انقلاب کا سھرا

Submitted by siaksa on Sun, 11/14/2010 - 21:58

پاکستان دنیا کا واحد ملک ھے جھاں انگلش گرامر کا ﴿فیوچر ٹینس﴾ جتنا استعمال ھوتا ھے کہ دنیا میں اور کسی ملک میں شائد ھی ھوتا ھو۔ ڈیم بن جاے گا، مھنگائی ختم ھوجائی گی،دھشت گردی کا خاتمہ ھوگا، قاتلوں سے اھانئی ھاتھوں سے نمٹا جاے گا، کوی بھی معاملہ لے لو، ھوجاے گا، کردیں گے،کرلیں گے، کاش پاکستان کے کرتا دھرتا گرامر کے ﴿پرزنٹ اور پاسٹ ٹینس﴾ کو بھی عزت افزائی کا موقع دے کر کوئی ایسی بات بھی پاکستان کی قوم کو بتادیں کہ ھم نے یہ کرلیا، یہ ھم سے ھوگیا۔ کیا ایسا ھونا ممکن ھے کبھی پاکستان کی تاریخ میں۔ رھا پاکستان کی عوام کو بتانے کا سوال، انکو انکے حکمرانوں نے اس قابل ھی نھیں چھوڑا اج پاکستان کی عوام کے مفلوج دماغوں میں ھزاروں سوالوں کا ملغوبہ اتنا جمع ھوگیا ھے۔ کہ سوچنے سمجنے کی صلاحیت ختم ھوکر رھے گی ھے۔ اب تو ان کا دن اس بات کو سوچ کر شروع ھوتا ھے کہ اج وہ اپنے گھروالوں کے پیٹ کا ایندھن کس طرح بھر پاییں گے۔ سو روپے ڈھاڑی کمانے والا سوچتا ھے کہ چینی لے لوں تو باقی چیزوں کے لیے کدھر سے انتظام کرپاوں گا۔ اگر باقی چیزیں لے لوں تو زندگی کی شیرنیی جو تو ھم روٹھ گئی ھے اسکو مصنوعی شیرنیی سے پورہ کرنا بھی اس مظلوم انسان کے بس میں نھیں رھا۔ یہ تو وہ انسان ھے جو روز محنت کا کھدال اٹھاکر اپنی اور خاندان کی کفالت کا سپنا لیکر گھر سے نکلتا ھے اور مایوسی سے دوچار ھوکر شرمندگی کے ساتھ گھر چلاآتا ھے، ایک انسان اور بھی پاکستان میں بستا ھے جو کسی ادارے یا کمپنی میں ماھانہ اجرت پر اپنا اور خاندان کی کفالت کا بیڑا اٹھاے۔ مھینے کے اخر میں چند ھزار روپلی لے کر ان ناختم ھونے والے اخراجات کے بھوجھ تلے دبا جارھا ھے۔ جو اسے ھر مھینے کے اخر میں کسی نہ کسی کا مقروض بنادیتے ھیں۔حکمرانوں کی شاہ خرچیوں نے عوام کو بس اتنا بے بس کردیا ھے کہ زندگی گزانے کی بنیادی ضرورتوں کے پورہ کرنے میں دال، گوشت، سبزی، پیڑول، چینی ، آٹا کے پھیچے بھاگتے نظر اتے ھیں، باقی رہ جاتا ھے خالی میدان ان کے ان کرتا دھرتاوں کے لیے جو ھر پانچ سال برساتی مینڈکوں کی طرح چھروں پر خبصورت منشور کا نقاب لگاے ان کے پاس آتے ھیں اور مطلب بر انے پر ان ھی دشمن بن جاتے ھیں۔پاکستان کی دھرتی ھماری ماں ھے اور اس میں رھنے والے اسکے بچے اور ماں کتنا کڑھتی اور بے چین ھوتی ھوگی جب اسکے بچے تکلیف سے بلبلا تے ھونگے۔ کاش ماں کے جذبات کو سمجھنے والے اپنے اپنے دل پر ھاتھ رکھکر یہ سوچنے لگ جاییں اگر پاکستان کی دھرتی ماں الفاظ کا استعمال کرتی تو اپنے ان سیاستدان بچوں سے یہ سوال کرتی۔۔
زرداری بیٹا، آج جس عزت کے مقام پر تم ھو یہ تمھارے ھم وطن بھاییوں کا قرض ھے تم پر ان پر رحم کرو انکی زندگی کو آسان بناو کہ یہ عزت کے ساتھ اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں۔
نواز بیٹا، تو شیر پنجاب تو بن گیا۔ یہ عزت اور مقام تیرے ھم وطن بھاییوں کا قرض ھے تم پر ۔ اپنے بھاییوں پر ھونے والے ظلم پر آواز بلند کرو اس طرح کہ انکی عزتوں کی حفاظت ھو۔
الطاف بیٹا، خدا نے تم کو وہ طلسماتی کشش اور حق پرستی کی آواز عطا کی ھے جس کی بدولت لاکھوں کا مجمع یک سو خاموشی اختیار کرلیتا ھے۔ یہ سب تمھارے بھاییوں کی محبتوں کا نتیجہ ھے۔ انکی آوازوں کو اج ظلم و جبر سے خاموش کیا جارھا ھے۔ مظلوم انسانوں کو دیوار سے لگانے والوں کو آڑھے ھاتھوں لو۔
منور بیٹا، یاد کرو یہ تیرے بھائی ھی تھے جو تمھارے دھرنوں کو کامیاب بناتے تھے۔ایک دھرنا اپنے بھاییوں کے حق کے لیے بھی کرو یہ آپ پر قرض ھے۔
افتخار بیٹا، تمھاری عزت اور رتبے کی واپسی کے لیے تمھارے بھاییوں نے جو عظیم شان ریلی نکالی تھی، آج میرے وطن کے بچے اپنے ھی سرزمین پر مشکلات کا شکار ھیں، انکی داد رسی تمھاری اولین ذمہ داری ھے۔
مشرف بیٹا، تم نے اگر اپنی کمر پاکستان کی بھتری کے لیے باندلی ھے تو کمزور اور بے بس اپنے بھاییوں کے حق تلافی نہ ھونے دینا انکی عزتوں کے محافظ بن کر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا۔

تمام دیگر سیاستدان بچوں سے پاک دھرتی ماں، رو رو کر یہ التجا کرتی ھے۔ سب اپنے اپنے مقاصد کے لیے ریلیاں اور جلسے منعقد کرتے ھو، ایک ریلی اور جلسہ میرے وطن کے تمام بچوں کے لیے بھی نکال لو۔ سیاسی مفاھمت تو بھت کرلی، ایک مفاھمت اپنے ھم وطن بھاییوں کی لیے بھی کرلو۔ جو صرف اور صرف پاکستان کی عوام کے لیے سچے دل سے کی گی ھو۔ ذاتی مفاد اس میں شامل نہ ھو۔ انقلاب کی بات اب سب کرتے ھیں۔ دیکھنا یہ ھے کہ انقلاب کا سھرا کون اپنے سر پر باندھے گا۔

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.