انوکھا لاڈلہ

Submitted by Adnan sheikh on Mon, 01/05/2009 - 20:09

آواز
﴿ انوکھا لاڈلہ﴾
ہمارے ملک میں دھماکے اس طرح ہوتے ہیں جس طرح شادی بیاہوں میں آتش بازی کی جاتی ہے۔ اتنی پٹاخے شب برات پر نہی پھوٹتے جتنی بمباری تسلسل سے ہماری سرحدوں پر ہوتی ہے۔اور ہم بیانات دے رہے ہیں’’ کیسی بھی طرح کی غیر ملکی مداخلت برداشت نہی کی جائے گی‘‘۔’’ہم کسی کو اپنی سرحدوں سے کھیلنے کی اجازت نہی دے سکتے‘‘ ہر دھماکے کے بعد ہر طرف سے مذمتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور پھر وہ مذمت خاموشی کی چادر اوڑھے ایک نئے دھماکے یا ایک نئے تماچے کا انتظار کرنے لگتی ہے۔ ہمارے وزیرِاعظم کا حالیہ بیان ملاحظہ ہو’’اوباما کے آتے ہے دھماکے ہونا بند ہو جایں گے۔ یقین نہی آتا کہ کسی ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے وزیراعظم کا بیان ہے یعنی ہمیں اپنی عزت بچانے کے لیے اپنی مائوں ،بہنوں ،بیٹیوں کے قتل آم معصوم بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے اوباما کے کرسیِ صدارت سمبھالنے کا انتظار کرنا پرے گا ۔ہمارے وزیراعظم کا یے بیان مجھے اس کمزور بچے کی سوچ کے مصداق لگتا ہے جو لڑائی میں مار کھانے کے بعد اپنے والد کے آنے کا انتظار کرتاہے کہ شام کو آکر وہ میرا بدلہ لیں گے اور شریر لڑکوں کی مار سے بچایں گے۔۔انوکھا لاڈلہ کھلن کو مانگے چاند رے۔یہ سب بیانات’’ اب مار بھار بتاوں گا‘‘کی مزحقہ پالیسی کے علاوہ اور کچھ نہیں محسوس ہوتے۔ہمارے حکمرانوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کی چوری کھانے والے کبھی وفا نہی کیا کرتے ۔یا بھر وہ یہ بات سمجھنا نہیں چاہتے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔
نہ ہو خیال جس کوخود اپنی حالت کہ بدلنے کا ۔
یہ حملے جاسوس طیارے اور بمباری آج ہی رک سکتی ہے اگر ہم اپنے ملک کو کے ساتھ مخلص ہو جائیں۔کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک ایسی مملکت جو بری ، بحری ، فضائی انتہائی منظم افواج رکھتی ہو ۔جس کے پاس دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی سسٹم ہو ۔کس کہ پاس میزائل ٹیکنولوجی ہو اور سب سے بڑھ کر جو ایٹمی طاقت ہو اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی ملک کاروایاں کرتی رہے اور وہ ملک کچھ نہ کر سکے۔
لیکن یہ ممکن کیسے ہو جن کے آگے 24گھنٹے ہماری جھولیاں پھیلی رہتی ہوں ان کو کس منہ سے منع کریں ؟ ۔اور ویسے بھی جنوری تک تو اب کچھ کہنا بھی بیکار ہے کہ ’’اوباما آئے گا تو ہمیں بچائے گا‘‘میں یہ کہنا چاہتا ہوں محترم ! یہ حملے اوباما کہ آنے سے نہیں ہماری شرم کہ آجانے سے رکیں گے ۔جب ہم بِکنا بند کر دیں گے میں یقین دلاتا ہوں کسی میںہمت نہیں کہ حملے تو درکنار ہماری طرف بری نظر سے دیکھ بھی جائے۔
نہ گنوائو ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا۔
جو بچے ہیں سنگ، سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا ۔
ADNAN SHEIKH
0321-4655154

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......