اصناف شاعری میں بحر اور وزن کی اہمیت

Submitted by lovme2008 on Sun, 07/27/2008 - 10:46

اصنافِ شاعری میں بحر اور وزن کی اہمیت
تحریر:۔محمود ارشد وٹو
ایڈیٹر ماہنامہ خوشحالی انٹرنیشنل راولپنڈی
”جناب نظامی عروضی السمر قندی فارسی میں لکھتے ہیں کہ شاعری ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس کی بدولت موہومات کی ترتیب سے چھوٹی شے کو بڑا اور بڑی شے کو چھوٹا کر کے دکھایا جاتا ہے۔اچھی چیز کو بدنما اور بدنما چیز کو خوش نما کر کے دکھایا جاتا ہے تاکہ حضرت انسان کے جذبات مشتعل نہ ہوں اور طبیعت پر انبساط یا انقباض کی حالت طاری ہو اور یہ دنیا میں مہتم بالشان کارناموں کا سبب ہے“۔
کسی چھوٹی شے کو بڑا کرکے دکھانے میں موہومات کا بڑا عمل دخل ہے اور ایک شاعر موہامات کے وسیلے کو اس وقت استعمال میں لاتا ہے جب وہ پختگئ فن کو پالیتا ہے۔پختگئ فن میں جہاں لاشعوری قوتیں تقویت دیتی ہیں وہاں بہت سے شعوری قوتیں بھی مصروفِ عمل ہوتی ہیں۔شاعری کو فقط لاشعوری قرار دینے والے وقتی طور پر اپنے آپ کوآسودہ تو کر لیتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اپنی ترقی کی راہ میں خود رکاوٹ بن رہے ہوتے ہیں۔یعنی اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مار رہے ہوتے ہیں۔
ادب میں شاعر ادیب کو تخلیق کار اس لیے کہتے ہین کہ وہ شعر وغزل یا نثر پارہ تخلیق کرتا ہے نہ کہ وہ کسی سے حاصل کر کے آگے پہنچاتا ہے یعنی ہرکارے کا کام کرتا ہے۔اگر شاعری کو فقط خدا کی دین قرار دے دیا جائے تو پھر شاعر تخلیق کار نہیں کہلا سکتا بلکہ یہاں خدا تخلیق کار بن جاتا ہے اور شاعر اس کا ایک ہرکارہ‘جس کے ذریعے خیالات کو فروغ حاصل ہوتا ہے ۔جیسے قرآن مجید جو کہ خدا کا خالص کلام ہے اور جو حضور کے وسیلے سے ہم تک پہنچا ہے۔اب یہاں کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضور تخلیق کار ہیں اور قرآن مجیدانکی تخلیق ہے۔جیسے عرب کے لوگوں نے قرآن مجید کی آیات سنکر یہ سمجھ لیا کہ محمد شاعر یا خدا نخواستہ مجنوں ہیں ۔مگر جب ان کو بتایا گیا کہ یہ تو خالص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور محمد جو اللہ کے رسول اور پیغمبر ہیں ان پر اتارا گیا ہے تاکہ قوم کی بھلائی ہو اور وہ راہ راست پر آئیں۔اسی طرح اگر شاعری کو قافیہ ردیف،غزل،نظم،مرثیہ ،بحر،وزن سے مبراّ قرار دے دینا چاہیے اور جس پر نازل ہو نعوذ بااللہ اس کواللہ کا پیغمبر سمجھ لیا جائے کیونکہ کسی انسان پر خدا کی دین ہو تو وہ خاص ہو کر عام کی فہرست سے خارج ہو جاتا ہے۔یقینا ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن مجید خالص اللہ کا کلام ہے اگر اس میں انسانی شعوری کوششوں کی مدد سے تبدیلی کر دی جائے تو وہ خدا کے کلام کی بجائے انسانی تخلیق کہلائی جانے لگے گی۔جیسے تورات،انجیل اور دیگر آسمانی کتب میں انسانی شعوری کوششوں سے تبدیلی کی گئی تو خدا نے ان کتابوں کو ختم کرکے ایک قرآن مجید نازل کردیا اور اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔
ا س لیے نازل ہونے والے کلام کو جب قافیہ،ردیف،غزل،نظم اور بحر وزن میں فرق دے کر شاعر کو تخلیق کار سمجھا جاتا ہے۔بحر اور وزن ایک ایسی بھٹی ہے جس میں سے گزرنے والے کلام کندن بن جاتے ہیں اور یہ شاعر کے تخلیق کار ہونے کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نے کتنی محنت کی ہے اگر شاعری فقط خدا کی دین ہے تو پھرمشاعروں میں داد شاعر کی بجائے اللہ رب العزت کی ذات کو دینی چاہیے۔
یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ کچھ نئے لکھنے والے الفاظ کا ایک دوسرے کے برابر جگہ گھیرنے کو وزن اور بحر قرار دیتے ہیں اور کسی شعر کو بے وزن ہونے کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ شعر کا ایک مصرعہ چھوٹا ہے اور دوسرا لمبا ہے۔ایسی دلیل تو کسی کم فہم اور ناپختہ ذہن کی پیداوار ہو سکتی ہے۔ایسی دلیلیں وہ لوگ دیتے ہیں جو بحر اور وزن سے ناآشنا ہوتے ہیں یا پھر وہ اس کی پابندی براداشت نہیں کر سکتے۔
نوٹ: جو قارئین اپنا کلام کی اصلاح لینا چاہتے ہوں یا شاعری کا فن سیکھنا چاہتے ہوں کہ شعر وزن میں کیسے ہوتا ہے یا وزن اور بحر کیا چیز ہے وہ دوستانہ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ارشد وٹو
0334-5453784 (timing: 1:15 pm to 2:00 pm or 6:30 pm to 10:00 pm)
mehmoodarshadwattoo@gmail.com
lovme2008@yahoo.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......