اوممی کا دیوان 

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 11/15/2012 - 16:32

بہت سے القابوں کے ساتھ ساتھ خود ساختہ الله کے رسول کا ایک لقب اوممی بھی ہے، جسکے لفظی معنی تو ہیں نا خواندہ ،انپڑھ  اور جاہل، جسے اسلامی اصطلاح میں علما لکھتے ہیں "وہ شخص اجسکا باپ اسکے بچپن میں ہی مر جاۓ جسکی وجہ سے وہ تعلیم حاصل نہ کر پاۓ."
اسلامی علما نے الفاظ کے معنوں میں اسلام کو مسلّط کیا ہے ، جیسے کہ عوام پر اسلام کو کیا. اس طرح ذلّت پر بھی عزت کا لبادہ پہنا دیا اور لفظ آوممی مقدّس ہو گیا. یہ اسلامی علما کا خاصّہ ہے کہ یہ الفاظ کے مانی و مطلب بدل دیتے ہیں ، اسکی مِثآل آگے آتی رہیگی. کہ لفظوں کا "اسلامی کرن" کیسے کیا.
محمّد نرے اوممی تھے ، مطلق جاہل. یہ قرآن ان پڑھ اور اجڈ کا ہی دیوان ہے ، جسے انکے گڑھے ہوئے الله کا کلام کہا جاتا ہے. علما نے قرآن کے ہیولے گڑھے اور اسکے بڑے بڑے مراتب مقرر کئے، اسکی بلند ترین میناریں قایم کیں ، اسے منطق اور سائنس کا جامہ پہنایا گیا ، اسے راز و نیاز کا دفینہ قرار دیا گیا. اسے عظمتوں کا نشان کہنے لگے تو کہیں پر جنّت کی کنجی لکھا گیا. عالموں کا ڈھنڈھورا ہے کہ بہر حال قرآن نجات کی رہ ہے. نظام حیات تو ہر عدنا پدنا مسلمان اسکو کہنے میں پھولے نہیں سماتا، گوکہ دن و رات مسلمان انھیں قرآنی آیتوں کی گمراہیوں میں مبتلا , پسپایوں میں سماتا چلا جا رہا ہے. عام مسلمان از خود کبھی قرآن کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش نہیں کرتا ، اسے ہمیشہ یہی عییار عالمان دین ہی سمجھتے ہیں
اسلام کیا ہے؟ اسکی برکت کیا ہے؟؟چھوٹے سے لیکر بڑے تک سارے مسلمان دانشتہ اورغیر دانشتہ طور پر اسکے جھوٹ اور کھوکھلے فائدے اور برکتوں سے جڑے ہوئے ہیں. ان عالموں کا سب سے بڑا ذریہ معاش اسلام ہے، جوکہ محنت کش عوام پر منحصر کرتا ہے یعنی باقی قوموں سے بچنے کے بعد مسلمان خود مسلمان کا استحصال کرتا ہے.در اصل یہی مذہب اور ملّت فروشوں کا طبقہ غریب اور  ان پڑھ مسلمانوں کا خون چوستا ہے اور دوسروں سے بھی انکا خون چسواتا ہے . یہ انکو اسلامی جہالت سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتا. قرآن مسلمانوں کے لئے نظام حیات نہیں بلکہ عذاب حیات ہے. اس بات کو سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ مسلمان عقیدت کی ٹوپی کو سر سے اتار کے ، کھلے سر ہوکر قرآن کا مطالعہ کرے اور حقیقت کو سمجھے. قرآن میں ایک ہزار خامیاں اور گمراہ کن باتیں ہیں ، اسے عقل سلیم کو پیش نظررکہ کے پڑھیں اور بنیادی سوالوں پر غور   کریں 
یہ کائنات آج سے اربوں خرابوں سال پہلے وجود میں آئ تھی، اس بیچ صرف چودہ سو سال پہلے ہی الله نے منہ میں زبان پایا اور قرانی خرافات بکا، وہ بھی کل تیئس (٢٣ ) سال اور چار مہینے؟ (مفروضہ رسول کی عمر پیمبری) اسکے بعد الله ایسے غیب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ . اس دوران اسنے یہودیوں کے فرشتے گریل کو پکڑا اور قرانی آیتوں کا سسلہ اسکے کانوں میں بھرنا شروع کیا، پھر اسنے الله کی باتیں محمّد کے کانوں میں پھسکا اور اسکے بعد محمّد نے با آواز بلند اعلان کیا.
اس طرح بنتی رہی قرآن ؟
نادار قوم مسلمان اس ہوائی بت(الله) کے فریب میں آج تک مبتلا ہے، مٹی اور پتھر کے بت سے جہاد پر آمادہ  ہے 
§   انسان جب حالت نیم حیوانی میں تھا تو اسکا ذھن ڈر یا خوشی کے عالم میں کسی غیبی طاقت پر آکر مرکوز ہو جایا کرتا تھا ، جسنے آواز کی شکل پائی "ہو" ارب کی تواریخ بتلاتی ہے کہ نوح کے زمانے تک انسان "ہو" کے عالم میں ہی رہا ، بابا ابراہیم (ابرام) کے آتے آتے یہ "ہو" خدا بن کر "یا ھو" بن گیا ،جسے ارواح آسمانی کی طرح جانا جانے لگا . موسا کے بعد یہودیوں نے اسے اپنا نجی خدا بنا لیا اور نام دیا "یحوه" . یہ "ھو - یا ھو اور یحوه " داؤد اور سلیمان کے زنے میں " الہ " اور" الوہی " ہوتا گیا.
عربوں میں خدا کو ہسدستان کی طرح مختلف رائج دیوی دیوتا جیسا نام ہوا کرتا تھا "لات، منات، عزا وغیرہ کے ساتھ ساتھ الاح اور الہی جیسی غیبی طاقت کو یہودیوں اور عیسایوں کی طرح ہی مانتے تھے. محمّد نے اسے ایک بدعتی نام دیا الله اور ایک نیا خدا پیدا کیا، اس الله کو اسلام کے ساتھ مخصوص کیا .الله بنام "الله جللے جلالہو" محمّد کا خاص الله ہے جو جلالی اور با کمال ہے. ویسے قرآن نے اسکے سو نام گڑھے ہیں. مگر یہ جلالی الله انکی خاص پسند ہے جو ہر وقت دوزخ کی آگ لئے مسلمانوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے.غیر مسلموں کو تو خیر وہ جہنّم رسیدہ فیصل کئے ہوئے ہے، چاہے انھیں اسلام کی دعوت پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو، حتیٰ کہ اسلام سے قبل جو مرے، سب جہنّمی ہوئے بھلے ہی وہ محمّد کے باپ ہی کیوں نہ ہوں. یہ بات خود اوممی محمّد اپنے ایک حدیث میں فرما چکے ہیں.
 
 جس الله کو محمّد نے گڑھ لیا، اس الله نے محمّد کو اپنا پیارا نبی بنایا، اپنا محترم بنایا. وہ محمّد کو آپ جناب کرکے مخاطب کرتا ہے . اپنا رسول بنا کر اپنے پیغام  کو عرش اعلا سے قران کی شکل میں اتارتا ہے کہ تم اور تمہارے عربی وارثین عرض پاک کی  ٢٠% آبادی کو صدیوں تک اپنی جنگی بھتٹیو میں جھو کتے رہو اور وہ احمق ذلّت کی زندگی کو ڈھوتے رہیں.
   قرآن، خود سرمحمّد کی منصوبہ بند ایک خرافاتی تحریر ہے. یہ لال بجھککڑ کے ذہنی میار کا پھوہڑ نمونہ ہے. کٹھ مللائی کی شروعات محمّد کے فرمودات سے ہوئی.پورے قوان میں تضاد کی بھرمار ہے.کسی سورہ میں قرآن کفر کا پرچار کرتا ہے تو کہیں پر وحدانیت کا. محمّد کی ظالم فطرت کی ترجمانی قرآن بیان کرتا ہے. یہی نہیں، محمّد کی کوتاہ ذہنی اور نا عاقبت اندیشی کو بھی قرآن اوڑھتا، بچھتا ہے. قرآن کی تمام خامیوں کو محمّد نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نمٹایا ہے. کہتے ہیں "کچھ آیتیں مشتبہ مراد ہیں جن کا مطلب الله ہی جانتا ہے " اسکا فرمان ہے کہ اسکی تلاوت کرکے ثواب حاصل کرنا چاہئے ، بنسبت سمجھنے کے. قرآن کے حافظے کا دستور مسلمانوں میں رایج ہے.  لاکھوں لوگ اس غیر تعمیری کام  میں لگے رہتے ہیں جس سے قوم کی ترققی جام ہے . 
ایک بار پھر مسلمانوں سے گزارش ہے کہ قرانی آیتوں کا (خالص)ترجمہ پڑھیں اور خود اپنے اندر اس کا تجزیہ کریں، عقیدت کا چشمہ اتار کر اور ذہنی باب کو کھول کر، اپنا تبصرہ بے خوف ہوکر خود اپنے اندر کریں تب جاکر صداقت رو برو ہوگی.
*************************
nisar1944@gmail.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......