آخری جنتی

Submitted by tahanizami on Tue, 08/12/2008 - 09:48

آخرت میں رحمت کے حیرت انگیز مظاہرے

آخری جنتی

انسان خداوند کریم کے احکام بجا لائے اور اطاعت و فرمانبرداری کا مظاہرہ کرے تو اس کے بدلے میں جو اسے ثواب دیا جاتا ہے، اسے اجر کہتے ہیں۔ اگر انسان گناہ کرے اور برائیوں پر کمر باندھ لے لیکن اس کی برائیاں اور خطائیں معاف کردی جائیں تو اسے مغفرت کہتے ہیں۔ یہ دونوں بندے کو نوازنے کی صورتیں ہیں لیکن ان دونوں کرم بخش صورتوں کے علاوہ نوازش و عطا کی ایک حیرت انگیز صورت اور بھی ہے جسے رحمت کہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت انسان نے کوئی عمل نہ کیا ہو لیکن اسے اجرو ثواب سے لاد دیا جائے اور اس کے لئے نعمتوں کے انبار لگا دیئے جائیں، قیامت کے دن اس عظیم و عجیب رحمت کا مظاہرہ ہوگا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک خاص صورت یہ بیان فرمائی ہے جس کا تعلق ایک گناہ گار شخص سے ہے جو دوزخ میں ہوگا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اسے پہچانتا ہوں، اسے سب سے آخر میں دوزخ سے نکالا جائے گا۔ وہ نجات پاکر دوزخ کے کنارے پہ کھڑا ہوجائے گا اور رب کا شکر ادا کرے گا۔ جس نے اسے آگ کے اس بھڑکتے الاؤ سے نجات دی۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرے گا، یا اللہ! دوزخ کے اس ہولناک اور ڈراؤنے منظر نے مجھے ہراساں کیا ہوا ہے۔ تو میرا رخ جنت کی طرف کردے تاکہ میں اس خوف و ہراس سے چھٹکارا حاصل کرلوں اور اس ذہنی عذاب سے نجات پاؤں۔
ارشاد خداوندی ہوگا : میرے بندے! اگر ہم نے تیرا یہ مطالبہ مان لیا تو پھر تو اور مطالبہ کرے گا؟ وہ بندہ عرض کرے گا۔ خداوندا! میں سچے دل اور پکی زبان کے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ اور کچھ نہیں مانگوں گا، مجھے صرف دوزخ سے دور کردیا جائے۔
چنانچہ اس کا یہ مطالبہ مان کر اسے جنت سے کافی فاصلے پر کھڑا کردیا جائے گا۔
وہ عرصہ دراز تک دور سے جنت کے نظارے کرتا رہے گا۔ آخر ایک روز اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے گا اور وہ عرض کرے گا : خداوندا! مجھے درِ جنت کے قریب کردے یہ خوبصورت منظر مجھے بہت بھلا لگ رہا ہے، میں اسے قریب سے دیکھنا چاہتا ہوں، حکم ہوگا : اے بندے! تو نے تو کہا تھا مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا؟ بندہ کہے گا : اے مالک! یہ مطالبہ مان لے اور کچھ نہیں مانگوں گا، پکا وعدہ کرتا ہوں کہ اب قول سے نہیں پھروں گا اور وعدے پر قائم رہوں گا۔ چنانچہ اس کی فرمائش اور درخواست پر اسے بہشت بریں کے دروازے کے قریب کردیا جائے گا۔
اب وہ جنت کے اندرونی مناظر سے بھی لطف اندوز ہونے لگ جائے گا۔ جنت کی دل کش آرائش و زیبائش، روحانیت افروز عیش و عشرت، اور بیش بہا نعمتوں کی افزائش و فراوانی، اسے حیرت زدہ کردے گی وہ سوچنے لگ جائے گا کہ انہیں کس طرح حاصل کرے اور آخر ایک روز اس کے وعدوں کے بندھن ڈھیلے پڑجائیں گے اور وہ عرض کرے گا :
رب کریم! تو مجھے اس جنت میں داخل کردے۔ ٹھیک ہے تو مجھے عہد شکن اور وعدہ خلاف کہے گا، لیکن مالک کیا کروں، ان آسائشوں کو دیکھتے ہوئے صبر نہیں ہورہا، دل مچل رہا ہے، رحم کر اور اپنے اس گناہ گار بندے کو رحمت خاص سے نواز۔ اگرچہ وہ اس کے لائق نہیں ہے۔
اس کی عاجزی و سرفگندی، رب کی رحمت پر ناز اور اس کی ادائے دلبری، رب کی رحمت کو منالے گی۔ وہ فرمائے گا، اے میرے بندے! تو باز نہیں آئے گا۔ جنت میں چلا جا اور ایک ہی مرتبہ سب کچھ مانگ لے۔
وہ شاداں و فرحاں جنت میں داخل ہوجائے گا اور ہر طرف نعمتوں کی بہتات دیکھ کر بے حد خوش ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا! یہ سب کچھ اور اسی کی مثل دس گنا اور تیرے لئے ہے۔ بندہ اتنا کچھ پاکر بے ساختہ پکار اٹھے گا : خداوندا! تو نے مجھے اتنا دیا ہے جتنا شاید کسی اور کو نہیں دیا ہوگا۔ (مسلم، 105، 101)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......