ایٹمی اثاثے ۔۔۔یا کھلونا پٹاخے زبیر احمد ظہیر?

Submitted by imkanaat on Sun, 06/14/2009 - 08:42

ایٹمی اثاثے ہیں کھلونا پٹاخے نہیں

زبیرا حمد ظہیر

کیا پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں؟امریکہ کی القاعدہ کے خلاف جنگ عملاًناکام ہوگئی ہے یہ وہ زمینی حقیقت ہے جس نے امریکا کو نیا ایشو کھڑا کرنے پر اکسایا اوراسلامی ایٹم بم سے بڑا کوئی ایشو نہیں۔ پاکستان واحداسلامی ایٹمی ملک ہے۔ امریکا پاکستان کو عبرت کی مثال بنانے پر تل گیا ہے تاکہ کو ئی مسلم ملک جوہری ہتھیار بنانے کی جرات نہ کرسکے۔ قبائلی علاقوں میں شورش ہماری وہ دکھتی رگ ہے جس کی درد ناک لہروں نے ملک کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیااس کمزوری کو امریکا نے یہاں تک استعمال کیاہے کہ پاک بھارت سرحد پر فوجیں لابٹھانے کے اس نے منصوبے بنا ڈالے ہیں۔ جوہری اثاثوںپر پاکستان کوکسی بھی لمحے بلیک میل کیا جاسکتا ہے لہذا پاکستان نے جو ںہی ڈرو ن حملوں کوروکنے پر زوردیا اور ڈرون ٹیکنالوجی مانگ لی ،امریکا نے جوہری اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔

جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے کا پروپیگنڈا اس کثرت سے ہونے لگا کہ جوہری اثاثے نہیں کھلونا پٹاخے معلوم ہوتے ہیں جنہیں جس بچے نے چاہا پھوڑ دیا۔سچ تویہ ہے کہ ہمارے جوہری اثاثے ایسے محفوظ ہیں کہ خود امریکا تک کومعلوم نہیں یہ لاعلمی اسے تشویش میں مبتلا کرگئی اس نے لاکھ کوشش کر لی مگر وہ مفروضوں سے باہر نہ نکل سکا ان مفروضوںنے اسے خوف میں مبتلا کردیا اوریہ تشویش آگے چل کر فوبیا بن گئی۔

پاکستان کے جوہری اثاثوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کتنا مضبوط ہے یہ جاننے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ان کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے کئی جانبازوں نے اپنی ساری زندگیاں اس ہی مقصد کے لیے وقف کردی ہیں۔ قوم نے پیٹ کاٹ کر یہ دولت حاصل کی، فوج نے قوم کی اس قربانی کی لاج رکھی اوراسکے تحفظ میں کوئی کمی نہ آنے دی لہذا پاکستانی قوم آج فوج کے جن کارناموں پر فخر کرسکتی ہے ان میںایٹمی اثاثوں کی رازداری اور حفاظت سرفہرست ہے قوم نے اس احسان کے بدلے میںسقوط ڈھاکہ پر خاموشی اختیار کر لی پاکستانی قوم فوج کے ماضی کا ہر قصور معاف کرسکتی ہے لیکن ایٹمی اثاثوں کے نقصان کاجرم کبھی معاف نہ ہوگا،سقوط ڈھاکہ کی ناکامی نے ہمیں ایٹمی قوت بنایااورایٹمی قوت کی حفاظت میں ناکامی کے بعدتاریخ ہمیں کوئی موقع دینے کو تیار نہیں ،اس نزاکت اورقومی فریضے کا پاک فوج کو احساس ر ہا۔

ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کی پاداش میں فوج نے بدنامی مول لی ،ایٹمی اثاثوں کے تحفظ اور رازداری کی دکھی داستان کی گہرائیوں میں اگر ہم جائیں تو فوج کے حکومت میں آنے کی غلطی کو مجبوری تسلیم کرتے بنے گی۔ ایٹمی اثاثوں کی محافظ فوج کو اس کی پاداش میں کتنی سازشوں کا شکار ہونا پڑا، آمریت کی آڑ میں فوج کے خلاف رائے عامہ اتنی ہموار کردی گئی کہ فوج کو نفرت کی علامت بنانے کی سازش کامیاب معلوم ہوتی دکھائی دے رہی ہے ان سازشوں کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ہماری فوج آج ان لوگوں کے خلاف لڑنے پر مجبور ہے جنہوں نے کسی بھی بیرونی جارحیت میں ہمیشہ پاک فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دیامذہبی عناصرکے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کے پروپیگنڈے کی کوئی حقیقت نہیں، اسلامی تحریکیں جہاں کہیں اپنی حکومتوں کے خلاف صف آراء ہیں ان کی نفسیات یہ رہی ہے کہ یہ علیحدگی پسند نہیں ہوتیں۔

پاکستان میں کسی مذہبی جماعت یا تحریک پر علیحدگی پسندی کا الزام نہیں اصل معاملہ یہ ہے کہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں مذہب پر انتقام کی آگ غالب آگ چکی ہے اس انتقام کو قبائلی روایات میں رچی اسلام پسندی نے ایسی جنگ بنا دیا ہے جو نظر آنے میں مذہبی جنگ دکھائی دیتی ہے مگرہے وہ قبائل کی صدیوں پرانی روایت ،جس کسی نے ان کے معاملات میں مداخلت کی اس نے مفت کی جنگ مول لی۔

جہاں تک ایٹمی اثاثوں تک القاعدہ کی رسائی کا پروپیگنڈا ہے۔القاعدہ نے کوئی جنگی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں کی جسکی بنیاد پر اس پر شک کیا جاسکے جو تنظیم ایک جدید کلاشن کوف تک نہ بنا سکے وہ تنظیم دنیا کی سب سے بڑی اور مشکل ترین'' ٹکڑوں میںبٹی ،خفیہ کوڈز میں چھپی ،سیکڑوں بھول بھلیوں میں دبی، ہزاروں حصاروں میں جکڑی اور نہ جانے کتنی جگہوں میں بکھری ''ایٹم بم جیسی پْراسرارٹیکنالوجی تک رسائی کیسے حاصل کرسکتی ہے۔القاعدہ نے کسی ایجاد کی بجائے عام ٹیکنالوجی کا استعمال ہی کیا ہے اور ایٹم وہ ٹیکنالوجی ہے جو اسے بنا نہ سکے وہ اسکی چوری بھی نہیں کرسکتا۔خودکش حملوں کے لیے ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں پڑتی یہ اس وقت دنیا کا سب سے سستا اور دنیا کا سب سے مہلک ہتھیا ر ہے اگر اسمیں ٹیکنالوجی کا عمل دخل ہوتا تو ماضی کی تاریخ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ دور میں اس کا موثر توڑ نکالا جاسکتا۔اصل معاملہ یہ ہے کے یہ سو فیصد موت کی بنیاد پر رسک کا کھیل ہے اور فضائی جنگی برتری کے موجودہ دور میں جنگ سو فیصد کامیابی کی بنیا د پرشروع کی جاتی ہے اگران عناصر کی ایڈوانس نہ سہی معمولی جنگی ٹیکنالوجی تک رسائی ہوتی تو یہ لوگ سو فیصد موت کی بنیاد پر جنگ نہ لڑتے اور اپنی افرادی قوت ضائع نہ کرتے، افرادی قوت کا ضیاع ٹیکنالوجی سے ناواقفی نہیں تو اور کیا ہے۔

مغربی میڈیا نے کل تک جن کے لیے ان پڑھ ،جاہل اور گنوار کے لقب کے مخصوص کر دیے تھے آج ان سے ہی ایٹمی اثاثوں پر قبضے کی اْمیدلگا لی ہے۔ہماری ایٹمی تاریخ کا سچ یہ کہ جوہری اثاثوں کو ان جاہلوں سے کبھی خطرہ نہیں رہابلکہ ایڈوانس ٹیکنالوجی رکھنے والی ''سی آئی اے ''موساد اور'' را'' نے ہمیشہ سنگین خطرے سے دوچا رکیے رکھا لہذاپاکستانی قوم ماضی کی خطروں بھری واضح حقیقت پرایٹمی اثاثوں پر قبضے کے خیالی تصور کو ترجیح نہیں دے سکتی۔

email4zubair@ymail.com

Guest (not verified)

Sat, 01/22/2011 - 17:40

fiberrik hoodia Viagra Super Active vandaag nodig comprimés de Viagra à bas prix Propecia prezzo basso viagra viagra generiek viagra billig Propecia Viagra per le donne di prezzo Zyban kopen online kosten Cipro Viagra bijwerkingen Levitra Prezzo simcor vs Lipitor viagra bijsluiter viagra tilsvarende acquistare Clomid online lo que se utiliza para Zocor Xenical zonder recept kopen Hoodia medicinsk forskning п»їacquistare viagra online cialis 2,5 Zyban online in the netherlands cialis Anwendung Acquista Clomid Bayer Levitra Proben wat kost viagra in belgie slutte å ta Lipitor acquistare Cipro online viagra fällt Band Levitra kopen in winkel fornitori di Viagra Feedback Kamagra Hoodia laiha alternatief Propecia Lipitor mal di testa Cipro Prezzo

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......