاشعور ہے جس میں آنسوؤں اور چیخوں سے گتھا ہوا ایک لاوا بھرا ہے۔یہ لاوا دماغ سے نکل کر پھیلنے اور سارے میں آگ لگانے کیلئے بیتاب ہے۔باہر کا راستہ نہ ملنے پر یہ پگھلی ہوئی آگ ایسا لاوا اس کے وجود کو چاٹے جا رہا ہے۔وہ ایک طیش کے عالم میں اپنے دماغ کو اس لاوے سے خالی کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے سکون مل سکے لیکن وہ بے بس ہے ، وہ نہیں جانتا کہ کیا کرے ۔اپنی معصوم بچی کے بے گناہ خون کا کس سے حساب لے؟۔ میں بھی اس خط کو پھاڑ کر پھینکنا چاہتا ہوں ۔ اس میں فاسفورس سے سلگتے ہوئے چھرے بھرے ہیں اور میرے ہاتھ جل رہے ہیں ۔اس میں وہ سچائی لکھی ہے جس کی میں تاب نہیں لا سکتا ، میں کیا کوئی پتھر بھی اس آگ کی تپش برداشت نہیں کرسکتا۔

یہ ایک خط ہے جو میرے سامنے پڑا ہے۔اس خط کو کاغذ کے ایک دستے پر لکھا گیا ہے جو عموماً بچے چھٹیوں کا کام کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ36 صفحات پر مشتمل اس خط کا مخاطب کون ہے اور اسے لکھنے والے کا کیا نام ہے۔بہت مغز کھپانے کے باوجود یہ عقدہ نہیں کھلتا کہ جس نے یہ خط لکھا وہ کہاں رہتا ہے اور اس نے یہ خط مجھے کیوں بھیجا۔اسے نہایت باریک اور الجھی ہوئی لکھائی میں تحریر کرنے کی کوشش کی گئی ہے یوں کہ چھوٹے چھوٹے الفاظ ایک دوسرے میں گھسے جاتے ہیں ۔انہیں الگ الگ کرکے پڑھنا ایک کار دارد ہے ۔میں بھی اس خط کو جو سرسری طور پر دیکھے سے ہی کسی ہوش و حواس سے گریزاں شخص کا ہذیان دکھائی دیتا ہے ، ایک نظر دیکھ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا لیکن مجھ سے یہ نہیں ہوسکا۔اس خط میں کچھ ایسا تھا جس نے مجھے مجبور کردیا کہ میں اپنی سماجی مصروفیات کو ایک طرف ڈال کر اس کے الجھاوے میں الجھ جاؤں ۔یہ خط شروع سے آخر تک ایک کہانی پر مشتمل ہے لیکن ایسی کہانی جو تجرید کی خاردار جھاڑیوں میں بری طرح سے الجھی ہوئی ہے۔ کئی دنوں کی دماغ سوزی کے بعد میں مشکل سے اس کے آٹھ دس صفحات پڑھنے اور اس میں د رج رطب و یابس کی گہرائی میں اترنے میں کسی حد تک کامیاب ہوسکا ہوں ۔ میں آنسوؤں
میں بھیگی اور خون میں لتھڑی اس کہانی کی دہلیز پر کھڑا ہوں اور اس دہلیز کے پار انسان کا مقدر کھڑا مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے۔

اس کہانی کا راوی ضلع راولپنڈی کے کسی نواحی گاؤں سے تعلق رکھتا ہے۔ خط کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی دوسرے انسانوں کی طرح معمول کی زندگی بسر کیا کرتا تھا۔یہ شخص جس کا کوئی چہرہ اور کوئی نام نہیں ہے اپنی نارمل زندگی میں معقول حد تک پڑھا لکھا تھا اور اسلام آباد کے کسی سرکاری محکمے میں کلرک تھا۔وہ جس محکمے میں تھا وہاں ہر کام کے ریٹ مقرر تھے ۔جائز کام کے ریٹ الگ تھے اورنا جائز کے الگ۔محکمے کے عملے نے خود کو ضمیر کی مار سے بچانے کیلئے رشوت کا نام کمیشن رکھ چھوڑا تھا۔اس کمیشن میں اوپر سے نیچے تک سب لوگ حصہ دار تھے سوائے اس اہلکار کے جو ہماری کہانی کا راوی ہے۔وہ رزق حلال پر بے لچک یقین رکھتا تھا ۔اپنی اصول پسندی کے باعث وہ اپنے دفتری ساتھیوں کی نفرت اور تحقیر کا نشانہ بنا کرتا تھا ۔اسے اپنی طرح کا بننے پر مجبور کرنے کیلئے اس کے افسر اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے ۔اس پر اضافی کام کا بوجھ ڈال دیا جاتا اور اس کی اے سی آر خراب کردی جاتی تھی۔اس کی بیوی اور سسرالیوں کی دانست میں بھی وہ کچھ ایسے ہی سلوک کا مستحق تھا۔ان کے خیال میں و ہ پتھر کے زمانے کی اخلاقیات پر کاربند رہ کر اپنے بچوں کے ساتھ دشمنی کا مرتکب ہورہا تھا۔ لیکن وہ اس پر بھی خوش تھا کہ ایمانداری کی یہ قیمت اس کی دانست میں کچھ زیادہ نہیں تھی۔

اس کے چھ بچے تھے اور تنخواہ؟اتنی قلیل تنخواہ کہ بچوں کی روٹی بھی پوری نہ ہو ، تعلیم کا کیا سوال؟ ۔ اس کی بڑی بیٹی کی عمر آٹھ نو برس رہی ہوگی،چند سال اور گذرتے کہ شادی کی فکر سر پر سوار ہوجاتی۔اس کی موت سے دو سال پہلے اس نے اسے جامعہ حفصہ میں داخل کرا دیا تھا کہ بوجھ کچھ تو کم ہو،مستقبل کی ہولناکیوں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل تو ہو۔جامعہ حفصہ میں کم از کم نوے فیصد بچیاں ایسی تھیں جو اپنے ماں باپ کیلئے بوجھ تھیں ۔ان کیلئے ترجیح مذہبی تعلیم نہیں بلکہ اس بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنا تھا جس کی موجودگی میں وہ شاہراہ حیات پر دو قدم چلنے سے بھی معذور تھے۔

اور پھر اس دن کا تاریک سورج طلوع ہوا جب اسلام آباد کے مکینوں نے کھلی آنکھوں آگ اور خون کا کھیل دیکھا۔وہاں کیا ہوا، کیا نہیں ، کبھی کوئی نہ جان پائے گا۔ لیکن وہ چیخیں ، وہ فریادیں ،وہ دہائی دیتی معصوم پکار ’’ بابا! مجھے بچالو۔۔۔‘‘

آوازیں کبھی نہیں مرتیں ، ہوا کی مہربان آغوش میں سمٹ جاتی ہیں اور اجتماعی لاشعور کی تہہ میں چھپ کربیٹھ جاتی ہیں ۔ہمارے راوی نے بھی اپنی بیٹی کی کوئی فریاد نہیں سنی،کوئی چیخ ، کوئی حال دہائی اس تک نہیں پہنچی لیکن ہواؤں نے اسے سب کچھ بتادیا اور اس نے شعور کی دنیا سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔اس نے لکھا ’’میں دن رات چلتا رہتا ہوں ۔جب میرے پاؤں پتھرا جاتے ہیں اور آنکھیں بند ہوجاتی ہیں تو کہیں گر کر سورہتا ہوں ۔میں چلتا رہتا ہوں کہ میں چلنے پر مجبور ہوں ۔میں جب بھی تھک کر بیٹھتا ہوں تو میری بیٹی کی فریاد میرے دل کو کاٹنے لگتی ہے۔’’بابا! میں پیاسی ہوں ، مجھے پانی پلاؤ۔بابا! میں جل رہی ہوں اور مررہی ہوں ۔جلدی آؤ بابا! مجھے بچالو۔‘‘

فاسفورس کی آگ میں لپٹی ہوئی اس کی بچی جس کو اس نے بوجھ جان کر مدرسے میں ڈال دیا تھا کہ نان جویں میں ایک حصہ تو کم ہو،اس کے دوسرے بچے تو پیٹ بھر کر کھاسکیں ،شعلوں کا کفن پہنے اس کے تعاقب میں ہے۔وہ اس کی ان سنی فریادوں کی تاب نہیں لاسکتا ۔وہ چلتا رہتا ہے کہ کہیں دور نکل جائے لیکن اس کیلئے کوئی راستہ نہیں ، دائروں کا الجھاؤ ہے اور زمین کا دامن اس کیلئے تنگ ہوچکا ہے۔اسے قدم قدم چلتے رہنا ہے اور لمحہ لمحہ مرتے رہنا ہے۔

اس کا الجھا ہوا بے ربط خط جو جانے اس نے مجھے کیوں بھیجا تھا، میرے دماغ کی چولیں ہلائے دیتا ہے لیکن میں اس آخر تک پڑھنے پر مجبور ہوں کہ میں ایک کہانی کی دہلیز پر کھڑا ہوں اور اس دہلیز کے پار انسان کا ازلی مقدر مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔کوئی یہ خط میرے ہاتھ سے چھین لے، میرے ہاتھ جل رہے ہیں ۔میں اس خط کو مزید پڑھنے کی تاب نہیں لاسکتا۔میں اس کہانی سے نظریں نہیں ملا سکتا جو انسان کا ازلی مقدر ہے۔یہ مقدر جو ایک بے رحم معاشرے نے جانے کتنے کچلے اور بھوسے کی طرح کھائے ہوئے انسانوں پر مسلط کررکھا ہے۔

Share this
No votes yet