القاعدہ لیڈر بدر منصور ڈرون حملہ میں ہلاک

anawazkhan's picture

القاعدہ لیڈر بدر منصور ڈرون حملہ میں ہلاک

امیر نواز خان

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان میں القاعدہ کا سربراہ جو امریکہ کے اصل نشانوں میں سے ایک اور لاتعداد افراد کی ہلاکت میں مطلوب تھا، امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک ہو گیا۔پاکستانی حکام اور اس کے گروہ کے ایک ممبر نے بتایا کہ بدر منصور جو عسکریت پسندوں کو افغانستان بھیجا کرتا تھا اور شمالی وزیرستان میں فاروقی نام کا ایک ٹریننگ کیمپ بھی چلا رہا تھاجمعرات کو منھ اندھیرے کیے گئے ڈرون حملہ میں مارا گیا۔ایک سینیر پاکستانی افسر نے بتایا کہ میران شاہ میں ہوئے اس ڈرون حملے میں اس کی موت سے پاکستان میں القاعدہ تنظیم پر کاری ضرب لگی ہے اور اس سے پاکستان میں حملے کرنے کی القاعدہ کی طاقت و صلاحیت بھی کم ہو جائے گی۔بدر منصور کے ایک معتمد نے بھی ٹیلی فون کر کے کہا کہ بدر منصور ایک میزائیل حملہ میں ہلاک ہو گیا ہے ۔ابتدائی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ میران شاہ کے ایک گاو¿ں میں جمعرات کو صبح صادق کے وقت میران شاہ بازار میں واقع ایک مکان پر ایک ڈرون طیارے نے دو میزائیل داغے جس سے وہ پورا مکان تباہ ہو گیا اور کم از کم 4افراد جاں بحق اور لاتعداد زخمی ہو گئے۔ القاعدہ سے منسلک پنجابی طالبان کے بدر منصور گروپ کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں چار دیگر اعلٰی کمانڈر بھی ہلاک ہو گئے۔ یہ ہیڈکوارٹر ظفر کالونی کے نزدیک میران شاہ بازار میں قائم تھا۔ ڈان نیوز نے انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ ہلاک ہونے والے باقی عسکریت پسندوں کے نام قاری فیاض، مولوی فیصل خراسانی، قاری مشتاق اور یاسر خراسانی ہیں۔ یہ افراد بدر منصور گروپ کے بعض اعلٰی کمانڈروں میں سے تھے اور ان پر افغانستان میں اتحادی فورسز پر حملوں کا الزام ہے۔ پاکستان میں مختلف جہادی گرپوں کی ممبر شپ ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئیOverlap)) ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ہم نے ان افراد کی لاشوں کو گھر سے ہٹا دیا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بدر منصور بھی شامل تھا ۔
حالیہ دنوں میں القاعدہ کے ۵ لیڈروں کو دنیا کے مختلف حصوں میں ہلاک کر دیا گیا اور ان حملوں نے القاعدہ کی مرکزی قیادت کو بوکھلا کر رہ گئی ہےاور القائدہ فوری طور پر اپنت تجربہ کار ،کارکنوں کے نقصان کی تلافی کرنے سے قاصر ہے۔ اس سے پہلے ۱۱ جنوری کو اسلم اعوان ڈرون حملہ میں مارا گیا تھا
بدر منصور کا اصلی نام قاری عمران تھا اور وہ ملتان کا رہنے والا تھا۔ اس نے ایک سال قبل بدر منصور گروپ کے بانی کی نسبت سے بدر منصور کا نام اختیار کیا ۔ بدر منصور گروپ کے طالبان ک و دوسرے گروپوں کےساتھ قریبی روابط ہیں۔ گروپ کا دعوٰی ہے کہ اس کے اراکین کی تعداد 2 ہزار 2 سو ہے جن میں سے 3 سو پچاس کٹر جنگجو ہیں جبکہ 1 سوپچاس خودکش بمبار ہیں۔ بدر منصور نئے جیادیوں کو القائدہ و طالبان کے لئے بھرتی کرتا تھا ۔
یہ گروپ حرکت الجہاد الاسلامی کے ساتھ مل کر حملے کرتا رہا ہے اور اسے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کا ایک مرکزی گروپ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ گروپ زیادہ تر میران شاہ میں اور اس کے اردگرد بویا، دتہ خیل، میر علی، تپی اور دیگر علاقوں میں موجود ہے۔ بدر منصور گروپ کے افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک سے بھی قریبی روابط ہیں۔ بدر منصور الیاس کشمیری کی مبینہ ہلاکت کے بعد پاکستان میں القاعدہ کا رہنما بنا تھا۔ بدر منصور القائدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں میں رابطہ کا ایک اہم ذریعہ تھا اور وہ القائدہ کی پاکستان میں شوری کونسل کا ممبر بھی تھا۔
پاکستان میں القاعدہ کے رہنما اور کراچی و پنجاب پولیس کو مختلف دہشتگرد وارداتوں میں مطلوب بدر منصور کی میران شاہ میں امریکی میزائل حملے میں ہلاکت سے کراچی پولیس نے سکھ کا سانس لیا ہے۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بدر منصور کراچی میں 4 سے زائد بم دھماکوں اور دہشتگرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ پولیس افسر کے مطابق بدر منصور کی گرفتاری کیلئے کی گئی متعدد کارروائیاں بے سود ثابت ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ بدر منصور کی گرفتاری پر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے تقریباً ڈھائی کروڑ روپے انعام رکھا تھا تاہم اس کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے بدر منصور تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بدر منصور کی ہلاکت کے بعد اب متعدد مقدمات کی فائلیں بند ہو جائیں گئیں۔
لاہور میں گرفتار دہشت گردوں نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرستان ڈرون حملے میں مارا جانے والا بدر منصور ملک بھر میں خودکش حملہ آور بھیجتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تیس سالہ بدر منصور منڈی میران شاہ میں فاروقی مرکز کے نام سے خودکش حملہ آوروں کے لئے فاروقی تربیتی مرکز چلا رہا تھا، جہاں سے ملک بھر میں دہشت گردی کے لئے حملہ آور بھیجے جاتے تھے۔ لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے دوران گرفتار ہونے والے دہشت گرد عبداللہ عرف محمد اور معاذ عرف معاویہ نے دوران تفتیش بتایا کہ گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں حملوں کے لئے دو خودکش پینتیس سالہ درویش اور پندرہ سالہ منصور اسی مرکز سے آئے تھے۔ دہشت گردوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایف آئی اے اور ایس آئی یو کی بلڈنگز سمیت ماڈل ٹاؤن، مناواں پولیس ٹریننگ سکول، جناح ہسپتال پر حملے اور مختلف جگہوں پر کریکر دھماکے کرنے والے افراد بھی فاروقی مرکز کے ہی تربیت یافتہ تھے۔ پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے میں ملوث تین افراد وقاص، سلیمان اور اورنگزیب ابھی تک مفرور ہیں۔
یاد رہے کہ طالبان کے مشہور گروپوں میں جلال الدین حقانی گروپ، بیت اللہ محسود گروپ، حافظ گل بہادر گروپ، مولوی نذیر گروپ، عبداللہ محسود گروپ، کالعدم تحریک طالبان سوات، عصمت اللہ معاویہ گروپ، قاری حسین گروپ، بنگالی گروپ، بدر منصور گروپ، عبدالجبار گروپ، منگل باغ گروپ، سیف اللہ اختر گروپ، قاری یاسین گروپ، قاری ظفر گروپ، الیاس کشمیری گروپ، رانا افضل عرف نور خان گروپ، کلیم اللہ گروپ، قاری شکیل گروپ،گل حسین احمد گروپ، شیخ معراج گروپ، تکفیری گروپ، ازبک گروپ اور امجد فاروقی گروپ وغیرہ شامل ہیں۔
ڈرون حملوں کی بابت جذباتیت کا شکار ہوتے ہوئے پاکستان میں القائدہ اور طالبان کی طرف سے متواتر اوروسیع پیمانے پر کی جانے والی دہشت گردی اور تباہی کی کارروائیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں 3000 سے زائد بم دھماکے اور دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں جن میں 35,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے مگر کوئی عوام کو یہ اعداد وشمار یاد نہیں دلاتا۔ طالبان نے50 سے زائد مزارات، مساجد اور دوسری عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ ان مقامات ِ مقدسہ پر ہلاک ہونے والے زائرین اور عبادت گزاروں کی تعداد 1100 سے زائد ہے جبکہ 3000 کے لگ بھگ شدید زخمی بھی حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ تاہم کوئی سیاست دان بھی انہیں عوامی یادداشت کے لائق نہیں سمجھتا۔ فاٹا اور سوات میں طالبان نے دھماکہ خیز مواد سے بے شمار سکول اڑا دیے، لیکن اس کی پروا کس کو ہے۔؟پچھلے برس 80 کے قریب فوجی تنصیبات کو طالبان نے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں پاک فوج کے جوان شہید بھی ہوئے مگر شہدا کی یاد کس کو ہے۔ گزشتہ برس بم حملوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری ہلاک ہوئے اور آج اُن کی قبروں ، ناموں اور خاندانوں کا بھی کسی پتا نہیں ہے۔ یہ ہمارا قومی المیہ نہین تو اور کیا ہے۔
لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلے ہماری ملکی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی ان غیر ملکی جہادیوں نے کی جو وزیرستان کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ کوئی خوددار اور خود مختار ملک کسی جہادی کو اپنے سرزمیں پر قبضہ کی اجازت نہیں دے سکتا مگر ہم ٹس سے مس نہ ہوئے ہیں اور جہادیوں کے گن گائے چلے جارہے ہیں۔ کیا یہ بنیادی طور پر ہماری ذمہ داری نہ ہے کہ ہم ان تمام جہادیوں کو پاکستان سے اٹھا کر زبردستی باہر کریں؟
دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا خوف آج بھی موجود ہے اور اس کے تانے بانے کئی براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدے دار کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان میں جو القاعدہ کے گڑھ تھے، اس تنظیم کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ خاص طور سے گذشتہ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کا زور ٹوٹ گیا ہے اور پاکستان اور امریکہ القائدہ کو مسلسل دباو میں رکھے ہوئے ہیں۔دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ڈرونز کا استعمال ہے جنہیں نگرانی اور جاسوسی یا حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈرونز کے بہت سے حملے پاکستان کے قبائلی علاقے، فاٹا میں کیے گئے ہیں۔ یہ حملے القاعدہ ک و طالبان کے مشتبہ افراد کے خلاف ہوئے ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں موجود تھے۔ ان تک کسی اور طریقے سے پہنچنے کے لیے کہیں زیادہ بڑی زمینی فوجی کارروائی کرنی پڑتی۔ ان ہوائی حملوں میں ہلاک و زخمی ہونے والے سویلین باشندوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور یہ حملے بڑی حد تک القاعدہ اور اس سے وابستہ لوگوں اور طالبان کے خلاف کیے گئے ہیں اور بالکل نشانے پر لگے ہیں۔ اس طریقے کے استعمال میں بڑی احتیاط سے کام لیا جاتا ے۔
تھامس لینچ واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بن لادن کی ہلاکت، افغانستان اور پاکستان میں انٹیلی جنس اور اسپیشل آپریشنز نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے اور ڈرونز کے حملوں کی وجہ سے اس علاقے میں القاعدہ کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے۔ امریکی ملٹری آپریشنز کے باوجود ،القائدہ کا یہ دعوی ہے کہ ان کی تنظیم علاقہ میں تربیت اور اوپریشن کی صلاحیت رکھتی ہے ابو زبیدہ اللبنانی جو کہ پاک افغان سرحد پر مصروف کار ہے نے ایک بیان میں جو کہ جہادی ویب سائت پر شائع ہوا ہے، دعوی کیا ہے کہ یہ درست ہے کہ ڈرونز حملوں نے ہمارے کچھ آپریشنز کو پیچھے ڈال دیا ہے یا ختم کردیا ہے مگر دہشت گرد گروپ اس علاقہ میں ابھی تک کاروائیان کر رہا ہے اور گروپ ٹھوس و مضبوط ہے اور خراسان میں کھڑا ہے اور مایوسی سے ناآشنا ہے۔
تاہم تھامس لینچ کا اندازہ ہے کہ اب صرف تین افراد باقی بچے ہیں جو اس بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم کرنے کے اہل ہیں۔’’اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ لوگ باہر نکلیں گے اور خود کو ڈرون حملوں کے خطرے میں ڈالیں گے۔ ان لوگوں نے سبق سیکھ لیا ہے۔
القائدہ کی شہہ ،تحریک اور تربیت پر طالبانی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان بھر میں لا قانونیت،افراتفری اور قتل و غارت گری کا ایک بازارا گرم کر رکھا ہے۔ القائدہ تمام دہشت گردوں کی گرو و استاد ہے اور اس ہی کے ذریعہ پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ متعارف ہوا۔ اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ۔ القائدہ ،پاکستان کی کبھی دوست نہ تھی اور نہ ہی ہو گی۔ القائدہ کے عملی تعاون و اشتراک سے طالبان نے پاکستان کے معصوم لوگوں کے خلاف خون کی ہولی کھیلی۔
بدر منصور کی ہلاکت سے القاعدہ کی کارروائیوں پر یقینااثر پڑے گا۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سیکرٹری ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا ہے کہ یہ درست ہے کہ بدر منصور شاید بہت زیادہ اہم نہ ہو مگر وہ القاعدہ کے اعلٰی ترین عسکریت پسندوں میں سے ایک ضرور تھا اور اس کی ہلاکت سے خطے میں پہلے سے ہی منتشر القاعدہ کی کارروائیاں مزید کمزور ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی حالت پہلے ہی پتلی ہو چکی ہے اور خطے میں اس کے قدموں کی چھاپ کمزور ہو گئی ہے۔ محمودشاہ نے کہا کہ بدر کی جگہ جلد ہی کوئی اور لے لے گا کیونکہ ان گروپوں کے پاس بہت سے متبادل رہنما موجود ہوتے ہیں تاہم ایک چیز واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ القاعدہ کے پاکستانی عسکریت پسندوں اور مرکزی تنظیم کے درمیان رابطے کو یقیناً نقصان پہنچے گا۔
بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ میرے خیال میں کامیاب زمینی کارروائیوں اور میزائل حملوں کے بعد القاعدہ کی صف اول کی قیادت بے اثر ہو چکی ہے اور انہوں نے اب یمن اور صومالیہ کو راہ فرار اختیار کر لی ہے۔ چنانچہ اپنے جنگجوؤں کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے کم اہم لوگ اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتے ہیں مگر میرے خیال میں اعلٰی کمانڈروں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری رہنے سے تنظیم کے لئے حالات سازگار نظر نہیں آتے۔
حالات گواہی دے رہے ہیں کہ وزیرستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القائدہ کے بے شمار بڑے لیڈر اور کارکن یہان مارے جا چکے ہیں اور باقی جان بچانے کے لئے چھپتے پھررہے ہیں۔
القائدہ ایک مجرمانہ سرگرمیوں مین ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور نہ ہی القائدہ نے اسلام یا اسلامی امہ کی کوئی دینی خدمت کی ہے۔ اسامہ ان مجرموں اور ٹھگوں کا سردار تھا۔
القائدہ کے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، لہذا القائدہ ،مسلمانوں اور اسلام کو اپنی عنایات سے معاف ہی رکھے تو یہ ملت اسلامی کے حق مین بہتر ہے۔ القائدہ نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا اور قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
اسلام آباد میں قائم سلامتی پر تحقیق کے ایک ادارے پاک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ امن کے ڈائریکٹر امیر رانا نے اس بات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدر منصور کی ہلاکت سے یقیناً پاکستان میں القاعدہ کی کارروائیاں متاثر ہوں گی کیونکہ گزشتہ چند ماہ سے انہوں نے پاکستان میں حملوں کا سلسلہ تیز کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری آئے گی کیونکہ یہ شخص القاعدہ کے اعلٰی رہنماؤں میں سے ایک تھا اور اس کی ہلاکت سے تنظیم کا مرکزی کمان و کنٹرول کا نظام یقیناً متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی کے ماحول کے لئے یہ ایک اچھی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حرکت المجاہدین کے ساتھ اور جہاد اسلامی کے ذریعے القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے عسکریت پسندوں الیاس کشمیری، بدر منصور گروپ کے بانی اور قاری ظفر کی ہلاکتوں کے بعد القاعدہ کے لئے یہاں حالات پہلے سے ہی خراب چلے آ رہے تھے۔ اور اب قاری عمران کی ہلاکت سے خطے میں ان کی کارروائیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے اور یہ خطے میں امن کے لئے خوش آئند چیز ہے۔
ان ناقابل تلافی پے درپے نقصانات نے القاعدہ کے حملہ کرنے کی صلاحیتوں بڑی حد تک مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور اس سے القائدہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہےجس سے القائدہ کی نئی بھرتی اور روپیہ پیسہ اکٹھا کرنے کی صلاحتیں نہ ہونے کے برابر رہ جائین گی۔جس سے القائدہ عالمی حالات و واقعات پر اثر انداز ہونے کے قابل نہ رہے گی۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ دہشت گردی کا وجود پاکستان کی خودمختاری، سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کےلئے اور سب سے بڑہ کر پاکستان کے عوام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور ہمیں ہر قیمت پر اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرنا ہو گا۔

Share this
Your rating: None Average: 4.8 (10 votes)