الیکشن کا التواء اور عوامی مسائل

musarratullah's picture

الیکشن کا التواء اور عوامی مسائل

الیکشن کمیشن نے امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر انتخابات کو فروری میں کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حالات کی بہتری کے ساتھ ہی انتخابات کئے جائینگے حالانکہ
انتخابات پاکستانی عوام کا مسئلہ نہیں نہ ہی جمہوریت کیلئے عوام ترس رہے ہیں قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستانی عوام کے ساتھ بہت سارے ڈ رامے کھیلے گئے روٹی کپڑا مکان سے لیکر اسلامی نظام اور ماڈریٹ اسلام کے نام پر دہشت گردی کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس میں ہزاروں افرادکو مارا گیا اور اس میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں نہ ہی انہیں ان چیزوں سے کوئی دلچسپی ہے کہ کوئی امریکی آشیرآباد سے آتا ہے یا روس کی آشیرباد سے ملک پر حکومت کرتا ہے کسی کو سعودی شیخوں کی سپورٹ حاصل ہے یا تاج برطانیہ نے انہیں اپنا وائسرائے بنا کر بھیجا ہے کہ پاکستان کے غریب عوام پر حکومت کی جائے -

اب تک جو بھی اس ملک میں حکمران بن کر آیا اس نے اپنے مفاد کیلئے عوام کا نام استعمال کیا لیکن ان کابیڑا غرق کیا اس سارے عمل میں کلین شیوڈ گنجے آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ اور داڑھی والے تمام حضرات شامل ہیں جنہوں نے لینڈکروزروں کے مزے لئے اور مسلسل ان مزوں کیلئے مسلسل انتخابات کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ عوام کے بنیادی مسائل کو بھول گئے ہیں کوئی اپنے آپ کو تعلیم یافتہ نہ بکنے والا نہ جھکنے والا کہہ رہا ہے تو کوئی قوم اور خدا کے نام پر سیاست کررہا ہے ان کو پتہ ہے کہ وہ عوام کے مسائل کیلئے کچھ نہیں کرسکتے اس لئے یہ نعرے وہ انتخابات میں نہیں لگا رہے -

پاکستانی عوام کابنیادی مسئلہ روزگار اور مہنگائی ہے یہ نہیں کہ ایم ین اے ایم پی کے رشتہ دار سرکاری ملازمتیں حاصل کرے اور وہ آگے یہ رپورٹ دے کہ عوام کو روزگار فراہم کیا گیا ہے اور اب وہ مزے کررہے ہیں بلکہ روزگار ایسا ہوکہ ہر کسی کو ملے تاکہ گلیوں کوچوں میں لوٹ مار کم ہو اور چند روپوں کی خاطر کسی کی جان لی جائے نہ ہی انہیں سیاسی جلسوں میں شرکت کرنے پر دو سو سے تین سو روپے ملنے کا چکر ہو بلکہ روزگار ہر عام و خاص کو ملے اسی طرح مہنگائی بھی کنٹرول ہو -

یہ بات ماننی پڑے گی کہ پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری ہوئی ہے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اس کا اندازہ یوٹیلٹی سٹورز اور فیئر پرائس شاپ کے نام پرکھلنے والے نام نہاد شاپس پر عوام کے بے انتہا ہجوم سے کیا جاسکتا ہے -امیر آدمی تو ان شاپس پر جا کر ڈنڈے اور بے عزتی نہیں کھاتا لیکن یہ غریب آدمی کی قسمت میں ہے کہ اسے ڈنڈے کے ساتھ بے عزتی بھی ملتی ہے اول تو انہیں روزگار نہیں اور اگر کوئی جہاں ہے جیسے ہے کی بنیاد پر کوئی کام کررہا ہے تو اسے مہنگائی اور فیئر پرائس شاپس پر ملنے والی بے عزتی اور ڈنڈوں نے اتنا بے حال کیا ہے کہ اسے اپنی فکر پڑی ہے اسے ملک پر حکمرانی کرنے والوںسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون ہے جو حکومت کررہا ہے اور کون آرہاہے یا جارہاہے ہاں اگر اسے ا حتجاج کا موقع ملتا ہے تو پھر رات کے اندھیرے میں واردات کرنے کے بجائے وہ لوٹ مار کرتا ہے اور اس کیلئے حادثات کا انتظار کرتا ہے جس میں وہ بینکوں اور دکانوں کی لوٹ مار کرے -اس بارے میں کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ اگر حکومت کو ہماری پروا نہیں تو ہمیں حکومت سے کوئی غرض نہیں ہم برے حال میں ہوں اور وہ مزے کرے تو ہم لازما ایسا کرینگے-

دوسری طرف موجودہ حکومت نے آتے ہی اختیارات کے نچلی سطح پر لانے کیلئے ایسے اقدامات کئے کہ بازاروں میں قیمتوں کی کنٹرول کا کوئی انتظام نہیں اختیارات تو نچلی سطح پر تو نہیں آسکے ہاں کمیشن اب ناظم اور کونسلر کی سطح پر ہونے لگے ہیں اور وہ اپنے ووٹ لاکھوں اور کروڑوں مپں مختلف پارٹیوں کو دے رہے ہیں -ویسے جن صاحب نے یہ نظام شروع کیا تھا وہ تو اللہ کے ہاں اپنے اعمال کیلئے جواب دے رہے ہونگے لیکن ان کے اس اقدام نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے -

ان حالات میں الیکشن کے نام پر ہونے والے ڈرامہ بازی میں کوئی بھی آئے اس سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں ہاں چند خاندانوں کو دلچسپی ہے جو سیاست کے کھیل میں اپنے آپ کو ان رکھنے کے خواہشمند ہے اگر موجودہ حکمران اپنے آپ کو سیاست میں ان رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں عوامی مشکلات کا اندازہ کرنا ہوگا عوام کے مسائل حل کرنا ہونگے اگر سات نکاتی ایجنڈے پر عمل نہیں ہوسکا تو دو نکاتی ایجنڈے میں روزگار اور مہنگائی کو شامل کیا جاسکتا ہے جس کے بعد امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے-

رہی بات ملک میں حالات کی بہتری کی تو بیروزگاری اور مہنگائی کی صورتحال اگر ایسی رہی تو حالیہ کچھ دنوں میں ہونیوالی بدتر صورتحال سے بدترین صورتحال بن سکتی ہے اب تک صرف بینکوں اور دکانوں کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے اگر عوام کی زندگی اجیرن کی گئی تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوامی سیلاب آئیگا جس کا رخ ہر اس طرف ہوگا جو لوٹ مار میں شامل رہا ہو یا شامل ہونے کیلئے کوشاں ہے-

Election delaying and people's troubles by Musarrat ullah Jan

Share this
No votes yet

Comments

Guest's picture

reply

Different people in all countries take the loans in various creditors, just because that's simple.