انقلاب کی ضرورت ‘‘ کالم ‘‘ ڈاکٹر منیب احمد ساحل

Submitted by muneeb ahmed sahil on Wed, 03/25/2009 - 16:50

آئن اسٹائن اگر زندہ ہوتا تو وہ پاکستانی سیاستدانوں کے کارنامے دیکھ کر شاید نظریہ سیاسی اضافیت بھی پیش کرتا کیونکہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کس بنیاد پر دعوی کر رہی ہے کہ آئندہ وزیر اعلیٰ پنجاب پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو گا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کو 370 میں سے 207اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اس وقت پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے 170 فاروڈ بلاک کے 32فنکشنل لیگ کے 3اور ایم ایم اے کے 2اراکین اسمبلی مسلم لیگ(ن) کی حمایت کر رہے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت ثابت کرنے کیلئے 185 اراکین اسمبلی کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

ایک طرف تو یہ صورتحال ہے دوسری طرف مسلم لیگ(ن) اور (ق) کے رہنما بھی باہم شیر و شکر ہو رہے ہیں ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ لیگی موقع سے بھر پور فائدہ اٹھا کر مسلم لیگ کو متحد کرنا چاہتے ہیں اور اگر دونوں لیگوں کا اتحاد ہو جاتا ہے تو پھر نہ صرف پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو بھی خطرات لاحق ہیں بلکہ صدارتی مواخذہ بھی خارج از امکان نہیں ۔

یہ تو تھا سیاسی منظر نامہ لیکن سیاستدانوں کے کرسی کرسی کھیل میں سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کا ہو رہا ہے۔ لوگ پیپلز پارٹی کا مجموعی طور پر چوتھا دور حکومت دیکھ رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے دو دور حکومت دیکھ چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر قوم کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملا۔

ہمارے یہاں سیاست صرف چند گھرانوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں کے سربراہ بھی فوجی ڈکٹیٹر کی طرح آمر ہیں ۔ن لیگ، ق لیگ، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام، یا کسی بھی سیاسی جماعت کو دیکھ لیں ایک ہی شخص کئی سالوں سے ان کا سربراہ ہے جو سیاسی جماعتوں میں آمریت کی بدترین مثال ہے۔یہ سیاسی بازی گر جو اپنی جماعت میں جمہوریت لا نہ سکے عوام کو ملک میں جمہوریت لانے کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اور بے چارے سیدھے سادھے عوام ان کی جانب سے دکھائے گئے سبز باغ کے جھانسے میں آکر ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور جئے جئے فلاں فلاں یا قدم بڑھاؤ فلاں فلاح عوام تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے لگاتے ہیں اور ہر سیاستدان قوم کو سوائے وعدوں کے کچھ نہیں دیتا۔

انہی سیاستدانوں کی حکمت کے طفیل وطن عزیز میں کبھی آٹے کا بحران پیدا ہوتا ہے تو کبھی بجلی کا خاک نشین نان شبینہ کے محتاج ہو رہے ہیں لیکن سیاستدان اپنی کرسی کیلئے انہیں صرف دل فریب نعروں کا لالی پاپ دے کر انہیں

اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے استعمال کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر تر ،یہ وہی سیاستدان ہیں جو جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو عام آدمی کو حقوق مانگنے کے جرم کی پاداش میں گولی دیتے ہیں ان فقہیان وطن کے فلسفے کی بدولت ہی انسانی اقدار آج رنگ و نسل و زبان و ذات پات کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں ۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بد عنوان سیاستدانوں کو بے لگام نہ چھوڑا جائے کہ وہ قومی سرمائے کو اپنے باپ کی جاگیر بنا کر رکھ دیں کیونکہ پاکستان کا موجودہ و سیاسی منظر نامہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ سیاستدانوں نے عوام کو بے وقوف بنا کر ان پر زندگی تنگ کر دی ہے اور یہ آج کی بات نہیں کہ عوام سیاستدانوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہوں یا دھکے کھا رہے ہوں وہ ایسے دھکے کھانے کے تو عادی ہو ہی چکے ہیں اور جیسے سیاستدان باریاں بدل بدل کر اقتدار کے مزے لوٹنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔سکندر مرزا سے لے کر آصف زرداری تک چاہ ایوان کو سفر اس حقیقت کی چغلی کھا رہا ہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ ملک کو اس وقت ایک بڑے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے ایک ایسا انقلاب جو رہبر نما راہزنوں کے ناپاک عزائم کو کچلنے کی صلاحیتوں سے لبریز ہو ایک ایسا انقلاب جو بے ضابطگی و بد عنوانی کو راہ دینے والوں کو کچلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک ایسا انقلاب جو پاکستان کو جمہوریت کے نام پر معرکہ آرائی سے نجات دلانے کا اہل ہو، ایک ایسا انقلاب جو قوم کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی سرخی کو معتدل رکھتے ہوئے سیاسی استحکام ہو یقینی بنانے کا متحمل ہو۔

اس انقلاب کے لئے لازمی ہے کہ نوجوان نسل آگے بڑھے اور ملک کو رہبر نما راہزنوں کے چنگل سے نکالے۔ اس عزم و ارادے کے ساتھ کہ حقیقی جمہوریت و خوشحالی کا سورج طلوع کئے بغیر ہم سکون کی نیند نہیں سو سکتے خواہ اس کیلئے کتنی ہی بڑی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑ یں مگر مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدانوں کے نام پر بدعنوان لوگوں کی فوج تو دکھائی دیتی ہے لیکن دور دور تک ایسا غازی نظر نہیں آتا جو قومی مفادات کی قربان گاہ پر جام شہادت نوش کرنے کو تیار ہو ۔

۔قوم کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک ایسا غازی پیدا نہیں ہو گا جو حرص و طمع کے پیکروں ،سیاسی چولے میں وارد ہونیوالے لوگوں کی خبر لینے کی صلاحیت رکھتا ہو، جابر و قاہر قوم کے مستقبل سے کھیلتے راہیں گے اور اچھا بھلا ملک بیرونی عناصر کا آلہ کار بن کر اپنی معیشت و معاشرت کو گروی رکھنے پر مجبور ہوتا رہے گا ،کاش کوئی ایسا غازی پیدا ہو جس کی جدوجہد رنگ لائے اور ملک میں کبھی نہ جھکنے والا جمہوریت کا پرچم لہرائے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......