احــــمـــد نديــــم قـــــاســــمـــــى

Submitted by kurdupk on Sat, 09/05/2009 - 13:16

احمد ندیم قاسمی کا خاندانی نام احمد شاه اور ادبی نام احمد ندیم قاسمی تھا۔ انکی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء بمقام انگه تھل خوشاب ضلع سرگودھا پنجاب۔ والد کا نام پیر غلام نبی عرف نبی چن تھا۔ آپ کے بزرگ عرب سے ایران اور ایران سے برصغیر آۓ۔ اور ملتان میں قیام کیا۔ جب تھل خوشاب کی مشهور وادی پر مغلوں کا قبضه هوگیا تو وادی سون میں تبلیغ اسلام کے لیے ان بزرگوں کو ملتان سے ایک پهاڑی گاؤں انگه بلوایا گیا انکا ذریعه معاش کاشتکاری تھا۔

ابتدائی تعلیم 1920-25ء انگه کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ پرائمری کی جماعتیں اسی گاؤں کے پرائمری اسکول سے پاس کیں۔ مڈل، هائ اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کیمبل پور کے گورنمنٹ مڈل اسکول اور انٹرمیڈیٹ کالج سے حاصل کی۔ جبکه بی اے کا امتحان صادق ایجرٹن کالج بھاولپور سے 1935ء میں پاس کیا۔ 1948ء میں خاندان کے قریبی عزیزوں میں شادی هوئ۔ 1936-37ء میں ریفارمز کمشنرز لاهور، کے دفتر میں محرر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ هفته وار تھذیب نسواں کے لیے غیر ملکی افسانوں کے تراجم کرتے رهے۔ اسی دوران اوکاڑه میں ٹیلیفون آپریڑر کے طور پر 9 دن کام کیا۔ 1939 سے 41ء تک ایـــکسائــــز سب انــــسپیکــــٹر کے طور پرملازمت انجام دی۔

ادارات
ایڈیڑر هفت روزه پھول

1941-45ء

هفت روزه تہذيب نسواں

1941-45ء

ماهنامه ادب لطیف

1943-45ء
ماهانه سویرا

1948-49ء

روزنامه امروز

1953-59ء

ماهنامه فنون

1963- تا زندگی

اساتذه باقاعده کسی سے اصلاح نہيں لی البته اختر شیرانی اور مولانا عبدالمجید سالک کے مشوروں سے بهت کچهـ حاصل کیا۔ معنوی استاد والده۔۔۔۔ جنهوں نے غیرت اور جرات مندی کے ساتهـ زنده رهنا سکھایا۔ والده کی وفات کے بعد آپ کے سرپرست چچا پیر حیدر شاه مرحوم جنهوں نے قرآن مجید کی تفسیر پڑھائ اور علم و ادب کے ذوق کو نکھارا۔

اردو و عربی کا طالب علم هونے کی وجه سے آپ نے عربی اور اردو کے اکابر شعراء کو ذوق و شوق سے پڑھا۔ غالب، عرفی اور اقبال نے بهت متاثر کیا۔ روس، جرمنی، فرانس اور انگلستان کے فکشن کا سلسله وار مطالعه کیا۔ شاعری میں گوئٹے اور شیکسپئیر اور فکشن میں ٹالسٹائ اور فلسفه میں برٹرینڈرسل نے متاثر کیا۔ تاریخ میں ابن خالدون سے متاثر تھے۔ علم نفسیات میں ژنگ اور فرائڈ کے قائل تھے۔ جدید دور کے سیاستدانوں میں وه قائداعظم کی استقامت اور ماؤزے تنگ سے متاثر تھے۔ سائنس کے ایک شخصیت آئڈئیل تھی وه تھی آئن سٹائن۔ مذهب میں وه قرآن پاک سے بهت متاثر تھے۔

o دھڑکنیں، ﴿پہلا شعری مجموعه﴾ مطبوعه 1942ء جو کئ اضافوں کے ساتهـ رم جھم کے نام سے 1944ء میں شائع هوا۔

o پہلى مطبوعه نظم 1931ء میں مولانا محمد علی کے انتقال پر کہى جو روزنامه سیاست لاهور میں شائع هوئ۔

o پہلا افسانوی مجموعه چوپال مطبوعه 1940ء۔

o پہلا افسانه بدنصیب بُت تراش 1936ء رساله ارمان لاهور۔
o قید و بند مئ 1951ء سے نومبر 1951ء تک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند رهے۔
دوسری بار 1958ء سے 1959ء تک۔

صحافت اور کالم نگاری میں حرف و حکایت امروز 1959ء موج در موج ہـــلال پـــاکســـتان مطائبات روزنامه احسان لاهور، رواں دواں روزنامه جنگ، تاحیات، موج در موج روزنامه حریت۔ آپ امروز کے مدیر کے مدیر بھی رهے۔ 1948ء سے 1954ء تک اجمن ترقی پسند مصنفین کے سیکرٹری جنرل رهے۔

1964ء میں مجموعه کلام دشت وفا پر آدم جی ادبی انعام 1968ء میں حسن کارکردگی ایوارڈ حکومت پاکستان 1960ء میں ستاره امتیاز دیا گیا۔ 1946ء سے 48ء تک پشاور ریڈیو سٹیشن سے بحیثیت سکرپٹ رائٹر وابسته رهے۔ 14 اگست 1947ء کو اعلان آزادی کے موقع پر پشاور ریڈیو پاکستان کا آغاز آپ هی کے نغموں اور ترانوں سے هوا تھا۔ آپ کی تقریباً تمام مشهور و مقبول کہانياں و ڈراموں کی صورت میں پیش کی جاچکی هیں۔

افسانوی مجموعوں میں 15 سے زائد افسانوی مجموعے لکھے جن میں چوپال، بگولے گرداب، طلوع و غروب، گرداب، سیلاب، آنچل، آبلے، آس پاس، در و دیوار، سناٹا، بازار حیات، برگ حنا، گھر سے گھر تک، کپاس کا پھول، نیلا پتھر

﴿1980ء تک۔﴾ شامل هیں۔ اسکے علاوه تنقید تحقیق، تعلیم و ادب پر ان کی 8 سے زائد کتب شائع هوچکی هیں۔ انھوں نے بچوں کے لۓ بھی تقریباً 4 کتب لکھی هیں۔

ملازمت 1974ء تا زندگی ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب، لاهور۔

بین الاقوامی حیثیت: افسانوں و نظموں کو چینی، روسی، انگریزی، پشتو، پنجابی، سندھی، بنگله، مراٹھی، گجراتی، اور فارسی زبانوں میں ترجمه هوچکا هے۔ آپ نے دنیا کے متعدد ممالک کے سفر کۓ۔

In addition,mermaid gowns mermaid gowns, a high quality observe will promote your analyze and status. If your organization partners saw you use a famous Swiss observe,black evening dress black evening dress, they want to believe you happen to be a successful and timely person. And they wish to have cooperation with you. In addition,evening formal dresses evening formal dresses, it is better for you to buy a bigger size when you are buying a dress which can be easier to change. So compared with the formal wedding dress wedding dress,mens watches mens watches, why to pick a informal one ? More use Formal wedding dress can only be used once on your big day,plus sizes dresses plus sizes dresses, but casual wedding dress wedding dress can be used on many occasions such as the normal parties.Related Article:

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......