اقبال اور نئے ہزارے كا چیلنج از جناب كلیم حاذق

Submitted by TeamAdmin on Tue, 10/02/2007 - 11:30

اقبال اور نئے ہزارے كا چیلنج

از جناب كلیم حاذق

گذشتہ صدی نے اردو شاعری كو جو چند بڑے نام دئیے ہیں ، اگر اس كی فہرست مرتب كی جائے تو بلا شبہ اقبال اس میں سر فہرست نظر آئیں گے۔ صرف اس لئے نہیں كہ ان كی مقبولیت كم ہوتی نظر نہیں آتی بلكہ واقعتاً ان كی شہرت ان كی شاعرانہ بڑائی میں مضمر ہے۔ اقبال كے مخالفین ہوں یا ان كے نام كا كلمہ پڑھنے والے یا ان سے سچی عقیدت ركھنے والے یا پھر ان كے كلام میں ان كی عظمت كے اسباب تلاش كرنے والے یا پھرانہیں مبلغ ، مفكر، فلسفی سمجھنے والے سبھوں كے یہاں اقبال اپنی پوری بڑائی كے ساتھ نظر آتے ہیں ۔

دوسری اہم بات یہ ہے كہ گذشتہ صدی كے ہر موڑ پر اقبال موضوع ِ بحث بھی بنے رہے ۔ اس وقت بھی جب ان كے فلسفے كا دور دورہ تھا اور شاعر سے زیادہ ان كے فلسفی یا مصلحِ قوم كی شبیہہ پر گل افشانی كی جارہی تھی اور اس وقت بھی جب انہیں فسطائیت وغیرہ كی بنیاد پر رد كیا جارہا تھا۔ اقبال نہ صرف ناقدین بلكہ اپنے معاصر اور بعد كی نسل كے حواس پر سوار نظر آتے ہیں اور آج جب ہم نئی صدی كی دہلیز پر قدم ركھ چكے ہیں ، یہ سوال اہم ہو جاتا ہے كہ ہم انہیں اپنے شعرائے سلف كی حیثیت سے پڑھیں یا آج بھی وہ ہمارے لئے اسی طرح relevant ہیں جیسا كہ گذشتہ صدی میں ۔ تو میں بحث كے آغاز میں ہی اپنا نقطہ ?نظر واضح كر دینا چاہتا ہوں كہ فلسفی اقبال یا مفكر اقبال كی موت ہو سكتی ہے اگر آپ انہیں خانوں میں تقسیم كر كے دیكھیں یا نہ بھی دیكھیں تو وقت كے ساتھ فلسفیانہ افكار بدلتے رہتے ہیں لیكن شعرائے سلف كی حیثیت سے اقبال كو رد كرنا یا انہیں اردو كی شعری روایات سے منقطع سمجھنا معمولی فہم و فراست كا حامل بھی تسلیم نہیں كرے گا ۔ اس كی كئی وجہیں ہو سكتی ہیں لیكن سامنے كی بات ہے كہ اقبال ہماری اردو شاعری كی روایت كا حصہ بن چكے ہیں اور اس میں كوئی كلام نہیں ہو سكتا ۔ اقبال كے فلسفے كے متعلق بہت ساری باتیں كی جا سكتی ہیں اور یہی اقبال كو گھیرنے كا سب سے آسان اور محفوظ راستہ ہے لہٰذا اس مذاكرے كا جو عنوان مختص كیا گیا ہے میں اسے دو حصوں میں منقسم كر تے ہوئے اپنی بحث كو آگے بڑھاؤں گا ۔ اول تو نئے ہزارے كا چلینج اور دوسرا فكرِاقبال كی معنویت

اقبال اور ہمارے عہد میں كم و بیش تین چوتھائی صدی كا فرق ہے لیكن اثراتِ اقبال كے تعلق سے یہ بات كہی جا سكتی ہے كہ یہ تین چوتھائی صدی كا عرصہ بہت معمولی اور سامنے كی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے بھی كہ جیسا میں نے عرض كیا وہ ہماری بحث و تمحیص كے دائرے سے باہر نہیں رہے ہیں ۔ لہٰذا یہ بات كہی جا سكتی ہے كہ اقبال نہ صرف اپنے عہد بلكہ اپنی تخلیقی خصوصیات اور ازلی افكار كے باوصف آئندہ كئی صدیوں تك یاد ركھے جا نے كے لائق ہیں بشرطیكہ ہم انہیں اپنی ادبی و تہذیبی روایات میں تا دیر زندہ ركھنے كے اسباب فراہم كر سكیں لہٰذا سب سے پہلے تو ہمیں طے كرنا ہوگا كہ:
١۔ ہم اپنی زندگی كے معاملات میں فنونِ لطیفہ كو كوئی ترجیحی حیثیت دیتے ہیں یا نہیں ؟ اگر ہاں تو اس سے اخذ شدہ نتائج كو ہم كس حد تك قبول كرتے ہیں ۔
٢۔ شاعری ہماری ترجیحات میں شامل ہے یا نہیں اور اگر ہے تو پھر اس كی نوعیت كیا ہے؟
٣۔ شاعری سے، كیا ہم كسی خاص طرز كی شاعری مراد لیتے ہیں ؟
٤۔ شاعری كی اس مخصوص پسند میں كیا اقبال كا داخلہ ممكن ہے ؟
٥۔ كیا اقبال اور ہمارے عہد كے مسائل اور طرزِ فكر میں كوئی مناسبت ہے ؟ اگر ہاں تو اس فكر كے سہارے ہم كتنی دور تك جا سكتے ہیں ؟
٦۔ كیا گذشتہ صدی نے اقبال كا تجزیہ صحیح طور پر كیا ہے؟ اگر نہیں تو اقبال كی ہمارے نزدیك كیا حیثیت ہے؟

اس نوعیت كے اور بھی سوالات پیدا ہو سكتے ہیں اور ان كے جواب بھی مختلف ہو سكتے ہیں ۔ مثال كے طور پر اگر ہم اكادمك نكتہِ نظر سے ان سوالات پر غور كریں تو اس كے جواب مختلف بلكہ انوكھے ہوں گے ۔ اگر آپ كسی غیرمتعلق شخص كے سامنے یہ سوالات ركھیں گے تو ہوسكتا ہے وہ الٹا آپ سے ہی سوال كردے كہ اقبال كون تھے ؟ یا اس كا جواب یہ ہوسكتا ہے كہ صاحب فنونِ لطیفہ میری ترجیح نہیں ۔ یا فنون ِ لطیفہ تو میری ترجیح ہے لیكن شاعری واعری نہیں سمجھتا لہذا كوئی رائے دینے سے قاصر ہوں ۔ ہو سكتا ہے ادب كا كوئی برگزیدہ طالبِ علم یہی فرما دے كہ اقبال كو میں شاعر ہی تسلیم نہیں كرتا بلكہ مجھے فلسفی اقبال یا شكوہ جوابِ شكوہ والے اقبال یا فطرت كے ثنا خواں اقبال زیادہ پسند ہیں یا مجھے ایسے اقبال سے قلبی عقیدت ہے جو قومی اور وطنی جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں یا ان كی شاعری كا وہ حصہ زیادہ لائقِ اعتنا ہے جس نے اردو میں ترقی پسندانہ خیالات كو فروغ دینے میں اہم كردار ادا كیا ہے لہٰذا ایسی پسند كے اشعار كچھ یوں ہوں گے ۔

مذہب نہیں سكھاتا آپس میں بیر ركھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا

ہے رام كے وجود پہ ہندوستاں كو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں ان كو امامِ ہند

پتھر كی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاكِ وطن كا مجھ كو ہر ذرہ دیوتا ہے

جس كھیت سے دہقاں كو میسر نہ ہو روزی
اس كھیت كے ہر خوشہ ء گندم كو جلا دو

اے طائرِ لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں كوتاہی

كب ڈوبے گا سرمایہ پرستی كا سفینہ
دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مكافات

جس ساز كے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل كا وہی ساز ہے بیگانہ ء مضراب

بت خانے كے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر كو روتا ہے مسلماں تہِ محراب

جس دل سے یہ دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرہ ء نیساں وہ صدف كیا وہ گہر كیا

شاعر كی نوا ہو، كہ مغّنی كا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو ، وہ باد ِ سحر كیا

اوّل و آخر فنا ،باطن و ظاہر فنا
نقش كہن ہو كہ نو منزلِ آخر فنا

مری مشاطگی كی كیا ضرورت حسنِ معنی كو
كہ فطرت خود بخود كرتی ہے لالے كی حنا بندی

محولہ بالا اشعار میں نے بغیر كسی خاص ترتیب كے نقل كئے ہیں ۔ یہاں درجہ بندی بس اتنی ہے كہ ان كے معروف ترین اشعارسے كم معروف یا ایك موضوع سے دوسرے موضوع كا گریز ہی اس ترتیب كا موجب ہے۔ بحث یہ نہیں ہے بلكہ میرا خیال یہ ہے كہ اگر لخت لخت لوگوں كے جواب میں بھی اقبال ان كی پسند كے معیار پر اترتے ہیں تو كم از كم مسئلہ تو حل طلب نہیں رہ جاتا كہ اقبال كی شاعری ہماری مقبول ِ عام روایت كا حصہ بن چكی ہے اور ہماری سائكی میں بتدریج شامل ہوتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی آشكار ہو جاتی ہے كہ اگر ہم شاعری با لخصوص اردو شاعری كے پرستار اور ثنا خواں ہیں تو اقبال كسی نہ كسی حیثیت سے ہماری محسوسات كو متاثر كرنے كی صلاحیت ضرور ركھتے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے تمام تر جوابات اس بنیاد پر ٹكے ہیں كہ شاعری ہماری ترجیح ہے یا نہیں اور اس كی نوعیت كیا ہے یا نئے ہزارے كی ترجیحات كیا ہو سكتی ہیں ۔ اگر اختصار كے ساتھ عہدِ اقبال پر ایك نظر ڈالیں تو ہمیں دنیا كی بدلتی شكل نظر آئے گی اور مشرق میں تہذیب و ثقافت كے زوال كا منظر نامہ سامنے آئے گا جس كی شكل و صورت انیسویں صدی كے آغاز سے ہی بننے لگی تھی ۔ اس كا احساس غالب كو بھی تھا بلكہ كچھ زیادہ تھا اس لئے وہ براہ راست اس عہد كی نوحہ خوانی میں شامل تھے لہٰذا بے یقینی كی اس فضا نے غالب كو اپنی قدروں كے ساتھ تنہاكردیا تھا ۔ اس بحث سے میرا خیال ہے بہت سارے لوگ نہ صرف واقف ہیں بلكہ اتفاق كرتے ہوں گے ۔میں یہاں مثال كے طور پر غالب كا مشہور شعر پڑھتا ہوں ۔

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت كے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں كئے ہوئے

اقبال كے ساتھ معاملہ ایك حد تك مختلف تھا۔ غالب جن اقدار كی وقوع پذیری كو تشویش كی نظر سے دیكھ رہے تھے اقبال تك آتے آتے وہ احساسات مشرقی اذہان كو اسیر كرچكے تھے اور وہ ان كے عملی مشاہدات كے گواہ بن چكے تھے ۔اقبال تك مغرب كے بڑھتے اثرات اور اس كی چكا چوندترقی نے ایشیائی ماحول میں نہ صرف تہذیبی بلكہ سیاسی بحران پیدا كر دیا تھا اور یہ بے یقینی كچھ اور گہری ہو رہی تھی ۔ مشرقی نظام ِ حكومت كے طور طریقے بھی دور از كار اور سب سے بڑھ كر اس نئی صورتحال كا مقابلہ كرنے كے لئے ناكافی محسوس ہو رہے تھے۔ اس طرح مشرق سیاسی اور تہذیبی دونوں ہی سطح پر پسپائی كا شكار ہو رہا تھا جو پہلی جنگِ عظیم كے بعد مشرقی ممالك كی سرحدوں میں انتہائی حد تك ٹوٹ پھوٹ كی شكل میں ظاہر ہوئی اور ترقی یافتہ و غیر ترقی یافتہ ، ترقی پذیر و غیر ترقی پذیر ، پسماندہ و غیر پسماندہ كی بحث شروع ہوئی اور دلچسپ بات یہ ہے كہ ایسے تمام فیصلے مغربی ماحول و معاشرہ نیز سیاسی عقائد كی بنیاد پر ہونے لگے تھے ۔ اس طرح مشرق اور ایشیائی ملك كمزوروں كے زمرے میں آئے اور شاید مقتدرِ اعلیٰ كے سیاسی تقاضے پورا كرنے كے اہل نہیں تھے اس لئے غلام بنائے گئے۔ یہ الگ بات ہے كہ در پردہ مشرق كے وسائل كی لوٹ كھسوٹ سے مغرب مالا مال ہو گیا۔ اس طرح بڑے اور طاقتور ممالك كی كمزوروں پر بالادستی اور نو آبادیات كا فروغ ہوا ۔ تركی كا زوال ،مشین كی طاقت كے ذریعہ وسائل پر مكمل دسترس نے بقا كے مسائل پیدا كر دئیے۔ ساتھ ہی سائنسی بالخصوص دفاعی ایجادات كا بہائو اور اس كی حشر سامانیاں دوسری جنگِ عظیم كی شكل میں عالمِ انسانیت كو لرزہ براندام كر گئیں ۔ انسان رنگ و نسل اور مذہب كی بنیاد پر تقسیم ہو گیا ۔ سماجی ضرورت كے تحت ہجرت اور اقتدار كے حصول كے لئے پیش قدمی كو خلط ملط كر دیا گیا ۔ ایسے وقت میں جب خدا كے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگایا جانے لگا اور نطشے نے خدا كی موت كا اعلان كر دیا ، برٹنڈرسل نے سائنسی ایجادات كے غلط استعمال اور اس كی حشر سامانیوں كو نہ صرف محسوس كیا بلكہ اس طرزِ فكر كو حیاتِ انسانی كے لئے مستقل خطرہ گردانتے ہوئے كہا:

٫٫انسان كی یہ پیش قدمی انسانی روح كے لئے ہی نہیں بلكہ اس كائنات كے لئے بھی خطرناك ہو سكتی ہے ۔ انسان كی تسخیرِ فطرت كا عمل پوری انسانیت كو تباہ كرنے كا باعث ہو سكتا ہے٬٬

رسل كو یہ بھی ملال تھا كہ خیر و شر كی حدیں مٹ گئی ہیں اور نیكی بدی كے درمیان كوئی قدرِ امتیاز باقی نہیں رہی ۔ علامہ اقبال نے بھی ان خطرات كو شدت كے ساتھ محسوس كیا۔ انہوں نے بے یقینی كے اس ماحول میں خدا كی موت كا اعلان نہیں كیا بلكہ انہوں نے خیر و شر كی اس لڑائی میں انسانی قدروں كو زندہ كرنے اور اس كے متزلزل خیالات میں استحكام پیدا كرنے كا رویہ اپنایا ۔ اپنے اس رجائی طرزِفكر كو شعری لباس پہنانے كے لئے اقبال كو نئے طرزِ اظہار كی بھی ضرورت درپیش آئی۔ اقبال كے كلام كی خوش آہنگی بلكہ بلند آہنگی كا ایك سبب یہ بھی ہے كہ اس طرح اقبال اردو كی شعریات میں نئے علائم اور استعارے خلق كرنے كے رحجان كو فروغ دیتے نظر آتے ہیں ۔ ان كے یہاں شاہین بالمقابل كرگس، خودی اور مردِ مومن كا تصور ایك ایسے انسان كا تصور ہے جو اخلاقی طور پر بلند و بالا كردار كا مالك ہے ۔ اقبال كے یہاں بجا طور پر ایك عملی اور جفاكش انسان نظر آتا ہے جو طبعی اور روحانی دونوں ہی سطح پر تعمیر كا قائل نظر آتا ہے۔ انور سدید نے اپنے مضمون ٫٫اقبال كا تصورِ تعلیم و تہذیب و ثقافت٬٬ میں اس خصوصیت كا ذكر كیا ہے۔ وہ لكھتے ہیں كہ ٫٫اقبال نے وہبی سوچ اور منطقی فكر انگیزی میں اشتراكِ عمل پیدا كیا ٬٬یہی وہ انقلابی فكر تھی جس نے اقبال كو نئے جہانِ معنی سے روشناس بھی كیا اور ان كے طرزِ فكر كو عمومی مقبولیت بھی عطا كی لیكن اقبال كی یہ فكری رہ گزر خاردار رہی۔ اس عہد كی ایك بڑی خصوصیت یہ تھی كہ جہاں ایك طرف آمریت اور ڈكٹیٹرشپ كا غلبہ ہو رہا تھا تو دوسری طرف انسانی تصورات میں شخصی آئیڈیل كی جگہ جماعتیں لینے لگیں اور جمہوری سماج اور نظام كے لئے كوششیں كی جانے لگیں ۔ ان لمحات میں اقبال كے یہاں Ideal كا جو تصورنظر آتا ہے، اسے بہت سارے لوگوں نے فسطائیت سے جوڑنے كی كوشش كی اور اقبال محض ذیل كے اشعار كی وجہ سے معتوب قرار دئیے جاتے ہیں :

جمہوریت اك طرزِ حكومت ہے كہ جس میں
لوگوں كو گنا كرتے ہیں تولا نہیں كرتے

دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے كوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی كی ہے نیلم پری

ہر چند اقبال نے اسپنڈرل كے حوالے سے یہ نكتہء نظر پیش كیا تھا لیكن اردو تذكروں میں بیشتر جگہ گرفتار وہی نظر آتے ہیں تاہم اقبال كا تصورِ حیات انسان كی داخلی تعمیر كے ذریعہ اس كے مثالی كردار كی تعمیر كے خواب سے ہم آہنگ تھا جو جمہوری اقدار میں بھی انسان كو عمومی طور پر اسی مسند پر براجمان دكھانا چاہتا تھا جہاں اس كی قدر و قیمت سے انحراف نہ ہو۔ دوسری بات یہ كہ وہ جس معاشرے كی نمائندگی كر رہے تھے، اس كے مسائل كو شاید مشرقی پیمانے پر ركھ كر دیكھنا چاہتے رہے ہوں گے جبكہ وقت كا پہیہ گردش میں آچكا تھا۔ مشرقی معاشرہ پوری طرح نہ صرف ٹوٹ پھوٹ چكا تھا بلكہ نڈھال ہوچكا تھا۔ ایسی صورت میں خود سپردگی كے علاوہ كوئی چارہ ء كار نہیں تھا حا لانكہ فرد كے اندرون كی تعمیر كے نتیجے میں جو جمہوری معاشرہ تشكیل پاتا، اس كی بلندی كا تصور ضرور كیا جاسكتا ہے۔ اس رخ سے اقبال اپنے عہد كے مخصوص ترجمان نظر آتے ہیں ۔ اقبال كا جمہوریت كے سلسلے میں متضاد خیالات كا ایك سبب یہ بھی ہو سكتا ہے كہ اس عہد میں ہر نئی چیز كوشك كی نگاہ سے دیكھا جارہا تھا۔ اس شك كی بنیاد یہی تھی كہ اس كے ذریعہ ترقی یافتہ معاشرہ دراصل تمام وسائل پر اپنی گرفت مضبوط كرنا چاہتا تھا۔ اس كی مثال یوں بھی دی جا سكتی ہے كہ صنعتی انقلاب سے مستفیض ہونے والا سب سے بڑا طبقہ وہی تھا جس كے پاس وسائل موجود تھے ۔ یہی سبب ہے كہ اقبال نئی قدروں كے قبول اور ردِ قبول كے معاملے میں بیحد محتاط نظر آتے ہیں لہٰذا اقبال كے نظام ِ فكر میں مرد ِ مومن ، شاہین اور خودی كے استعارے ایك ایسے مجسم ، باصفات اور متحرك انسان كے وجود كا اشاریہ ہیں جو بدلتی ہوئی دنیا میں جدید اور پامرد رہے۔ نئی دنیائوں كا انكشاف كرے ان دنیائوں كا جو بقول مولانا ابوالحسن علی ندوی ٫٫علمائے طبعیات اور سائنس كے خواب و خیال میں بھی نہیں آتیں ٬٬ یہی سبب ہے كہ اقبال كے یہاں لمحہء موجود ساكت و جامد نہیں ۔ كلیاتِ اقبال میں اپنی نوعیت كے اعتبار سے جدا نظر آنے والی نظم ساقی نامہ میں وہ كہتے ہیں ۔

دمادم رواں ہے یمِ زندگی
ہراك شئے سے پیدا رمِ زندگی

فریبِ نظر ہے سكون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرّہ ء كائنات

ٹھہرتا نہیں كاروانِ وجود
كہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجود

سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی

ایسا محسوس ہوتا ہے كہ اقبال فہمی میں ہم سے كہیں نہ كہیں وقت كے ہر موڑ پر چوك ہوتی رہی ہے ۔ اقبال كی شاعری كا مطالعہ بھی لخت لخت كیا گیا۔ اس طرح ان كے یہاں جو تضاد ات نظر آتے ہیں وہ اسی كام چلائو تنقید كا نتیجہ ہیں ۔ بعض تنقید نگاروں نے كلامِ اقبال میں ابھرنے والے تضادات كو اس زمانے كی سماجی اور سیاسی صورت حال سے جوڑ كر دیكھتے ہوئے اس دور كی كشاكش كا شاخسانہ بتایا ہے ۔ خوبی یہ ہے كہ ہر مكتبِ فكر كے لوگوں نے اقبال سے كسبِ فیض كیا اور اپنی ضرورت كے مطابق اشعار منتخب كر لئے۔ اس طرح اقبال بیك وقت فلسفی ، حكیمِ ناطق ، مفكر وغیرہ كے القاب سے نوازے گئے اور ان كے شاعر ہونے كی بات كو ثانوی حیثیت دے دی گئی ۔ ۲۰ ویں صدی كی آخری دہائی كے آس پاس اقبال ایك بار پھر موضوع ِبحث بن جاتے ہیں ۔ شمس الرحمان فاروقی نے شاعر اقبال كی حمایت میں كئی مضامین سپردِ قلم كئے جس میں انہوں نے ان اعتراضات كو بے وقعت بتایا جو اقبال كی زبان دانی سے متعلق تھے اور ان خیالات كو شدت كے ساتھ رد كرنے كی كوشش كی جو شاعر اقبال كے رتبے كو بہ حیثیت شاعركم كرتے ہیں یا پسِ پشت لے جاتے ہیں اور محض ان كے فلسفے كی بنیاد پر ان كی ستائش كی جاتی ہے یا مطعون كیا جاتا ہے۔ اپنے مضمون ٫٫اقبال كے حق میں ردِ عمل ٬٬ میں فاروقی رقم طراز ہیں

٫٫اقبال اردو كے بد نصیب شعرائ میں سر فہرست ہیں ۔ زندگی میں ان كی پرستش ہوئی۔ موت نے اس پرستش كی شدت میں اضافہ كیا ۔ انہیں ایك پورے سیاسی نظریے كابانی اور ایك ملك كا معنوی خالق كہا گیا ۔ وہ حكیم الا مت اور ترجمانِ حقیقت اور شاعرِ مشرق كہلائے ۔ وہ فلسفی ، مومن ، مجاہد ، ولی ِ كامل اور مردِ خود آگاہ كے القاب سے مقلب ہوئے لیكن انہیں شاعر كسی نے نہیں مانا ٬٬

اس طرح اقبال كو الگ تھلگ وقت كے نقادوں نے اپنے موقف كے دائرے میں ان كے قدوقامت كی پیمائش كی كبھی اقبال كے افكار معرضِ بحث میں آئے كبھی ان كی شاعری اور ان كا فن ۔ كبھی تو انہیں دیش نكالا تك دے دیا گیا ۔ اپنی اپنی آنكھ اور اپنی اپنی عینك كے مصداق الگ الگ زمینی منظر نامے اور وقت كے بدلتے مزاج كے پس منظر میں اقبال رد و قبول كے منازل میں نظر آتے ہیں اور یہی ان كی بڑائی كا سبب بھی ہے۔ اس طرح برصغیر كے نقادوں میں تو اختلاف نظر آتا ہے لیكن اقبال كے اشعار سرحدوں میں تقسیم نہیں ہوسكے بلكہ عام لوگوں كے دلوں میں نقش ہو گئے جو صرف ایسے اقبال كو جانتے ہیں جس كے اشعار ان كے خون میں گرمی اور سر كو اٹھا كر جینے كی نخوت عطا كرتے ہیں ۔

اب رہی بات نئے ہزارے كے چیلنج كی تو میں عرض كرتا چلوں كہ اقبال كے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے تغیرات كا تسلسل اور خدشات اب بھی قائم ہیں ۔ بیسویں صدی میں انسان نے آزادخیالی كے جس سفر كا آغاز كیا تھا دنیا گھوم پھر كر واپس اسی نقطے پر پہنچنے كی كوشش كر رہی ہے ۔ قدامت پرستی اور تاریخ كی تاریكیوں Darkness of Historyكواز سر، نو حقائق كے نقشے پر دیكھنے كے چلن كی وكالت ہو رہی ہے ۔ ظلم و استبداد كا دیو اب بھی پورے مشرق كو نگلنے كے لئے تیار ہے۔ یہاں كسی زبان ،نسل اور رنگ كا فرق نہیں ہے لیكن آج كا انسان اس صورتحال سے باخبر ہوتے ہوئے بھی ایك بار پھر مختلف طبقوں ، نسل اور ڈھروں میں قید ہو گیا ہے۔ اس كی خودی سر بہ گریباں اور وہ خواہشوں كا غلام بن كر رہ گیا ہے ۔ اس كی چالاكیاں عروج پر ہیں ۔ ایسے میں اقبال كی آواز سنائی دے رہی ہے

حقیقت خرافات میں كھو گئی
یہ امت روایات میں كھو گئی

لبھاتا ہے دل كو كلامِ خطیب
مگر لذتِ شوق سے بے نصیب

بیاں اس كا منطق سے سلجھا ہوا
لغت كے بكھیڑوں میں الجھا ہوا

وہ صوفی كہ تھا خدمتِ حق میں مرد
محبت میں یكتا حمیت میں فرد

عجم كے خیالات میں كھو گیا
یہ سالك مقامات میں كھو گیا

Add new comment

Filtered HTML

  • Allowed HTML tags: <a href hreflang> <em> <strong> <cite> <blockquote cite> <code> <ul type> <ol start type='1 A I'> <li> <dl> <dt> <dd> <h2 id='jump-*'> <h3 id> <h4 id> <h5 id> <h6 id>
  • Lines and paragraphs break automatically.
  • Web page addresses and email addresses turn into links automatically.
Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......