آہٹ

Atif Aliem's picture

جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں

تحریر میں کوئی ربط ہو تو کیونکر کہ حلقوم میں دم توڑتی چیخیں بے ربط ہیں، ہچکیوں کی کوئی لے نہیں اور آنسوؤں کی تسبیح دانہ دانہ ہے۔ہم ایک نامسعود وقت کی قید میں ہیں اور ہمارے دل آنے والی بد بختیوںکے خوف سے لبریز ہیں۔جو ہوا اس سے بدتر کیا ہوسکتا ہے اور جو اب تک نہیں ہوا اس کی ہولناکی ہماری آنکھوں کی نمی میں تحریر ہے۔

سیاہ بخت لیاقت باغ کی مٹی نے ملک کے ایک اور وزیر اعظم کے خون کو اپنی رگوں میں جذب کرلیا۔اس بار بھی سید اکبر کا نشانہ بے خطا تھا اور اس بار بھی آخری گواہی اور آخری ثبوت کو مٹانے والے وہیں کہیں موجود تھے۔منصوبہ ساز ہجوم اور لیڈر کی نفسیات سے آگاہ تھے سو طے شدہ منصوبے کے مطابق اچانک کسی نے نعرہ بلند کیا اور اپنی محبوب قائد کے سحر میں مبتلا دیوانوں کو گرما دیا۔وہاں کھیلے جانے والے خونی ڈرامے کے سکرپٹ کے مطابق ضروری تھا کہ ہجوم کو گرما کر قائد کی گاڑی کے گرد جمع ہونے پر اکسایا جائے سو یہی ہوا۔ قائد کو بھی گوارہ نہ ہوا کہ گاڑی کے گرد جمع اپنے جانثاروں کو مایوس کرے ۔محبتوں کا بہاؤ ہر اندیشے اور ہر خوف کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔قائد نے بھی یکسر بھلا دیا کہ پیشہ ور شکاری اس کی تاک میں ہیں۔وہ اپنے دیوانوں کی محبتوں کا قرض ادا کرنے گاڑی کے سن روف سے طلوع ہوئی ۔یہی وہ لمحہ تھا جس کا شکاریوں کو جانے کب سے انتظار تھا۔سو پہلی گولی جو چلی تو گردن کے آرپار ہوئی، دوسری نے کاسہ سر میں جگہ بنائی اورپھر افراتفری کا سماں تخلیق کرنے کیلئے کسی خودکش حملہ کی مستعار خدمات کام آئیں۔ وفاق کی دمکتی علامت لہو کا کفن اوڑھ کر عدم کی پنہائیوں میں اتر گئی اور ہر سو خون میں لتھڑی تاریکی پھیل گئی۔ایک تاریکی کہ جس کی کوکھ سے جانے کتنی تاریکیوں کو ابھی جنم لینا ہے۔جانے ابھی کتنے سورج ہیں جن کے مقسوم میں لہو کا کفن اوڑھ کر ابدی تاریکیوں میں دفن ہونا لکھا جاچکا ہے۔

اس روز خود کش حملوں کے موسم اور بے نظیر بھٹو کے گرد لپٹے ہوئے ہولناک خدشات کے باوجود جیالے ہر خوف اور خطرے سے لاپرواہ ہوکر قافلہ در قافلہ وہاں موجود تھے۔وہ جس خواب کے دیوانے تھے وہ خواب ایک دہائی کے بے تابانہ انتظار کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھا۔خطرات تو موجود تھے اور ان خطرات کی دہائی بھی دی جارہی تھی۔مسلسل انتباہ کیا جارہا تھا کہ سیکورٹی کا انتظام ناقص ہے ،ہر روز بتایا جارہا تھا کہ آلات کام نہیں کررہے ہیں۔یہ سب تھالیکن اس کے باوجودیہ تصور کرنا محال تھا کہ ایک دلکش خواب کویوں سرشام اور سر عام مٹادیا جائے گا۔جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوکر رہا ۔ایک خواب قتل ہوا اور بھٹو خاندان کی خون رنگ کہانی کا سب سے درخشاں باب تمام ہوا۔

لہو میں بھیگی کامرانیوں پر مشتمل یہ کہانی کئی ابواب پر مشتمل ہے۔پہلا باب ؛ایک باپ نے اسی شہر میں پھانسی کے پھندے کو چوما۔دوسرا باب؛ ایک بھائی دیار غیر میں پر اسرار موت سے ہمکنار ہوا۔تیسرا باب؛ ایک اور بھائی کا لاشہ کراچی کی ایک شاہراہ پر گرا۔چوتھا باب؛ ایک ماں صدمات کی شدت سے ہار کر اپنے حواس گنوا بیٹھی اور پانچواں باب؛ایک اور بھٹو نے اپنا خون دے کر جمہوریت کی مانگ سجادی۔المیہ محض یہ نہیں کہ بچوں سے ان کی ماں چھین لی گئی اور کارکنوں سے ان کی چھتر چھایا کو نوچ کر قبر کی تاریکیوں کے حوالے کردیا گیا۔المیہ یہ بھی ہے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر ٹوٹ گئی جس کے بعد کوئی ایسا نہیں رہا جو فیڈریشن کے استحکام کی علامت بن سکے۔وہ ایک طرح سے ماں جیسی تھی جس نے گھربھر کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا تھا۔اب وہ نہیں تو ہمیں گھر کی فکر کرنا پڑے گی۔

ہم خون کی برکھا میں موت کا جھولنا جھولنے کے عادی ہوچلے ہیں۔ہم جھولتے رسوں پر قدم جما جما کر چلنے کے عادی ہیں اور ہر بد سے بد تر کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن جو ہوا اس سے زیادہ بد تر اور کیا ہوسکتا ہے؟اس بے امان وقت کے دامن میں ابھی ہمارے لئے اور کتنے آنسو اور کتنی ہچکیاںباقی ہیں،کون جانے؟۔جو بدترین واقعہ رونما ہوسکتا تھا وہ رونما ہوچکا لیکن طے یہی ہے کہ سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا۔ملک کو کوئی گوشہ، کوئی قریہ ایسا نہیں ہے جہاںآگ کی تپش نہ پہنچی ہواور جو پرتشدد احتجاج کی لپیٹ میں نہ آیا ہو۔صرف سندھ پر ہی موقوف نہیں ہے دوسرے صوبوں میں بھی حالات پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔سانحہ اتنا عظیم ہے کہ اس کا رد عمل جھیلنے کی ہم سکت ہی نہیں رکھتے تھے لیکن ہمیں جانے کب تک کس کس کا کیا دھرا جھیلنا ہی ہوگا۔ہماری ناتوانی کا تو پہلے سے یہ عالم تھا کہ کپکپاتے ہونٹوں پر حرف دعا سجائے ہم معجزوں کی آس میں پڑے تھے۔ ہم اپنی فصیل و در کی بنیادوں میں کسی اور بھونچال کا جھٹکا کیوں کر سہہ پائیں گے۔

اس لمحے دماغ ماؤف ہیں اوربد ترین خدشے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔جو نقصان ہوچکا اس کی تلافی تو ناممکن سی بات ہے لیکن ہمیں اپنی ساری توانائیاں اس ایک نکتے پر مرکوز کرنا ہوں گی کہ ہم اس نقصان کے مضمرات کو کیسے کم سے کم کرسکتے ہیں۔ان حالات میں بھلے یہ کتابی بات لگے لیکن واحد آپشن یہی ہے کہ ملک میں فوری طور پرایک ایسی قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جو اتفاق رائے کی حامل ہو اور جو اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہو۔اس کے ساتھ ہی اس کے سوا بھی چارہ نہیں رہا کہ تین نومبر سے پہلے کی عوام دوست عدلیہ کو فعال کردیا جائے۔ہماری تاریخ کے گذرے ساٹھ سال زخم در زخم ہیں۔ہم پر بہت سے سانحے بیت چکے ہیں اور ہر سانحہ جیوڈیشل انکوائری کاکفن پہنا کر زیر زمین دفنایا جاچکا ہے لیکن اب یہ نہیں چلے گا۔بے نظیر بھٹو کا قتل کوئی ایسا قتل نہیں جسے انکوائری کمیشنوں کے حوالے کرکے’’ ہور سناؤ کی حال اے‘‘ جیسی کیفیت خود پر طاری کردی جائے۔اب تین کہے سے بات بنے گی نہ پانچ کہے سے ۔وقت آگیا ہے کہ اب اوپر کی سطح پر تسلیم کرلیا جائے کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔س بار سرخ فیتوں کو آگ لگا کر ہر ہر بات کھول کر بتانی پڑے گی۔یہ بتانا پڑے گا کہ خوابوں کا دشمن کون ہے؟یہ بھی بتانا پڑے گا کہ ملک کو آگ، خون ، انتشار اور بے یقینی کے حوالے کرنے میں کس کا مفاد پنہاں ہے؟۔اس ملک میں کہیں تو کوئی ایسی غار ،کوئی ایسا تہہ خانہ اور کوئی ایسا سیف ہاؤس موجود ہے جہاں کچھ لوگ سرجوڑ کر بیٹھتے ہیں اور ایک برفیلی سفاکی کے ساتھ حادثوں کی نوک پلک سنوارتے ہیں۔کسی نہ کسی کواس نامعلوم غار یا تہہ خانے یا سیف ہاؤس کا سراغ لگانا پڑے گا اور ان لوگوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر پھینکنے ہوں گے جن کی رگوں میں خون نہیں برف بھری ہے۔

گھاؤ بہت گہرے ہیں اورکربناک بے بسی کا احساس بہت شدید ہے لیکن ایک ذمہ دار قومی حکومت اور تین نومبر سے پہلے کی عدلیہ باہم مل کر معاملات کی بہتری کی صورت نکال سکتی ہے۔فی الوقت یہی ایک انتظام میسر ہے جس کی مدد سے دلوں کے گھاؤ بھرنے اور غیض و نفرت کے لاوے کو پھیلنے سے روکنے کی تدبیر کی جاسکتی ہے۔ یہ بات قول محال ہی سہی لیکن بہرطور اس کیلئے ہمیں اناؤں کے حصار کو توڑنا ہوگا اورہوش مندی اور تدبر کو کام میں لانا ہوگا۔ا اگر کسی طرح سے یہ ممکن ہوسکے تو شاید خوابوں کا قتل تھم جانے کی کوئی صورت بن پائے اور شاید چاروں صوبوں کی زنجیر کے خون ناحق کا کچھ مداوا ہوسکے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

Share this
No votes yet