الزام تراشیئِ زمانہ از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Mon, 06/08/2009 - 13:17

زمانہ ساز شکوہ ساز نہیں ہوتے، شکوہ ساز تصور کیئے جاتے ہیں۔الزام تراش ملزمِ زمانہ ٹھہرائے جاتے ہیں۔جن کو دُنیا ناقد سمجھتی ہے۔ وُہ ناقدین نہیں ۔ وُہ زمانہ ساز ہوکر اَحیائے زمانہ ٹھہرتے ہیں۔وُہ تنقید نہیں اصلی چہرہ کو نقاب سے بے نقاب کرکے حقیقت کا سامنا کرواتے ہیں۔
زمانہ بدلتا ہےادوار بدلتے ہیںنعرے بدلتے ہیںلوگ تبدیل ہوجاتے ہیںمگر الزام تراشی ئِ زمانہ نہیں بدل رہا۔”ہمارے حالات خراب ہیں“،”آج زندگی تیز رفتار ہوگئی“،”لوگ خالص نہیں رہے“،”احترام نہیں رہا“،”رشتہ رشتہ نہیں رہا“،”محبت رُخصت ہوگئی“،”خون سفید ہوگیا“،”برکت ختم ہوگئی“وغیرہ ، وغیرہ۔ ایسے بیشمار جملے ہر زبان پہ زدوعام ہے۔قصور کسی کا نہیں۔ ضرورت فہم کی ہے۔فلمیDialougeکی نہیں۔
جملوں کی کیفیت لفظ کی کیفیت سے حاصل ہوتی ہے۔ لفظ کی کیفیت احساس پیدا کرتی ہے۔ جو عمل سے وجود میں آتا ہے۔ جب بے عملی کی کیفیت سی ہو تو حقیقت دِکھائی نہیں دیتی۔ یہی افسوسناک بات ہے۔
زمانے کو کوسنے والے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔جو سوچ ہے وہی سوچ کا عکاس ہے۔ یہ وِچار(فکر) کی بات نہیں کہ پچھلا زمانہ اچھا تھا۔ آج کا زمانہ کیوں اچھا نہ ہوسکا؟
آج کے دور میں خامیاں ہی خامیاں آخر کیوں دکھائی دیتی ہے؟ کہیں ہماری سوچ میں خامی تو نہیں؟ کیا ہم میں قناعت نہیں رہی، صبر، اُمید اور برداشت کیا ختم ہوگئیں،آخر یہ کیوں ہے؟ ہماری سوچ اپنے ہی متعلق منفی اور نکتہ چینی کی کیوں ہوتی چلی جارہی ہے؟ یہ مثل ہم پہ کیوں صادق آرہی ہے۔”اپنی بیوی بھدی محسوس ہوتی ہے، دوسروں کی بیویاں خوبصورت دکھائی دیتی ہیں“۔ روایات کے امین تو خوبیوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ کہیں روایات کے نام پر رسومات کا تو شکار نہیں ہو چلے۔ رسومات کا اندھا رواج الزام تراشی کاباعث ہوسکتا ہے۔آج ہمیں اپنا گھر، اپنا خاندان، اپنا معاشرہ، اپنا ملک خامیوں سے بھرپور دکھائی دیتے ہیں۔ افسوس صد افسوس! پاکستانی ہی پاکستان کو گالی دیتا ہے۔ بلاشبہ خامیاں ضرور ہے۔ ہماری خامی یہ ہے کہ ہم خود کمی رکھتے ہوئے خامی کی جسارت تو کرتے ہیںمگر خوبی پیدا کرنے کے لیئے عملی ہمت نہیںرکھتے۔ کم ازکم اپنے ملک کے لیئے مثبت اور تعمیری سوچ تو رکھے!!! آج مسئلہ یوں ہو چلا کہ ہم صرف اپنا ہی سوچتے ہیں،دوسروں کا بھلا نہیں۔
دور ایسا آن پہنچا! رشتوں کے خیال چھوٹ رہے ہیں، اعتماد ٹوٹ چکے ہیں، احترام جاچکے ہیں، محبت، برکت اور خون کی کشش خیالی قصّہ بن رہی ہے۔ تمام گلے، ہر شکوہ دور ہوسکتا ہے۔ ہم اپنی ذات کا خیال دوسروں کے احساس تکلیف سے منسلک کر دے، احساس محبت سے ہوتا ہے۔ محبت احترامِ مرتبہ سے ہے۔ یہی رشتے وجود میں لاتی ہے، برکت پیدا کرتی ہے، محبت خون سفید نہیں کیا کرتی بلکہ بے لوث خون دیا کرتی ہے۔
برصغیر کی تاریخ میں ہر حکمران اپنے اپنے انداز میں حالات کی خرابی کا تذکرہ کرتا رہا مگر کبھی بھی حالات کے سنبھلنے کا ذکر نہ مِلا۔ پاکستان کا ہر آنے والا حکمران یہی کہتا ہے۔ ”ملک نازک ترین دور سے گزر رہاہے“ آخر حالات کی بہتری کی صورت کیا ہے؟ خودداریغیرت مند اقوام خوددار ہوا کرتی ہے۔ درویشوں کا یہ ملک خوداری کا طلبگار ہے۔
”آج زندگی تیز رفتار ہوگئی“۔ سو برس قبل کی تحریر دیکھے تو وہاں بھی رفتارِزمانہ کا شکوہ ملتا ہے۔ناراض لوگ شکایت کرتے ہیں۔ ناراض ِزمانہ شکوہئِ زمانہ کرتے ہی رہتے ہیں۔ زندگی ضرور تیز رفتار ہوئی۔ یہ معاملہ آج سے نہیں صدیوں کے تسلسل سے چلا آرہا ہے۔ آگ کی دریافت، پتھر کا استعمال زندگی کی تیز رفتاری کا آغاز تھا۔ ”انسان کی ترقی انسان کی رفتار کا سبب بنی“۔ دریافتیں جسقدر، مقدار رفتار بھی اُسقدر بڑھتی چلی گئی۔ دریافت نے انسان کا وقت بچایا۔ مگر انسان کی مصروفیت مزید بڑھی۔ ذہنی الجھاﺅ، ترقی کی جستجو، آسائش کی خواہش مزید پھیلی۔ آسانیوں ہی آسانیوں میں پھر یہ شکوہ؟
”خط کی جگہ e-mailنے لے لی۔ e-mail اسقدر جوابی نامہ نہ رہی جتنا رقعہ تھا“۔اکثر لوگ چٹھی کا جواب باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ مگر آج بیشترافراد سے e-mails کا جواب delayسےdelayہوتا چلا جاتا ہے۔ اِس جملہ کو سمجھنے کی کوشش کیجئیے! زمانہ کی تیز رفتاری کا جوابِ شکوہ اپنے قلب کے اندر سے آنے والی ضمیر کی آواز میں ڈھونڈئیں۔ پَتر(خط) اور e-mail کی تاثیر میں کیا فرق ہے؟جواب کی تاخیر وقت کی کمی ہے یا کچھ اور؟ Priorities کی تفریق ہے یا مزاج کا فرق؟ ہر شخص کا دِل جواب اُسکے مطابق دے گا۔
رفتار کا شکوہ اِس وجہ سے بھی ہے۔ آج انسان انسان کو مناسب وقت نہیں دے رہا۔ یہ بھی ایک تکلیف دہ دِقت ہے۔ وقت نکالنا کہیںباعث نقصان ہے تو کہیں بے اختیار مجبوریاں بھی آڑے آرہی ہیں۔ جائزہ اور معیار کے مقصود کورفتار کی انتہا کے نام پر مفقود کر دیا۔
وقت کبھی نکلتا نہیں، نکالنا پڑتا ہے۔ آج وقت نکالنا خودکشی کے مترادف ہوگیا ہے۔ اُلجھن سی ہوگئی۔ ایک جانب زندگی کی ترقی کا نقصان و فقدان تو دوسری جانب زندگی کے احساسات کا نسلوں کی حد تک کھو جانا ہے۔ ترقی کا نقصان بھی نسل کا نقصان ہوا۔ ترقی تو پھر حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر تربیت کا وقت دوبارہ نہیں آسکتا۔ تربیت احساسات سے ہوتی ہے۔ دولت و مر تبہ سے نہیں۔ احساسات اصلاحات و اصطلاحات پیدا کرتے ہیں۔
زندگی میں تعلیم کا مقصد انسان بننا ہے۔ انسان بننادوسروں کی خاطرجینا ہے۔ اِس میں پہلا قدم اپنی ذات کی اصلاح ہے۔ رٹے رٹائے جملے نہیں۔
افسوس! ہم اپنی کوتاہیاں، غلطیاں اِن جملوں کے ذریعے زمانے پر تھونپتے ہیں۔ حقیقت میں رہتے ہوئے خامیوں کو تلاش کرکے اصلاح اپنے سے شروع نہیں کرتے تو دوسروں سے کیا توقع رکھیں گے۔کچھ افراد ضرور سوچ رہے ہوگے ہم خود تو اصلاح کرتے ہیں مگر دوسرے اصلاح حاصل نہیں کرتے۔ کم از کم اپنی ذات کی اصلاح کرکے اپنے حصّہ کا بنیادی کردار تو ادا کرسکتے ہیں۔ یہی ہمارا مقصد ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں۔
(فرخ نور)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......