ایکواڈور: امریکہ کاجمہوریت کش حملہ ناکام - - By: ibn-e-Umeed اِبنِ اُمید

Ibn-e-Umeed's picture

ایک اور عوامی لاطینی رہنما کی منتخب حکومت کے خلاف ارادہِ قتل کی ایف آئی آر میں واشنگٹن کے واضح فنگر پرنٹس ریکارڈ کر لئے گئے ۔ 9/11 کے بعد سے اب تک واشنگٹن یا سی آئی اے نے لاطینی امریکہ میں منتخب انقلابی حکومتوں کے خلاف چار فوجی بغاوتیں کرانے کی کوشش کی ھے، جن میں سے دو کامیاب ہوئیں جبکہ دو ناکام۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کے خلاف ہونڈوراس میں اور ہیٹی میں 2004 ء میں جین برٹرینڈ کی منتخب حکومتوںپر امریکہ سپانسرڈ کامیاب جمہوریت کش حملے کئے گئے جبکہ وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے خلاف 2002ءمیں اور ایکواڈور میں رافیل کوریا کے خلاف گزشتہ ہفتے 30 ستمبر 2010ء کو منتخب عوامی حکومتوں کے خلاف ایسے ہی حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ متذکرہ بالا چار جمہوریت کش فوجی حملوں میں سے دو صدر بش جبکہ دو صدراوباما کے دورِ حکومت میں ہوئے۔ 2009 ء میں مینو ئل زیلا کی حکومت کے خلاف ہونڈوراس میں کامیاب فوجی بغاوت نے امریکی جنونیوں کو اپنے اگلے ہدف کے طور پرایکواڈور کو نشانہ بنانے کے لئے اُکسایا تاکہ خطے میں ہیوگو شاویزکو تنہا کیا جا سکے۔

خبروں کے مطابق وفادارفوجیوں نے ایکواڈور کے دارلخلافہ کیوٹو میں جمعرات کی رات ایک پولیس ہسپتال میں گھس کر صدر رافیل کوریا کو پولیس فورسز کے باغی عناصر سے گولیوں کے تبادلے کے بعد رہا کرا لیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نواز باغی عناصر نے ہوائی اڈے اور ہائی ویز ٹائر جلا کر بند کر دیئے اور محصور صدر کو نہ صرف جان سے مارنے کی کوشش کی گئی بلکہ باغیوں نے منصوبے کے تحت ایک ائیر بیس اور پارلیمنٹ پر بھی قبضہ کر لیا ، اور کیوٹو کی سڑکوں پرپولیس افسران کی مراعات میں کمی کو بنیاد بنا کر احتجاج کیاحالانکہ صدر رافیل کوریا نے حال ہی میں پولیس سپاہیوں کی تنخواہیں دوگنا کر دی تھیں۔ تاہم غصے سے بپھرے پرجوش عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر اپنے محبوب قائد کے حق میں نعرے لگائے اور ہسپتال کو گھیرے میں لے کر صدر رافیل کوریا کی رہائی اور منتخب آئینی حکومت کے خلاف اس مبینہ بغاوت کو ناکام بنا دیا۔

سی آئی اے کی طرف سے تیار کئے گئے منصوبے کے مطابق ، باغیوں کے سرغنہ اپوزیشن لیڈرگیوٹیرز نے "آمر" صدر رافیل کوریاکی برطرفی ، پارلیمنٹ کو توڑنے ، نئے انتخابات کرانے اور اختیارات کی عارضی حکومت کو منتقلی کا اعلان ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کرنا تھا تاہم سازشی عناصر صدر رافیل کوریاکے وفادار محافظوں کی طرف سے مذاحمت کے نتیجے میں اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور ٹی وی تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رھے۔

گزشتہ کئی سالوں سے ایکواڈور کی پولیس کو امریکی سفارت خانے کی جانب سے خطے میں اپنے مفادات کی نگرانی کے لئے مسلسل نوازا گیا۔ ایف بی آئی ، سی آئی اے، ڈی ای اے اور دوسرے امریکی اداروں کی طرف سے پولیس کے اعلی افسران کو خصوصی بونس اور پیشہ ورانہ سازوسامان کے نام پر غیر معمولی فنڈز کی فراہمی ایک معمول بن گیا تھا۔ اور یہ باہمی"تعاون" اتنا خوشگوار ہو گیاتھا کہ امریکی انٹیلی جنس نے کئی دفعہ ایکواڈور پولیس اور انٹیلی جنس سروس کو ایکواڈور کے ہی امریکہ مخالف خیال کئے جانے والے سیاستدانوں اورصحافیوں کی نگرانی کے لئے استعمال کیا۔ حتی کہ ایکواڈورپر اس کے ہمسایہ ملک کولمبیا کی جانب سے فارک کیمپ پر بمباری کے بحران کے دنوں میں ایکواڈور کے انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خفیہ طور پر امریکی ساتھیوں کو لمحہ بہ لمحہ معلومات پہنچانے کا بھی انکشاف ہوا۔ جنوری2007ء میںرافیل کوریا کی انتظامیہ نے کافی حد تک ایکواڈور کے انٹیلی جنس اداروں پر کنٹرول حاصل کرکے انہیں محب وطن ادروں میں ڈھالنے کے کٹھن کام کا آغاز کیااورکسی بھی ملک یا غیرملکی سفارتخانے سے غیر سرکاری یا غیر رسمی تعلقات رکھنے یا کسی قسم کی خفیہ مراعات لینے کی سختی سے ممانعت کی۔

صدر رافیل کوریا نے بغاوت کی ناکامی پر اپنی رہائی کے بعد خطاب میں واضح طور پر کہا کہ یہ دراصل پولیس یا فوجی افسران کی مراعات میں کمی کا مسئلہ قطعًا نہیں تھا بلکہ یہ سامراج کے گماشتوں اور غدارانِ وطن کی جانب سے غیر ملکی اشاروں پر انقلابی عوامی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک بزدلانہ کوشش تھی جسے شدید عوامی ردِعمل نے ناکام بنا دیا۔ نیزانہوں نے واضح کیا کہ سازشی عناصر جان لیں کہ اب وہ کبھی چور دروازے سے اقتدار تک نہیں پہنچ سکیں گے اور اقتدار کا واحد راستہ انتخابات میں عوامی حمایت سے ہو کر گزاتا ھے۔ انہوںنے مذید کہا کہ وہ پہلے کی طرح اپنے عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ملک اورقوم کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریںگے۔

صدر رافیل کوریا کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی یہ کوشش اگست 2008میں اپنا چارج سنبھالنے والی ایکواڈور میں امریکی سفیر ہیتھر ہاگس کی خصوصی نگرانی میں کی گئی جو اس سے پہلے گوئٹے مالا میں اپنی تعیناتی کے دوران خونی آمر رائس ماؤنٹ کے دورایک ایسا ہی کارنامہ انجام دے چکی ہیں۔ نیز وہ اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے کیوبا کے لئے مخصوص ڈویژن جو سی آئی اے کے زیرِنگرانی کام کرتا ھے ، میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔نیز مالدووا میں بحیثیت امریکی سفیر اپنے قیام کے دوران مغرب نواز این جی اوز کی مدد سے روس مخالف نام نہاد انقلاب کی ناکام کوشش کے لئے بھی بدنام ہیں اور اس وقت اس کے تربیت یافتہ لوگ وینزویلا ، بولیویا ، اور ایکواڈور میں سی آئی اے کے اسٹیشنز پر کام کر رھے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے گذشتہ جون مین حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایکواڈور کے دارلخلافہ کیوٹوکا دورہ بھی کیا اور صدررافیل کوریا کو شاویز مخالف پالیسی بنانے کے لئے آمادہ کرنے میں ناکامی پر انہوں نے اپنی پہلے سے تیاریاں مکمل کئے بیٹھی امریکی سفیر کو حکومتی تختہ الٹنے کے لئے آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اور مقصد کے حصول کے لئے صرف یو ایس ایڈ کی جانب سے اپوزیشن لیڈرکو 40 ملین امریکی ڈالر کی خصوصی مالی امداد بھی دی گئی۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان فلپ کرولی نے اس بحران کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ساری صورتحال کامشاہدہ کر رھے ہیں"نہ کہ وہ یہ کہتے کہ ہم اس غیرجمہوری اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے 2009 ء میں مینو ئل زیلا کے خلاف ایسے ہی اقدام کی مذمت کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا حالانکہ لاطینی امریکہ کی تمام ریاستوں نے ان کی فوری اور غیر مشروط واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ واشنگٹن صدر رافیل کوریا کے ونزویلا کے صدرہیوگو شاویز اور نکاراگوا کی حکومت سے قریبی تعلقات اور ڈبلیو ٹی او ، نافٹا کی طرز پر متبادل تجارتی تنظیم "البا "کی رکنیت کی وجہ سے سخت مخالف ھے ۔ البا کے بنیادی اصولوں میں سپورٹ نہ کہ مقابلہ، تعاون نہ کہ استحصال اور ہر ملک کی خودمختاری کا مکمل احترام شامل ھے۔ نیز اس معاہدے کے تحت ممبر ممالک اپنے شہریوں کو بااختیار بنانے ، بنیادی انسانی ضرورتوں کی بآسانی فراہمی اور حقیقی اقتصادی ترقی کے ذریعے عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور غربت کو ختم کرنے کی منزل کے حصول کے لئے خطے میںمشترکہ طور پر مصروفِ عمل ہیں۔ چونکہ البا تنظیم کی کامیابی نے خطے میںامریکہ کی تھانیداری، اثرو رسوخ اور سب سے بڑھ کر معاشی و تجارتی مفادات کو چیلنج کیا ھے لہذا وہ باؤلے کتے کی طرح ہر ایک کو کاٹتا پھرتا ھے۔

▓▓░░░♥ LET ME SAY! ♥░░░▓▓

مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
کہ جن کی را ئے کو تم نے
یہاں بوٹوں سے روندا ھے
کہ جن کو حقِ گوےائی
دیا سنگینوں کے سائے
کہ جن کو سچ مسخ کر تم
نصابوں میں پڑھاتے ہو

مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاں جمہور کو تم لوگ
فقط حشرات گنتے ہو
جہاں قانون مکڑی کے
فقط جالے کی مانند ھے
جو ہم جےسے نحیفوں کو
جکڑ لےتا ھے بے وجہ
اور جِسے تم چِیر کر ہر روز
یونہی آذاد پھرتے ہو

مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاں میں سوچ سکتا ہوں
مگر بس سوچ کی حد تک
وگرنہ سوچنے کے کچھ
یہاں آداب ہوتے ہیں
مگر مَیں بے ادب سا ہوں
ہمیشہ بِن اِرادے کے
حدوں کو توڑ دیتا ہوں
مَیں بیزارِ ہدایت ہوں
شروع سے بے روایت ہوں

مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاں پر بے ضمیروں کا
لگا بازار دیکھا ھے
جہاں بہتاتِ رسد کے باوصف
کبھی مندا نہیں ہوتا
جہاں ریاست کے کل پُرزے
بکاؤ مال ہیں سارے
یہاں کردار کا مخزن بھی بے کردار دیکھا ھے
اور مسیحائی کے پردے میں بھی کاروبار دیکھا ھے

یہاں جھوٹ اور ڈِھٹائی کا
رواج ایسے پڑا دیکھا
کہ سچ خود کے گریباں میں
شرم سے تار دیکھا ھے
یہاں پر باضمیروں کو
سدا لاچار ھے پایا
مگر موقع شناسوں کو
بَنا اوتار دیکھا ھے

مَیں نسلوں کی گواہی ہوں
جہاںہر شاہ کے دَر پہ
کئیے مُنصف نے سجدے ہیں
جنازے آس کے ہم نے
یہاں اکثر اُٹھائے ہیں
مگر اُمید کے مُردار
کِسی عیسٰیؑ کے طالب ہیں
جو اِن میں زندگی پھُونکے
اور اِن کو بَس یقیں دے دے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com/

Share this
Your rating: None Average: 4 (1 vote)