اللہ کی تخلیق

siaksa's picture

ویسے تو پاکستان کی ۹۸ فیصد عوام کا شمار مظلوموں میں ھوتا ھے جو اپنے جایز حق اور بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لیے شب و روز تگ و دو کرتے ھیں لیکن ایسے ھی مظلوموں کی سب سے اخری قطار میں وہ طبقہ بھی ھے جن کو لوگ خواجہ سرا (ھیجڑا) کے نام سے جانتے ھیں، جس کا کوی حال اور مستقبل نیھں ھاں ماضی ضرور رھا ھوگا کیکونکہ ماضی کے مغل بادشاھوں کی ھی کرم فرماھی سے یہ طبقہ معاشرہ میں ایک مخصکہ خیز اور تفریح طبع کی ایک مخلوق بن کے رہ گیا جب کہ یہ کوی اسمان سے نازل ھوی ھوی کوی بلا نیھں بلکہ ایک جیتی جاگتی ھر نارمل مرد اور عورت کی طرح اللہ کی تخلیق کا مظھر ھے۔ ایسے لوگ ھر معاشرہ میں ھر قوم میں موجود ھوتے ھیں اور ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گذارتے ھیں لیکن پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا ھی وہ ممالک ھیں جو اکیسویں صدی میں پھنچ جانے کے باوجود ابھی بھی ایسے انسانوں کو انسانوں کی فھرست میں شامل کرنے سے قاصر ھیں اور انکوں معاشرے میں الگ اتھلک رکھا جاتا ھے۔  چیف جسٹس جناب افتخار چودھری صاحب مبارک باد کے حق دار ھیں جنھوں نے اس طبقے کے حق میں ایک اواز بلند کی ھے اور یہ صرف چیف جسٹس صاحب کی ذمہ داری نھی بلکہ پاکستان کے ھر طبقہ فکر کی ذمہ داری ھہ کہ ان کو انکا جایز حق دیا جاے۔ علما حق کی یہ ذمہ داری ھے کہ قران ، حدیث اور اجتھاد کی روشنی فتوہ دیا جاے کہ جو انسان قدرتی طور پر مردانہ اوصاف سے محررم ھے اس کا معاشرہ میں کیا کردار ھونا چاھییے اور اسکو کس طرح زندگی گذارنا چاھیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ھم اللہ اور رسول ﷺ کے اس واضع احکامات کے منکر ھونگے جو مردوں کو عورتوں کی شبھات احتیار کرنے سے متلق ھیں۔ اور اس ملک کے سیاست دانوں اور ملکی اسمبلی کے نمایندوں کی ذمہ داری ھے کہ کوی ایسا قانون بنایا جاے جو قران ، حدیث اور اجتھاد کی تمام شقوں پر پورہ اترے اور ان لوگوں کو بھی زندگی اچھی اور بھتر گذارنے کا موقع ملے تاکہ وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں اور اپنا پیٹ عزت سے بھر سکیں۔ یہ بات بڑی واضع ھے کہ شکم خالی ھی تمام براییوں کی جڑ ھوتا ھے اور اگر خالی پیٹ کو بھرنے کے مواقع عزت سے نہ ملیں تو انسان ھر قسم کی غیر اخلاقی حرکات اور جرم کا ارکاتاب کر بھٹتا ھے۔ جس کو روکنے کی ذمہ داری ھم سب کی ھے اور یہ ھی اللہ کا ھم سب پر حکم ھے جس کو اب پورہ ھونا چاھیے ۔<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" />

Share this
Your rating: None Average: 3 (2 votes)