اسامہ بن لادن کی موت اور ہندو پاک کے تلخ ہوتے رشتے

Khwaja Ekram's picture

اسامہ بن لادن جس طرح اپنی شخصیت اور کردار کے حوالے سے ایک معمہ بنتا جارہا ہے اسی طرح اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے کئی ممالک کے درمیان اس کی ہلاکت کی خبر سے نئی پیدگیاں پید ہورہی ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے جس انداز سے امریکہ کو پاکستان کی سر زمین میں اس کو خبر کیے بغیر کاروائی کی اور پاکستان کو کانوں کان اس کی خبر نہیں ہوئی ۔ ملک کا سارا نظام ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے سامنے بونا نظر آیا۔ پاکستانی حکومت اور فوج کے سامنے نہ منہ چھپانے کو جگہ تھی اور نہ کچھ بولنے کے لیے زبان تھی کیونکہ ایک طرف امریکہ کے متضاد بیانات جس سے پورے طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کیا اس حملے کی خبر پاکستان کو تھی یا نہیں ۔ پاکستانی حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے کئی امریکی اہلکاروں کی جانب سے پاکستان کو اس کی حمایت کے لیے شکریہ کہتے سنا گیا ، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو خبر تھی ۔ لیکن یہ سب ڈارمہ محض عوام وک بےوقوف بنانے کے لیے ہے ۔ سچائی تو یہ ہے کہ پاکستان کو اس کی بھنک بھی نہیں لگنے دی گئی کیونکہ امریکہ کو پہلے سے ہی پاکستان کے رویے سے شبہات تھے ۔ اور جب یہ خبر مصدق ہوئی کہ اسامہ پاکستان میں ہی ہے تو یہ خبر امریکہ کے لیے یقیناً ہوش اڑا دینے والی خبر رہی ہوگی۔اسی لیے انتہائی خفیہ طریقے سے ساری کاروائی کی گئی۔اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ کس طرح وائٹ ہاوٴس میں اوبامہ کے مشیربرائے انسداد دہشت گردی جان بریٹن نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے بہادرکمانڈوزکی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ:
” پاکستان اس واقعے پرمنہ میں انگلیاں دبائے حیران رہ گیا ہے اوراس آپریشن میں ہم نے پاکستان کو ہلنے تک کاموقع نہیں دیا۔ہم نے پاکستانیوں سے اس وقت تک رابطہ نہیں کیاجب تک آپریشن میں ملوث ہمارے تمام افراداورہیلی کاپٹرپاکستانی فضائی حدودسے باہرنہیں چلے گئے ،اس وقت پاکستانی اس واقعے پرردعمل ظاہر کررہے تھے جوایبٹ آبادمیں وقوع پذیرہواچنانچہ وہ اپنے لڑاکاطیاروں کوفوری پروازکیلئے تیارکررہے تھے ۔صاف ظاہرہے کہ اگرپاکستانی اپنے طیاروں کو اڑانے یاکچھ اورکرنے کی کوشش کرتے توہمیں تشویش تھی کہ انہیں ہمارے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھاکہ امریکایاکوئی اوریہ کاروائی کررہاہے،اس لئے ہم پوری صورتحال پرنظررکھے ہوئے تھے اوراس بات کو یقینی بنارہے تھے کہ ہمارے لوگ اورہیلی کاپٹرپاکستانی فضائی حدودسے باہرنکلنے میں کامیاب ہوجائیں اورخوش قسمتی سے پاکستانی فورسز کی طرف سے کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔آپریشن کو تشکیل دیتے ہوئے یہ ذہن میں رکھاگیاتھاکہ پاکستانی فورسزکی جانب سے کسی بھی کاروائی کوکم سے کم رکھاجائے’’۔

کیونکہ جس اسامہ کی تلاش کے لیے امریکہ نے نجانے کہاں کہاں کی خاک چھانی وہ اسامہ اسے پاکستان کے انتہائی حساس علاقے میں ملا۔ اسی لیے یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو اس کی خبرنہیں تھی ۔ اور یہ بات سامنے آتی ہے تو خود پاکستان کے لیے فضیحت کھڑی ہوتی ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹرز کم و بیش ایک گھنٹہ تک پاکستانی حدود میں رہے؟ کیا آئی ایس آئی جان بوجھ کر اسامہ کو چھپار ہی تھی؟ اگر نہیں تو کیا وہ اتنی ہی نا اہل ہے کہ دنیا کا سب سے مطلوبہ شخص اُس کی ناک کے نیچے رہائش پذیر تھا اور اُس کو کانوں کان خبر نہ تھی؟ یہ وہ سوالات ہیں جس کے سبب پاکستانی فوج گھبرائی اور سہمی ہوئی ہے بلکہ یہ بھی کہیں کہ بوکھلائی ہوئی ہے ۔ شاید اسی لیے وہ بلا وجہ ہندستان پر طرح طرح کے بیانات دے کر اپنی خفت مٹانا چاہتی ہے یا اپنے عوام کو ہندستان مخالف بیان دے کر خوش کرنا چاہتی ہے ۔لیکن ہندستان نے اگر امریکہ اور پاکستان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ممبئی حملے کے لیے ذمہ دار دہشت گردوں کو ہندستان کے حوالے کیا جائے تو اس میں کون سی غلظ بات ہے یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہےکہ ممبئی حملے اور ہندستانی پارلیمنٹ پر حملے میں پاکستانی دہشت گرد ملوث تھے ۔ اب جبکہ اسامہ کو پاکستان میں پناہ دینے کی بات دنیا کے سامنے آگئی ہے تو ہندستان بھی یقیناً ان دہشت گردوں کو بارے میں سوال کرے گا جو قندھار میں اغوا کیے گئے ہندستانوں کے بدلے پاکستانی قیدی چھوڑے گئے تھے اور ساتھ ہی قصاب کے آقاؤں کے بارے میں سوال پوچھنا لازمی ہے کیونکہ اب پاکستان اپنے دوہرے رویے کے سبب دنیا میں بے نقاب ہو چکا ہے اور اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا ہے ۔ ایک طرف امریکہ اپنا دباؤ بڑھا رہاہے اور دوسری جانب پڑوسی ممالک بھی اس وقت کا فائدہ اٹھائیں گے۔اس لیے پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے دوہرے رویے کو چھوڑے اور اب تو کم از کم صاف شفاف پالیسی پر عمل کرے ۔
ایسے موقعے پر اگر پاکستان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کو اسامہ کی خبر نہیں تھی تو امریکہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ ہم دہشت گردی کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور دہشت گرد پاکستان میں پناہ گزیں ہیں تو ان ختم کرنے اور پتہ لگانے میں اگر پاکستان نااہل ہے اور اس کی ایجنسیاں اس قابل نہیں تو امریکی ایجنسیاں پاکستان میں اس وقتر تک مقیم رہیں گی جب تک پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک نہیں کر لیا جاتا۔اگر یہ بات ہوئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کا وجود خطر ے میں آجائے گا ۔
اسی طرح اگر پاکستان نے اپنے وجود کو بچانے کے لیے اس بات کا اقرار کیا کہ ہمیں اسامہ کا علم تھا تب بھی پاکستان کی خیر نہیں کیونکہ اب تک بھرم میں بھی جب جب امریکہ نے چاہا پاکستان پر ڈرون حملے کرتا رہا اور افغانستان سے پاکستانی فضائی پر وازیں بھرتا رہا ۔اب ان حالات میں امریکہ کو مزید جواز بھی ملیں گے اور ہمت بھی ملے گی۔اس لیے بجا طور پر یہ سمجھنا چاہئے کہ ابھی پاکستاب ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے پاکستان کی کوئی بھی نئی تاریخ لکھی جاسکتی ہے ۔خدا نہ کرے ایسا ہو کیونکہ ابھی ایک دن پہلے ہی پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد جیسا واقع دوبارہ ہوا تو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف جنرل کیانی کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، کور کمانڈرز کانفرنس کا ایک نکاتی ایجنڈا ایبٹ آباد واقعہ تھا، اجلاس میں پاک امریکا ملٹری ٹو ملٹری روابط پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں ایبٹ آباد واقعے اور اسکے اثرات کے علاوہ پاک فوج اور امریکی افواج کے تعلقات پر بحث کی گئی۔ اجلاس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ ہوا تو برداشت نہیں کیا جائے گا اور آئندہ ایسی کاروائی ہوئی توامریکا سے تعلقات پر نظرثانی کرینگے۔ پریس ریلیز کے مطابق ایبٹ آباد واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو فوجی اور انٹیلی جنس تعاون پر نظرثانی کرینگے۔ اجلاس میں پاکستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے جدید نظام کے تحت انتہائی محفوظ ہیں، اجلاس میں اس عزم کا ارادہ کیا گیا کہ ملک کی سالمیت اور جغرافیائی حدود کا تحفظ کیا جائیگا۔لیکن اس بیان کے آنے کے ایک ہی دن بعد شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہوئے اور کئی ہلاکتوں کی خبر آئی ۔
اسامہ کی موت کے بعد پاکستان ایک ایسی حالت میں گرفتار ہے کہ اسے نہ کچھ کہتے بن رہا ہے اور نہ کچھ کرتے بن رہا ہے کیونککہ فوج ، حکومت اور خفیہ ایجنسیاں سب کے سب بے نقاب ہوچکی ہیں اور امریکہ انتہائی تشویش بھری نظروں سے پاکستان کو دیکھ رہا ہے ۔ اسامہ اور پاکستان کے حوالے سے ہر روز ایک نئی خبر آرہی ہے اور جس انداز سے امریکہ اس معاملے میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکہ پاکستان پر مزید دباؤ بنائے گا اور کچھ نہ کچھ ایسے اقدامات کرے گا جو پاکستان کے حق میں کبھی بھی بہتر نہیں ہوگا ۔ لیکن امریکہ کو کون کیا کہے ؟ آج طاقت و قوت اسی کے نام سے منسوب ہے اور دہیشت گردی کی لڑائی کے لیے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد مل رہی ہے تو پاکستان سے مواخذہ کا حق تو اسے ہے ہی۔
لیکن ان حالات میں بلا وجہ ہندستان کی جانب نظر اٹھانا اور الٹے سیدھے بیانات دے کر امن کے ہموار ہوتے رشتوں کو تلخیوں میں بدلنے کی کوشش قابل مذمت ہے اس سے احتیاط کی ضرورت ہے ۔کیونکہ امریکہ ہو یا چین اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر پاکستان سے ہمدردی اور دوستی کا دم بھرتے ہیں وقت آنے پر یہی ان کے سب سے بڑے دشمن ہوں گے۔ پاکستان کو ان حالات کے بارے میں سوچنا چاہئے اور اشتعال سے بچتے ہوئے اپنے پڑوسی سے تعلقات خراب کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ وقت کے جب پاکستان ہر طرف سے گھرا ہوا ہے تو ایسے میں ایک اور محاذ کھول کر اپنے آپ کو کمزور کرے۔

Share this
Your rating: None Average: 1 (1 vote)