اے شہر بے مثال تیرے بام و در کی خیر

Atif Aliem's picture

اے شہر بے مثال تیرے بام و در کی خیر
عاطف علیم
کالم بعنوان: آہٹ

کیسے کیسے گھر تھے جو موت نے اپنے قیام کیلئے منتخب کئے۔پہلا ٹھکانہ وزیرستان، اس کے بعد ایک ایک کرکے باجوڑ، کرم ایجنسی، ٹانک، بنوں، پشاور، وادی سوات، راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی اور اب تازہ ترین ٹھکانہ لاہور۔موت کو مبارک ہو کہ اسے ایک اور بسا بسایا، سجا سجایا گھر مل گیا اور اہل لاہور کو خبر ہو کہ ان کی زنددہ دلی کے دن تمام ہوئے۔

طے پاچکا ہے کہ منظر نامے کی دہشت ناکی کو کامل و اکمل بنانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جائے۔کوئی شہر ایسا نہ رہ جائے جو موت کے تاریک سائیوں کی رسائی سے دور ہو اور کوئی کوچہ قریہ ایسا نہ بچے جو زندگی کی رنگینیوں سے معمور ہو۔ہم لاہور کی بے ترتیب رونقوں کو دیکھ دیکھ خوش ہوا کرتے تھے کہ اس خوں رنگ موسم میں کوئی تو ایسا شہر بچا ہے جہاںطعام گاہیں اور تفریح گاہیں آباد ہیں اور جہاں انسانی مصائب کی تمام تر سنگینیوں کے باوجود زندگی اپنی تمام تر زندہ دلی کے ساتھ مسکرا رہی ہے۔ہم جانتے تھے کہ موت گھات لگائے بیٹھی ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ اس شہر بے مثال کے بام و در بھی لہو کے چھینٹوں سے آشنا ہوجائیں گے ،اس کی رونقوں پر بھی شب خون مارا جائے گا اور اس کے اچڑے برجوں پر بھی کمند ڈال دی جائے گی سو یہی ہوا۔موت نے یہ گھر بھی دیکھ لیا اور اب جانے کل کو اس کا کیا نقشہ اور کیا حال ہو۔
اہم سوال یہ نہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کی دہلیز پر بم دھماکہ یا خود کش حملہ وکلا کو ایک حتمی شٹ اپ کال دینے کیلئے کرایا گیا یا اس کا ہدف وکلا کو برسر عام’’ شر انگیزی‘‘ سے روکنے پر مامور پولیس والے تھے۔ان میں سے جو بھی نشانہ تھا اس کی نوعیت ضمنی تھی جیسے گیہوں کے ساتھ گھن پس جائے۔ حملہ آور اور اس کے پیچھے سات پردوں میں چھپے شکاریوں کا اصل ہدف لاہور کا امن تھا۔وہ جو کوئی بھی ہیں شاید بہت جلدی میں ہیں۔وہ بہت جلدی جلدی موت کاجال چہار سو پھیلانے کیلئے بے تاب ہیں تاکہ اس کے بعد وہ اطمینان اور یک سوئی کے ساتھ اپنی بلیک کامیڈی کا اگلا ایکٹ سٹیج کرسکیں۔شاید وہ ہیجان خیزی اور دہشتناکی سے بھر پور پہلے ایکٹ کی طوالت سے بور ہوتے جارہے ہیں۔اسی باعث انہوں نے لاہور کا انتخاب کرلیا ہے جو دھماکوں اور انسانی چیخوں سے کچھ پرے امن و عافیت کا آخری قلعہ تھا۔

شہر لاہو دنیا کے ان چند بزرگ شہروں میں ایک ہے جہاں انسانی رشتوں کے تانے بانے اور داخلی ارتقا نے خارجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر ایک عظیم الشان مقامی تہذیب کے آبیاری کی ہے۔بر صغیر میں لاہور صدیوں سے ثقافت اور علم کا مرکز رہا ہے۔اس شہر کے باسیوں کو اپنی رہتل اورتہذیب ہمیشہ سے عزیز رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ برصغیر میں سیاسی شورشوں اور اقتدار کے جھگڑوں سے اپنا دامن بچائے رکھا ۔اس شہر نے بیرونی حملہ آوروں سے بھی بہت کم کم جھگڑا مول لیا ہے۔لاہور شہر کے اس مزاج سے آشنائی نہ رکھنے والوں نے اس بات پر اسے مطعون بھی کیا لیکن وہ بے خبر ہیں کہ اس جہان صغیر میں جسے متحدہ ہندوستان کہا جاتا تھا لاہور کا کردار دوسرے بڑے شہروں سے یکسر مختلف تھا۔اپنے گردا گرد پھیلے بد حالیوں اور شورشوں کے سمندر میں لاہور کی حیثیت امن اور خوشحالی کے ایک جزیرے کی سی تھی۔اس کا ایک کام یہ تھا کہ برصغیر کے صدیوں قدیم عدم استحکام میں اس خطے کی تہذیب کو اپنے دامن میں سموئے رکھے اور دوسرا کام جو یہ آج تک طعنوں کی بوچھاڑ میں بھی کرتا آرہا ہے یہ تھا خود بھی پیٹ بھر کر کھائے اور دوسروں کو بھی پیٹ بھرنے میں مدد دے۔ اس کا یہی احساس ذمہ داری تھا جس کے باعث اس نے جنگوں میں اپنی توانائیوں کوصرف نہ ہونے دیا۔یہاںباہر سے جب بھی کوئی آنکھوں میں خون بھر آیا اس شہر نے اسے اپنے رنگ میں رنگا اور پھر دلی کا راستہ دکھا دیا۔لے دے کر گذشتہ صدی میں چالیس سے ستر کی دھائی تک کا ایک مختصر سا عرصہ ایسا گذرا ہے جب اس دار الامن نے سیاسی سرگرمیوں میں اپنا سرگرم کردار ادا کرنے کا تجربہ کیا تھا۔وہ بھی اس لئے کہ تاریخ کا یہ ایسا مرحلہ تھا جب لاہور کے پاس اپنا زور بازو دکھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔اس ایک عرصے کے سوا یہاں راوی نے جب بھی لکھا چین ہی لکھا۔لیکن یہ گئے دنوں کی بات تھی۔اب معاملات کچھ اور ہیں۔طے پاچکا ہے کہ اب یہاں بھی وہی منظر دہرائے جائیں گے جو وزیر ستان سے کراچی تک بے گناہ اور امن و عافیت کیلئے ترسے ہوئے انسانوں کا مقدر بنائے جاچکے ہیں۔وہی مسخ شدہ لاشیں، وہی چیخ و پکار کرتے زخمی ،وہی لہو رنگ المیے اور ان المیوں سے پھوٹتے ان گنت المیے،وہی گھر گھر سے اٹھتی بین کی کربناک صدائیں اور وہی روٹین کے سرکاری بیانات۔

لاہور کا پر امن اور پر تہذیب ماضی اب سمجھو کہ مرحوم ہوا۔وہ کوئی اور یگ تھا اب کل یگ ہے ۔لاہور کا امن و خوشحالی کے جزیرے کا معاملہ تمام ہوا اب اسے بھی ارض پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح دریائے خون میں ڈبونے کی تیاری ہے ۔زندہ دلان لاہور اپنے دلوں کو تھام لیں کہ ان میں اب سو طرح کے نشتر اتریں گے۔اب وہ الیکشن کی گرم بازاری پر حسرت کی آخری نگاہ ڈالیں اور اپنی جانوں کی خیر منائیں ۔ مناسب ہے کہ تمام لوگ اپنے قہقہوں کو تھام لیں اور اپنی آنکھوں میں خوف بھر لیں۔وقت آن پہنچا ہے کہ وہ طعام گاہوں، تفریح گاہوں، مارکیٹوں، بازاروں اور گلی کوچوں کو اپنے وجود سے خالی کرلیں اور اپنے گھروں میں چھپ جائیںکہ ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ نے اب ان کے گھروں کی دہلیز تک اپنا دامن پھیلا دیا ہے۔
رواج ٹھہرا ہے کہ اس مرحلہ وار جنگ کے کسی ایک مرحلے میں کسی ایک شہر کو نشانے پر رکھ لیا جائے اور پے در پے خونی مناظر تخلیق کئے جائیںتا وقتیکہ شہر کی رونقیں دہشت اور سیکورٹی کی دیگ میں دم پخت ہوجائیں۔حکمت عملی یہ ہے کہ جس شہر کو ٹارگٹ کیا جائے وہاں نام نہاد خود کش حملوں کا دورانیہ آہستہ آہستہ کم سے کم کیا جائے تاکہ جنازے اٹھانے والوں کو دم لینے کی مہلت نہ ملے اور گھروں سے اٹھتی بین کی صداؤں کا تسلسل نہ ٹوٹنے پائے۔ اہل لاہور اپنے حوصلوں کو تھام لیں کہ موت کا یہ رواج اب لاہور شہر میں بھی عام کیا جائے گا۔اہل لاہور الحمرا کی سٹیج پر کھیلے جانے والے ڈرامے بہت دیکھ چکے اب انہیں اس تھیڑیکل کمپنی کے کمالات بھی دیکھنا ہوں گے جس کے کارپردازوں میں پہاڑوں کی اوٹ میں چھپے مقدس دہشت گردوں سے لے کر ہاتھ میں طرح طرح کے نقشے لے کر پھرنے والوں تک جانے کون کون شامل ہے۔سو امن اور عافیت کی مہلت تمام ہوئی۔اب اہل لاہور کو کھلی آنکھوں سے اس رقص ابلیس کا نظارہ کرنا ہی ہوگا کہ طے پاچکا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں اس خونی ڈرامے کا پہلا ایکٹ تمام کردیا جائے اور سکرپٹ کے مطابق دوسرا ایکٹ شروع کیا جائے۔دوسرا ایکٹ جس میں معاملات کی نوعیت کچھ اور کی اور ہوگی۔
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

Ae Shehar e Bemisal Tarey Baam o Darr Ki Khair

Share this
No votes yet

Comments

Mohammad-Ilyas's picture

افسوس

یقینا" بڑے افسوس کا مقام ہے۔